دل تو کیا چیز ہے ہم روح میں اترے ہوتے
تم نے چاہا ہی نہیں چا ہنے والوں کی طرح
دوستو جمعہ رات گئے یہ شعر بے ساختہ اُس وقت میری زبا ن سے نکلا جب محترم خورشید کاظمی کی زبا نی یہ خبر سنی کہ عرش صہبا ئی نہ رہے۔ہائے افسوس! یہ سال جاتے جاتے کتنی علمی اور ادبی شخصیات سے ہمیں محروم کر گیا۔دسمبر ۲۵ کی تا ریخ جہاں ایک طرف شادمانی اور کامرانی کے لئے بطور یا دگار ہے وہیں دوسری طرف ادبی دنیا میں یہ تاریخ اب حزن و ملال کے طور پر بھی یا د کی جا تی رہے گی کیوں کہ ۲۵ دسمبر صبح ساڑھے گیا رہ بجے اردو کے ممتا ز نقاد، شاعر ،فکشن نگار ،رجحان ساز ادبی رسالہ ’’شب خون‘‘ کے با نی مدیر اور اُردو ادب میں جدیدیت کے امام پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کی وفا ت کی خبر موصول ہوئی۔ ابھی یہ غم کیا کم تھا کہ را ت ساڑھے نو بجے عرش صہبا ئی کے انتقال کی خبر ملی۔ اس طرح جموں وکشمیر میں اُردو شعر و ادب کا ایک ستون گر گیا۔
عرش صہبا ئی کا اصل نام ہنس راج ابرول تھا لیکن ادبی دُنیا میں عرشؔصہبائی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدا ئش ۳دسمبر ۱۹۳۰ء کو ضلع جموں کی تحصیل اکھنور کے ایک دور درازگائوںسیری پلائی ـ’’باختن‘‘میں اپنے نانہال میں ہوئی ۔عرشؔ صہبائی نے اپنی جائے پیدائش کا ذکرایک غزل کے مقطع میں یوں کیا ہے ۔
یہ باختن ہے یہاں عرشؔکا جنم تھا ہوا
زمین کا ٹکڑا جو بنجر دکھا ئی دیتا ہے
عرشؔصہبائی کے آباواجداد صوبہ جموںکے ضلع اودھمپور کے ایک چھوٹے سے گائوں جِب کے باسی تھے۔انکے کے دادا شری نارائن داس ابرول شریف النفس اور محنتی انسان تھے ۔ان کا پیشہ زمینداری تھااور آخری وقت تک اپنے گائوں جِب میں کھیتی باڑی کا کام کرتے رہے۔شری نارائن داس ابرول کے تین بیٹے تھے۔ سب سے بڑے بیٹے کا نام پربھ دیال ابرول تھا، اس سے چھوٹے کا نام مادھورام ابرول (عرشؔصہبائی کے والد )اور سب سے چھوٹے بیٹے کا نام موہن لال ابرول تھا۔والد مادھو رام ابرول فوج میں بطور ِحوالدار اسکول ماسٹر تھے ۔وہ اپنے آبائی ضلع اودھمپور کے گائوں جِب سے جموں منتقل ہوگئے ۔جموں میں محلّہ کچی چھاونی میں ایک مکان خرید لیا اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔والدہ محترمہ کا نام رام رکھّی تھا۔ عرش ابھی بائیس دن ہی کے تھے کہ ان کے سر سے ماں کا سایہ اُٹھ گیا اور وہ والدہ محترمہ کی محبت وشفقت سے محروم ہوگئے۔والدہ کے انتقال کے بعد اُن کی پرورش نانی پاروتی ،جو ایک نیک دل اور سلیقہ شعار خاتون تھیں، نے کی۔ انھوں نے عرشؔکو کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ عرشؔصہبائی کا نام ہنس راج ابرول ان کی نانی صاحبہ نے ہی رکھاتھا۔تین بہن بھائی تھے ۔ دونوں بہن بھائی ان سے بڑے تھے ۔ بہن صرف دو برس ہی کی تھی کہ وہ اس دنیاسے چل بسی۔ان کے بڑے بھائی ودِیا پرکاش ابرول سرکاری ملازم تھے جنکا تقریباًپچاس برس کی عمر میںان کا انتقال ہوگیا۔ عرشؔصہبائی اپنے بڑے بھائی کے انتقال کے بعد سن۱۹۷۴ء میں اپنے جدی رہائشی مکان کچی چھاونی سے ریشم گھر کالونی جموں منتقل ہوگئے اور تا دم ِ مرگ اسی جگہ مکمل سکونت اختیار کئے ہوئے تھے ۔عرشؔصہبائی کی زندگی کا طویل عرصہ سر زمینِ جموں میں گزرا ہے لیکن ان کی طبعیت کو جموں کی سر زمین کبھی راس نہیں آئی اور نہ ہی وہاں کے ادبی حلقوں نے انہیں وہ مقام و مرتبہ دیا جس کے وہ حق دار تھے، جسکی وجہ سے اکثر وہ ادبی حلقوں سے نالا ں رہتے تھے ۔غزل کے ایک مقطع میں انھوں نے سرِزمین جموں کے متعلق اپنی نا پسندگی کا اظہار اس طرح کیا ہے:۔
اے عرشؔ طبیعت کو دونوں ہی نہ راس آئے
جموں کی یہ مٹی بھی جموں کا یہ پانی بھی
عرشؔصہبائی کے بچپن کے سات سال اپنے نانہال سیری پلائی (باختن) میں گزرے،جب وہ سات برس کے ہوئے تو ان کے والد انھیںتعلیم کی غرض سے اپنے پاس جموں لے آئے۔ان کے نانہال میں کوسوں دور تک کوئی اسکول نہیں تھا، جہاں وہ اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرتے۔ اس لیے مجبور اًان کے والد کو انھیں جموں لانا پڑا۔ والد ملازمت سے سبکدوش ہوچکے تھے اور وہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے گھر میں ہی رہتے تھے ۔
عرشؔصہبائی کے والد نے ۱۹۳۷ء میں عرشؔصہبائی کو اپنے گھر کے پاس کچی چھاونی پرائمری اسکول میں داخل کروایا ۔۱۹۳۸ء میں یہ اسکول ان کے گھر سے تھوڑی دور دھونتھلی بازار میں منتقل ہوگیا اور اس کا نام دھونتھلی پرائمری اسکول رکھا گیا ۔ ۱۹۴۲ء میں عرشؔصہبائی نے دھونتھلی پرائمری اسکول سے پانچویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد رنبیر ہائی اسکول، جو فی الوقت ہائر اسکینڈری اسکول ہے، میں داخلہ لیا۔چھٹی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک کی تعلیم اِسی اسکول سے حاصل کی۔ وہ ایک صحت مند اور ذہین طالبِ علم تھے اور اپنی جماعت کے مانیٹر ہواکرتے تھے ۔۱۹۴۸ء میں رنبیر ہائی اسکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد عرشؔصہبائی نے گاندھی میموریل کالج جموں، جس کا سابقہ نام ’’پرنس آف ویلز‘‘ کالج تھا، میں گیارھویں جماعت میں داخلہ لیا اور ۱۹۴۹ء میں گیارھویں جماعت کا امتحان پاس کیا اور ۰ ۱۹۵ء میں ایف ۔اے کا امتحان دینے سے قبل ہی کالج کو خیر آباد کہہ دیا۔
تعلیمی سفر سے کنارہ کشی کے با وجود شاعری کی طرف ان کا رحجان بڑھتا چلا گیااور آج ادبی دنیا میں عرشؔصہبائی کو جو مقام حاصل ہے اس کا سبب صرف اور صرف ان کی شاعری ہے۔
۱۹۵۱ء میں ریجنل ریسرچ لیبارٹری میں بطورِ کلرک اُنکا تقرر ہوا۔ مگر یہ ملازمت انہیں پسند نہیں آئی کیوں کہ یہ ایک سائنسی تجربہ گاہ تھی ، جہاں مختلف اقسام کے جانوروں کی چیر پھاڑ کر کے تجربات کئے جاتے تھے ۔عرشؔصہبائی کی حسّاس طبیعت کو جانوروں کی چیر پھاڑ کے تجربات بالکل پسند نہیںآئے اور وہ ذہنی طور پر اس ملازمت سے پریشان رہنے لگے ۔بالآخر تین سال بعد ۱۹۵۴ء میں انھوں نے تنگ آکر اس ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ۔اس ملازمت سے مستفعی ہو نے کے بعد عرشؔصہبائی مقامی مشاعروں کے علاوہ غیر ریاستی مشاعروں میں بھی شرکت کرنے لگے۔ایک بار ریڈیو کشمیر جموں نے ایک کل ہند مشاعرہ کا اہتمام کیا جس میں لسان الاّاعجاز پنڈت میلا رام وفاؔجیسی عظیم ہستی کو بھی دعوت دی گئی تھی ۔ عرشؔصہبائی نے اس مشاعرہ میں اپنا کلام پیش کرکے کافی دادحاصل کی ۔ریڈیو کشمیر جموں کے اسسٹنٹ ڈائر یکٹر شری این ۔اقبال سنگھ ان کا کلام سُن کر بہت متاثر ہوئے اور اُنھوں نے عرشؔصہبائی کو ریڈیو میں ملازمت کرنے کا مشورہ دیا اور اس کے لئے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کی۔ عرشؔصہبائی نے ان کی اس پیش کش کو قبول کر کے ریڈیو میں بطورِسٹاف آرٹسٹ ملازمت اختیار کر لی ۔یہ ملازمت عارضی (کنٹریکول)تھی اور ہر تین ماہ بعد اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جاتی تھی ۔ بعد ازاں انہیں اسٹاف آرٹسٹ سے منتقل کر کے اکائونٹس سیکشن میں تعینات کیا گیا ۔اکائونٹس سیکشن کی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو کے اردو پروگرام میں بھی شرکت کرتے رہے۔ریڈیو کے پروگرام میںشرکت کرنے والے وہ ملازم جن کا تعلق پروگرام سیکشن سے نہیں ہوتا تھا انھیں ڈائریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی کی اجازت سے معاوضہ دیا جاتا تھا ۔اُن کی اس عارضی ملازمت کو ابھی ایک سال ہی ہوا تھا کہ ریڈیو میں کچھ مستقل اسامیاں نکل آئیں اور انھیں۴ اپریل ۱۹۵۵ء کو بطورِ کلرک ملازمت مل گئی ۔انھیں اسی اکونٹس سیکشن سے وابستہ کیا گیا جہاں وہ پہلے سے کام کرتے آرہے تھے ۔
۱۹۵۵ء سے ۱۹۶۳ ء تک وہ ریڈیو کشمیر جموں میں تعینات رہے۔۱۹۶۶ء میں ان کا تبادلہ جودھپور ہوا اور پھر انھیں جودھپور سے جالندھر بھیجا گیا۔ایک سال بعد ان کا تبادلہ جالندھر سے واپس جموں ہوگیا ۔ ۱۹۸۴ء میں ان کی ترقی ہوئی اور انھیں ایڈمنسٹریٹو آفیسر آل انڈیا ریڈیو کے طور پر سِلی گوڑی آسام میں تعینات کیا گیا اور پھر سِلی گوڑی آسام سے انھیں آل انڈیا ریڈیو روہتک بہار بھیجاگیا ۔روہتک سے ان کا تبادلہ پھر جموں میں ہوا اور کچھ عرصہ بعد انھیں جموں سے دوبارہ روہتک تعینات کیا گیا ۔۱۹۸۷ء میں ان تبادلہ ریڈیو کشمیر سر ینگر میں ہوا اور ٹھیک ایک سال بعد ان کو ریڈیو دور درشن سرینگر سے وابستہ کیا گیا ۔سرینگر میں عرشؔصہبائی کو وہ ادبی ماحول ملا، جس کی انھیں بہت دیر سے تمنّا تھی۔ چونکہ انھیں دوسرے مقامات پر وہ ادبی ماحول نصیب نہ ہو سکا جن کے وہ متلاشی تھے۔ اس لئے سرینگر میں ان کی تعیناتی ان کی طبیعت کو بہت راس آئی کیوں کہ سرینگر میں ادبی سر گرمیاں پوری آب وتاب سے راہ ِرواں تھیں ۔عرشؔصہبائی نے ان ادبی محفلوں میں شرکت کرنا شروع کردیا اور بہت جلد انھوں نے سرینگر کے ادبی حلقوں میں اپنی شہرت کا سکّہ جمالیا ۔عرشؔصہبائی جس محنت ،لگن اور دلجوئی سے اردو ادب کی خدمت کرتے رہے اسی محنت اور ایمانداری سے وہ اپنی ملازمت کے کام بھی سر انجام دیتے رہے ۔ریڈیو کی دُنیا میں ۲۳ سال ملازمت کرنے کے بعد ۵۸ سال کی عمر میں سن ۱۹۸۸ء کووہ اس ملازمت سے سبکدوش ہوگئے ۔ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد عرشؔصہبائی مستِقل طور پر جموں آگئے اور یہاں آکر مختلف روز ناموں سے وابستہ ہوگئے جن میں’’قومی آواز‘‘ ’’عمارت‘ ’’شاردہ‘’تسکین‘‘اور ’’سنگھ دھن‘‘کافی اہم ہیں۔ تقریباًآٹھ سال صحافتی خدمات انجام دینے کے بعد انھوں نے اس دنیا کو بھی خیر آباد کہہ کر شعروادب کی خدمت کرتے ہوئے ۲۵ دسمبر ۲۰۲۰ کو داعی اجل کو لبیک کہا۔
عرشؔصہبائی کی چار اولادیں ہیں، جن میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ سب سے بڑی بیٹی گیتاسہانی ،دوسری بیٹی ریکھا گندوترہ ، بیٹا ارون کمار ابرول ، چھوٹی بیٹی امیتاسوری ہے ۔صہبائی کی چاروں اولادیں شادی شدہ ہیں ۔
اُن کے خاندان میں ان سے قبل نہ ہی تو کوئی شاعرتھااور نہ ہی کسی کو شعر وشاعری سے دلچسپی تھی۔ان کے باپ دادا سلیقہ شعار ،محنتی ،دانا اور خواندہ بزرگ ضرور تھے لیکن شعر وشاعری کی دنیا سے وہ کوسوں دور تھے ۔چونکہ خاندانی ماحول ادبی نہیں تھا اس لیے ان کو شعروشاعری ورثہ میں نہیں ملی بلکہ اپنی محنت ،دلچسپی اور خدا داد صلاحیت نے انھیں شاعر بنادیا۔عرشؔصہبائی کو عہد ِطفلی سے ہی علم وادب سے گہرا لگاؤ تھا۔ان کے اندر کی شعری صلاحیت اُس وقت اُبھر کر سامنے آئی جب وہ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے ۔اسکول میں ان کے اردو معلّم مولوی محمد عبداللہ ایک ادب شناس اور شعر وشاعری سے دلچسپی رکھنے والے اُستاد تھے۔ وہ اسکول میں شعر وشاعری سے متعلق چھوٹے چھوٹے پروگرام کرواتے رہتے تھے اور ہر طالب علم کو اپنی صلاحیت برؤے کار لانے کا پورا موقع دیتے تھے۔انھوں نے جب جماعت میں بیت بازی کا سلسلہ شروع کیا تو عرشؔصہبائی اس میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینے لگے اور چھوٹے چھوٹے شعر کہنا شروع کردیئے۔بیت بازی کے اس سلسلے نے ان کے اندرشاعری کی اس قدر دلچسپی پیدا کر دی کہ وہ شہر میں ہونے والے ہر مشاعرے میں بطورِسامع شرکت کرنے لگے۔مشاعروں میں ان کی شرکت نے انھیں پوری طرح شعر گوئی کی طرف متوجہ کردیا ۔آٹھویں سے دسویں جماعت تک کے عرصہ میں عرشؔصہبائی نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جو شعر کہے تھے ان میں سے ایک بھی شعر ان کے پاس موجود نہیں جو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ عرشؔصہبائی کی شاعری کا باقاعدہ دور ۱۹۵۰ء سے شروع ہوتا ہے اس دور کی شاعری ان کے پاس محفوظ رہی، جسے بعد میں انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعے ’’شکستِ جام‘‘میں شامل کیا۔
اُس زمانے میں عرشؔ نے مشاعروں میں شرکت کر کے اپنا کلام سُنانا بھی شروع کردیا تھا۔ اردو ادب کے مشہور شاعر اور افسانہ نگار ٹھاکر پونچھی نے ایک ملاقات کے دوران عرشؔصہبائی کو یہ صلاح دی کہ وہ اپنا کلام ملک کے معیاری رسائل کو ارِسال کیا کریں ۔ان کی صلاح پر عرشؔصہبائی نے اپنا کلام اردو کے مقبول رسالہ ’’بیسویں صدی‘‘کو ارِسال کرنا شروع کردیا ۔۱۹۵۴ء میں عرشؔصہبائی کی جو پہلی غزل اس رسالہ کی زینت بنی اس غزل کے اشعار ملاحظ ہوں:۔
ہمارے ضبط کی آخر فغاں تک بات آپہنچی
ذراسی بات سے بڑھ کر کہاں تک بات آپہنچی
کہیں باتوں ہی باتوں میں نہ پھر تکرار ہوجائے
وہیں تک بات رہنے دو جہاں تک بات آپہنچی
اس رسالہ میں عرشؔصہبائی کا کلام اٹھارہ برس تک مسلسل شائع ہوتا رہا۔اس رسالہ کے علاوہ بھی ریاستی و ملکی سطح پر شائع ہونے والے دیگر رسائل وجرائد میں بھی ان کا کلام شائع ہوتا اور یہ سلسلہ آخری دم تک جاری رہا۔شعری دنیا میں عرشؔصہبائی کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ انھیں بیرونِ ریاست کے مشاعروں میں بھی مدعو کیا جانے لگا ۔انھوں نے بیرونِ ریاست سب سے پہلا مشاعرہ ۱۹۵۱ء میں پٹھان کوٹ (پنجاب) میں پڑھا۔اس کے بعد ملکی سطح پر ہونے والے بڑے مشاعروں میں انھیں بڑی عزت واحترام سے مدعو کیا جانے لگا اور وہ وقت نکال کر ہر مشاعرے میں شرکت کر تے رہے۔عرشؔصہبائی نے جب باقاعدہ طور پر شاعری شروع کی تھی تو انھوں نے جوشؔ ملسیانی کی شاگردی اختیار کی اور اپنا کلام اصلاح کے لیے ان کی خدمت میں ارسال کرنے لگے۔جوشؔملسیانی ان کے کلام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور بہت تعریف کرتے جس سے عرشؔصہبائی کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی اور وہ جم کر لکھتے رہے۔عرشؔصہبائی کا پہلا شعری مجموعہ ’’شکستِ جام‘‘۱۹۵۸ء میں جب شائع ہوا تو جوشؔملسیانی نے ان کے کلام کی سحر بیانی اور پختگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کے اشعار کی ستائش ان الفاظ میں کی:۔
’’شگفتہ زمین تلاش کرنے اور مشکل زمینوں میں بھی اچھے اشعار نکالنے میںعرشؔ کی کوشش قابلِ ستائش ہے
عرشؔصہبائی نے اردو شاعری کی متعدد اصنافِ سخن غزل ،نظم،قطعہ اور دوہا وغیرہ میں طبع آزمائی کر کے اردو شاعری کے میدان میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔انھوں نے اردو ادب کی جو خدمات انجام دیں ہیں وہ ناقابل ِفراموش ہیں۔ وہ عمر بھر بڑی محنت ،ایمانداری اور دلجوئی سے اردو ادب کی خدمت کرنے میں مصروف ہے۔اگر چہ عرشؔصہبائی نے اردو شاعری کی مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کے شعری مجموعوں کی زیادہ تعدادصنفِ غزل پر مشتمل ہے۔اُس کی جو تخلیقات منظرِ عام پر آکر دادِتحسین حاصل کر چُکی ہیں ان کی فہرست درج ذیل ہے:۔
(۱) شکستِ جام(شعری مجموعہ)۱۹۵۸ء،(۲) شگفتِ گل ۱۹۶۱ء،(۳) انجم کدہ ۱۹۶۳ء،(۴) یہ جانے پہچانے لوگ (تذکرہ)۱۹۶۶ء،(۵) صلیب(شعری مجموعہ) ۱۹۷۱ء،(۶)یہ جھونپڑے یہ لوگ ۱۹۷۶ء،(۷)اسلوب ۱۹۹۱ء، (۸) ریزہ ریزہ وجود ۱۹۹۵ء،(۹)اساس۲۰۰۱ء (۱۰)نایاب ۲۰۰۴ء،(۱۱)توازن۲۰۰۵ء، (۱۲)دسترس۲۰۰۷ء،(۱۳)چشمِ نیم باز۲۰۰۷ء،(۱۴)عکسِ جمال۲۰۰۷ء،(۱۵)خدو خال۲۰۰۸ء،(۱۶)خوشبو تیرے بدن کی۲۰۰۹ء،(۱۷)تجھ بن چین کہاں ۲۰۰۹ء، (۱۸)سائے تیری یادوں کے ۲۰۱۰ء،(۱۹)جواز ۲۰۱۱ء، (۲۰)شبنم تیری یادوں کی۲۰۱۳ء ۔مذکورہ بالا تخلیقات کے علاوہ عرشؔصہبائی نے کئی نو مشق اور کہنہ مشق شعراء کے شعری مجموعوں کے مسودوںپر نظر ثانی کرنے کے بعد ان کے دیباچے بھی لکھے ہیں اور کئی تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی تحریر کئے ہیں ۔انھوں نے اپنی زندگی کے دلچسپ حقیقی واقعات کو لطیفوں کی شکل میںتحریر کیا ہوا ہے۔ان کے مذکورہ بالا مجموعوں میں سے ’’شگفتِ گل‘‘،’’اسلوب‘‘اور ’’ریزہ ریزہ وجود‘‘کو ریاستی کلچرل اکیڈمی نے انعامات سے بھی نوازا ہوا ہے ۔عرشؔصہبائی کے ادبی کارناموں اور ان کی شعری صلاحیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ’’نو رنگ ادبی ادارہ‘‘ لدھیانہ(پنجاب) نے انھیں ۲۰۰۵ء میں ’’آبرؤے سخن‘‘ کے خطاب سے سر فراز کیا۔
عرشؔصہبائی کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا ۔ریاست جموں وکشمیر ہی میں نہیں بیرونِ ریاست میں بھی ان کے بے شمار دوست تھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ہر ایک انسان کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آتے تھے۔بذلہ سنجی ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو تھا،یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ان سے ایک بار ملتا ہے وہ دوبارہ ان سے ملنے کے لیے بیتاب رہتا تھا۔جب کوئی اجنبی شخص ان سے ملتا تھا تو ایک چھوٹی سی ملاقات کے بعد اُسے یہ محسوس ہوتا کہ اس شخص سے تو میری برسوں سے شناسائی ہے۔اس بات کا احساس خود عرشؔصہبائی کو بھی تھا۔
سچائی اور حق گوئی عرشؔصہبائی کی شخصیت کے نمایاں پہلو رہے ہیں۔ وہ کبھی سچ کہنے سے کتراتے نہیں تھے چاہے کوئی ناراض ہو یا خوش۔جہاں حق گوئی کی بات ہوتی وہاں عرشؔصہبائی ننگی تلوار کی طرح سامنے آتے تھے۔اس معاملے میں کبھی کبھی ان کے اپنے بھی بیگانے ہوگئے اور کبھی کبھی ان کے دوست بھی ناراض ہوجاتے۔ اپنی سچائی اور حق گوئی پر انھیں بہت ناز تھا۔ اس بات کا ذِکر انھوں نے اپنے اشعار میں جابجا کیا ہے:۔
عرشؔبے باکی وحق گوئی ہے مذہب اپنا
ہم نہ بدلیں گے کبھی وقت کی چالوں کی طرح
عرشؔصہبائی کی شخصیت کی ایک اہم اور خاص خوبی انسانیت کی ہے۔وہ ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں اور اپنی ذات کو وہ کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کا سب سے بڑا مذہب انسانیت تھا۔عرشؔصہبائی کی شخصیت کے ان پہلوؤں کو مدِنظر رکھتے ہوئے پروفیسرشاذؔ شرقی نے لکھا ہے
’’عرشؔصہبائی شرافت ،وضع داری،خوش اخلاقی، انکساری کا مجسمّہ ہیں۔ان کی دوستی ،فراخ دِلی،نیک اورسادہ طبیعت اور شریفانہ اطوار نے انھیں اردو شعری دنیا میں ایک محترم شخصیت کا مالک بنا دیا ہے۔عرشؔصہبائی اپنے ہم عصر ادباء وشعراء میں ہر کسی سے محبت کرتے ہیںبلاامتیاز مذہب و ملّت ہر ایک کے لیے ان کے دل میں خلوص ومروّت ہے۔عرشؔصہبائی جتنے اعلیٰ شاعر ہیں اتنے ہی اعلیٰ انسان بھی ہیں۔‘‘
عرشؔصہبائی ایک حسّاس طبعیت کے مالک تھے اور ہر ایک کا درد اُن کو اپنا درد لگتا تھا۔خودداری ان کی شخصیت میں بدرجہ اُتم موجود ہے۔طبیعت میں جو حوصلہ مندی ،جذبۂ حب الوطنی،فطرت شناسی اور توکل پسندی تھی وہ قابلِ رشک ہے۔اُن کی شخصیت کو سنوارنے میں جہاں ایک طرف ان کے ماحول کو دخل رہا ہے وہیں دوسری طرف نرمی، انکساری،حق گوئی اور بااخلاقی کا بڑا ہاتھ تھا ۔
عرش ؔصہبائی کام کو عبادت سمجھتے تھے اور ہروقت لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے تھے۔ اکثر مشاعروں میں ایک سامع کی حیثیت سے شرکت کرتے رہنا انھیں طالبَِ علمی کے زمانے سے ہی شوق تھا اور اسی طالب ِعلمی کے زمانے سے ہی ان کا ادبی سفر شروع ہوا لیکن ادبی دنیا میں ایک شاعر کی حیثیت سے یہ اُس وقت مقبول ہوئے جب ۱۹۵۸ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’شکستِ جام‘‘شائع ہو کر منظرِعام پر آیا ۔اس کے بعد ان کا سفر بڑی تیز روی سے آگے بڑھتا گیا یکے بعد دیگر کئی شعری مجموعے شائع ہوکروا کے اردو دنیا میں انھوں نے اپنی ایک الگ پہچان بنالی تھی۔آج اُن کی جدائی سے جموں وکشمیر کی ادبی فضاء نہ صرف سوگوار ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس جدائی سے پیدا ہونے والا خلاء شائد ہی کبھی پُر ہو۔
���
پونچھ،موبائل نمبر؛ 9682698032