یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ ہر نفس کو موت کا سامنا کرنا ہے۔لوگوں کا دنیا میں آنے جانے کا عمل بدستور جاری ہے اور رہے گا، لیکن کبھی کبھار کوئی ایسی شخصیت اس دنیا سے چلی جاتی ہے جس کے جانے سے دنیا کا وہ حصہ جہاں وہ گزر بسر کرتا تھا ،ویران ہو جاتا ہے۔"موت العالِم موت العالَم" یہ ایک مسّلمہ حقیقت ہے کہ عالم کی موت سارے عالَم کی موت ہوتی ہے۔کیونکہ عالِم کے گزر جانے سے دنیا ویران ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے ، جس کوپُرکرتے کرتے دہائیاں گزر جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک معتبر اور برگزیدہ شخصیت حضرت مولانا نور احمد ترالیؒ کی ہے جو10 دسمبر2020کو اپنے مالک ِ حقیقی سے جا ملے۔ان کے گزر جانے سے پوری وادی اور بالخصوص ترال گہرے صدمے اور بڑے نقصان سے دو چار ہواہے۔
مولانا مرحوم کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔وہ بذاتِ خود علاقہ ترال کی ایک پہچان ہیں۔ جب ہم علاقہ ترال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ زرخیز علاقہ کئی اعتبار سے مقبول ہے۔ بات جب علم اور دین کی ، کی جائے تو سرِ زمین ترال کا نام سنتے ہی بغیرِ کسی مبالغہ مولانا نور احمد ترالی کا خاندان ذہن میں آتا ہے۔ِاسی بابرکت خاندان سے تعلق رکھنے والے گزشتہ صدی کے مومنِ کامل مولانا نور احمد ترالی کے والد محترم مولانا نورالدین صاحبؒ نے اس علاقے کو دینی تعلیمات سے منور کیا۔اس مقصد کے حصول میں مولانا نے بیشمار مصائب اور دقتوں کا سامنا کرتے ہوئے اس سرِ زمین کو دینی و علمی نور سے سرفراز کیا جس کی یہاں اشد ضرورت تھی۔وہ زمانہ جہالت کا تھا لیکن مولانا مرحوم کے پختہ عزائم اور جذبۂ غمخواری ٔ ملت نے تمام مشکلات کو آسان بنایا اور یہاں آہستہ آہستہ دین کی ترویج شروع ہوئی ۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یہ علاقہ دین کا گہوارہ بن گیا۔ مولانا نور صاحب ؒولی صفت بزرگ تھے۔
اُن کے گھر میں مولانا نور احمد ترالی صاحب نے جنم لیا۔اس سے بڑھ کر مولانا کے لئے کیا خوش نصیبی ہو سکتی تھی کہ ایک ایسے گھرانے میں جنم لیا جو دین کا مرکز تھا اور والد صاحب چوٹی کے عالموں میں گردانے جاتے تھے۔لہٰذا مولانا نور احمد ترالی صاحب کو علم وحلم ،بزرگی ،ذہانت اور پرہیز گاری ورثہ میں ملی۔وہ اپنے والد صاحب کے نقشِ قدم پر گامزن ہوئے اوراس مشن کو وہاں سے ہی آگے بڑھایا ، جہاں اُس مردِ کامل مولانا نور صاحبؒ نے انتقال کے وقت چھوڑا تھا۔مولانا نور احمد ترالی اپنے والد کی ہی طرح پرہیز گار، باہمت،سادہ طبیعت ،ہمدرد اور پْر خلوص شخصیت کے مالک تھے۔مولانا نور احمد ترالی میں وہ تمام اوصاف بدرجہ اتم موجود تھے جو ایک مومن میں ہونے چاہئیں۔اُن کے چہرے پر ہمیشہ ایک ہلکی سی مسکراہٹ موجود ہوتی تھی جو ان پر خوب جچتی تھی۔
1993 میں جب نور صاحب نے انتقال فرمایا تو اُسی برس مولانا نور احمد ترالی نے باضابطہ طور پر اپنے والد صاحب کے مقدس مشن کی کمان سنبھالی۔اْن کی رہنمائی میں جو دینی ادارہ قائم ہوا تھا ،اس میں کافی وسعت ہوئی۔آج یہاں الحمداللہ! اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اور مولانا نور احمد ترالی صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں سے ایک دار العلوم بنامِ " نورالاسلام "، ایک اورینٹل کالج کے علاوہ مدرسہ تعلیم الاسلام بائز، گرلز اور کِڈس خوش اسلوبی سے کارگزار ہیں۔علاقہ ترال میں شاید ہی کسی دوسرے شخص کو اِس قدر شہرت حاصل ہو جتنی مولانا نور احمد ترالی صاحب کو حاصل ہے۔وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ زندگی کے آخری ایام تک ان اداروں کے مہتمم کی حیثیت سے اپنے فرائض جان فشانی سے انجام دیتے رہے۔ میری نظر میں مولانا کی جو سب سے بڑی خوبی ہے ، وہ یہ ہے کہ انھوں نے دار العلوم نورالاسلام کو تمام امتِ مسلمہ کیلئے ایک مرکز بنایا،جہاں ہر فرقے کے لوگ بغیر ِ کسی خوف و خطر جمع ہوتے ہیں۔مولانا مرحوم نے یہاں ایک ایسی فضا تیار کی تھی کہ یہاں آکر فرقہ واریت کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔اس کا جیتا جاگتا ثبوت اْن کے جنازے میں دیکھنے کو ملا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں ہر فرقے کے لوگ بچشم ِ نم شریک ہوئے۔مولانا ہمیشہ اپنے خطبوں میں سماجی برائیوں کی بات موثر انداز میں کرتے تھے۔ان کے منہ سے تقریباً کبھی کوئی ایسی بات نہیں نکلتی تھی جو کسی بھی فرقے کی دل آزادی کرتی ، بلکہ وہ ہمیشہ امت کو متحد کرنے کی بے لوث کوشش کرتے تھے۔آپ کے خطبوں میں توحید کا بول بالا ہوتا تھا۔آپ کے بات کرنے کا لہجہ نہایت ہی نرم تھا۔وہ سیدھے سادھے الفاظ میں لوگوں کو دین سمجھاتے تھے۔میں نے اکثر بچشم ِ نم بہت سارے لوگوں کو ان کا خطبہ سنتے ہوئے پایا۔اُن کی باتوں میں ایک لطیف قسم کا سحر تھا ، جو سیدھے دل کو چھو لیتا تھا۔ حضرت شیخ العالمؒ کے اشعار کا اکثر حوالہ دے کر عام لوگوں تک موثر انداز میں دین کی رسائی یقینی بناتے تھے۔
مولانا جہاں دین کی بات سیدھے طریقے سے لوگوں تک پہنچاتے تھے ، وہیں وہ سیاسی اور سماجی حالات پر بھی اپنی بے باک رائے رکھتے تھے۔ان کو جو بات حق کی معلوم ہوتی تھی، سیدھے لوگوں کے سامنے رکھ دیتے تھے۔ان کی باتوں کا اثر لوگوں پر اس قدر ہوتا تھا کہ جب کبھی کبھار دعوت پر کسی دوسری مسجد میں خطبہ جمعہ پیش کرتے تھے تو دور دور جگہوں سے لوگوں کی کثیر تعداد اسی مسجد میں اکٹھا ہوتی تھی اوردین کی میٹھی میٹھی باتیں سن کر سرفراز ہوتے تھے۔حالانکہ مولانا ڈنکے کی چوٹ پر لوگوں کی کوتاہیاں بھی ان کے سامنے بیان کر دیتے تھے ، تاکہ ان کی اصلاح ہو سکے۔وہ اکثر و بیشتر اپنے آپ کا محاسبہ کرنے کی صلاح دیتے تھے اور اس دوران اُن کی آنکھیں اشک ریز ہوجاتی تھیں۔
مولانا کی قدر و قیمت نہ صرف ترال بلکہ وادی کے اطراف واکناف میں دیکھی جا سکتی ہے۔وہ وادیٔ کشمیر کی ایک معتبر دینی آواز تھی جو اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہوئی ؎
کبھی اس شمع ترالی کو نہ بھولینگے یہ اہل دل
سخن جسکا قلم جس کا رواں تھا باہمہ مشکل
مولانا نور احمد ترالی صاحب کے انتقالِ پْر ملال سے یہاں ایک خلا پیدا ہو گیا جو پْر کرنا کافی دشوار ہے۔ علاقہ ترال میں مولانا نور احمد ترالی صاحب کا متبادل ملنا فی الحال بہت مشکل ہے۔ان کے انتقال پر وادیٔ کشمیر کے مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں نے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اللہ تعالی سے دست دعا ہیں کہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کا مشن بھی کامیابی سے آگے بڑھے۔ آمین
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
رابطہ۔ستورہ ترال ،کشمیر
موبائل نمبر۔ 9797013883