کائنات کی ہر شئے مخلوق ہونے کے ناطے سائنسی تحقیق کی مستحق ہے۔تحقیق ایک محقق کو مخلوق کے جملہ خصائص جاننے کے ساتھ آخرکار وجودِ خالق کی تصدیق تک لے جاتی ہے ۔سائنسی تحقیق چونکہ مادی مخلوق کی محتاج ہے( یعنی کائنات بحیثیت مادی مخلوق کے انسان کو تحقیق کے لئے وافر موضوعات فراہم کرتی ہے) اس لئے انسان کا خالق کے وجود کو اپنی مادی تحقیق کی بنیاد پر ثابت یا رد کرنا نرا احمقانہ فعل ہے کیونکہ انسان تحقیق کے ذریعے اللہ کی ذات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔اللہ کی ذات کسی بھی تحقیق کی محتاج نہیں کیونکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے وجود کی گواہی پیش کر رہا ہے۔سائنسی تحقیق خود منشاء ِ الٰہی کی محتاج ہے۔انسان دراصل تحقیق کے ذریعے کائنات کی گواہی کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے دریافت کرکے جہاں اپنے لئے بے شمار فوائد سمیٹتا ہے وہیں سب سے بڑا فائدہ خدا کی معرفت کی صورت میں حاصل کرتا ہے بشرطیکہ نیت ِ خالص ہو۔انسان کا خالق کی ذات کے متعلق بے لگام سوالات کا بھونڈا پن چند سادہ سوالات کے پیش کرنے سے بھی عیاں ہو سکتا ہے مثلاً:کیا کوئی کمپیوٹر انسان پر تحقیق کر سکتا ہے؟کیا کوئی مشین الٹا اپنے موجد پر تحقیق کر سکتی ہے؟کیا دوربین انسان کو دیکھ سکتی ہے؟کیا اس سیل فون کی حیثیت یہ ہے کہ آپ پر تحقیق کرکے نتائج اخذ کرسکے؟ بلاشبہ ان سوالات کا جواب ہر ذی شعور نفس نفی میں دے گا کیونکہ مذکورہ تمام چیزوں کا خالق انسان ہے۔ انسان بحیثیت ِ مخلوق کے اپنے خالق کو مثل ِ کائنات اپنی مادی تحقیق کا موضوع بنائے ایک ،ناقابل ِ فہم، ناممکن بات اور سعی لاحاصل ہے۔
دورجدید میں سائنسی تحقیق کے سحرانگیز نتائج سے متاثر ہوکر انسان نے خدا کی ذات پر جدید طرز پہ چہ میگوئیاں شروع کیں جن کی بنیاد پر کوئی حقیقی محرکہ ہونے کے بدلے صرف زعم ِ باطل موجود تھا۔جو تحقیق بیچاری خود مخلوقات کے ایک ایک جز کی نسبت سے اپنا معنوی وجود قائم رکھے ہوئی ہے، اس سے خالق کی ذات کا احاطہ کرنے کا ارادہ بھی نہایت احمقانہ فعل محسوس ہوتا ہے۔مخلوق خود وجودِ خالق کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ مخلوق کا ایک ایک پہلو خدا کی قدرت و عظمت اور خدائی خلق و صنعت کا مظہر ہے اور اب انسان جب کہ خود خالق کے وجود کا عظیم ثبوت ہونے کے علی الرغم خالق کے وجود کو اٹل سائنسی تحقیق کے ذریعے ثابت کرنا چاہے تو اس رویہ کو پھر کس نام سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔یہی ناکہ انسان حد سے تجاوز کرنے والا، ناشکرا اور اترانے والا ہے!
مخلوق کی متنوع شکلیں و صورتیں انسانی علم و تحقیق کے حقیقی موضوعات ہیں جس پر انسان اپنے علم کی بناء رکھتا ہے۔طبیعی علوم ہوں یا مابعد الطبیعیاتی علوم دونوں کا وجود مخلوق کا مرہونِ منت ہے کیونکہ انسان کو جن جن اشیاء کا بھی علم عنایت کیا گیا ہے وہ مادی ہوں یا روحانی لیکن ان کی حیثیت ہے تو مخلوق ہی کی۔اسی لئے انسانی علم مخلوق کے وجود کا محتاج ہونے کی نسبت سے خالق کی ذات پر کس اصول کی رو سے کلام کرنے کا حق رکھتا ہے۔خالق نے انسان کے وجود میں اپنے وجود کا اقرار بطور فطرت ودیعت کیا ہے تاکہ انسان کو خالق کی تلاش کے لئے بڑے بڑے آلات کی احتیاج نہ ہو بلکہ الہامی پیغام کی آمد پر فطری یکسانیت کو محسوس کرتے ہی اپنے حقیقی خدا کی معرفت حاصل کرے۔ازروئے قرآن:"جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف و غم نہیں "۔اسی فطری احساس کا مظہر تو دنیا کے ہر قسم کے لوگوں میں بصورت مذہب پایا جاتا ہے۔امیزون (Amazon)میں بسنے والے قبائلی ہوں یا مغرب کی بازارِ خواہشات میں بسنے والے نہایت دنیا پرست لوگ ،ضرور مذہب کا کوئی نہ کوئی تصور رکھتے ہیں۔قطع نظر اس سے کہ مذہب کی وہ کون سی شکل اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن یہ یہ ضرور ہے کہ اس مذہب کی آڑ میں کسی نہ کسی خدا کی پرستش کرتے ہیں۔
خلق کرنا خالق کا خاصہ اور تحقق کرنا مخلوق کا وطیرہ ہے۔صانع و خالقِ کائنات نے تحقیق کو انسان کی فطری صفت کے طور پر انسان میں ودیعت کیا ہے، اس لئے انسان کائنات میں غائب اور ظاہر ہر چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں انسان اپنے ذہن کی مختلف حالتوں پر بھی غور کرتا ہے۔انسانی دماغ تصورات ،رجحانات اور تخیلات تک کا محاسبہ کرتاہے اور اسطرح سے انسانی ذہن کسی بھی نوع کی جامدیت کو قبول نہیں کرتا۔کیونکہ انسانی ذہن کے وجود اور فطرت میں صرف سوچنے کی استعداد ہے اور یہ سوچنے کا عمل چونکہ مسلسل متحرک ہے، اس لئے انسانی دماغ یک لمحہ بھی خاموش نہیں رہتا۔اسی سوچنے کی جبلت کے تحت انسان بعض اوقات خدا کی ذات کے سلسلے میں بھی سوچنے پہ مجبور ہوتا ہے۔خدا کیا ہے، کون ہے، کیسا ہے ؟اسے کس نے تخلیق کیا؟ وغیرہ ایسے ہی سوالات انسان کو اکثر پریشان کرتے ہیں۔لیکن اس موضوع پر انسان کی عقل سوائے حیرت و استعجاب کے کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتی۔خالق کا احاطہ کرنا انسان کے کسی بھی شعبہ علم کی دسترس میں نہیں ہے۔ابھی تو انسان کائنات کی حیرت انگیز وسعتوں میں ہی کھویا ہوا ہے اور اسی انہماک میں رہتے ہوئے کائنات کی موت بھی واقع ہوجائگی جس کے بعد اس کا زعم وخم اور کبر وفخر سب چشم زدن فنا ہو کے وہ خالق کی قدرت اور عظمت کا اعتراف کرنے لگے گا لیکن اس وقت انسان کے پاس سوائے پچھتاوے کے اور کوئی سامان میسر نہ ہوگا۔خدا کی ذات پر سوچنا بھی انسان کے لئے بڑا مشکل ہے چہ جائیکہ وہ سائنسی آلات اور مشینوں کا سہرا لیکر فرعون،نمرود اور ابرہہ کی روش اختیار کرے۔
خدا کی ذات کے متعلق انسان کے سوچنے کی مثال ہوا میں ریت کے ذرات بکھر جانے کی مانند ہے۔خالق کی ذات پر سوچنے سے انسانی ذہن متعلقہ خیال کی جزئیات کو منظم نہیں کر پاتا ہے اور آخرکار بے بس ہوکر کچھ بھی تخلیق کرنے سے قاصر رہتا ہے.وہ سائنسدان جنہوں نے خدا کے وجود کا انکار اس لئے کیا کہ سائنس خدا کے وجود کو ثابت نہیں کر سکتی دوسرے الفاظ میں خدا کے ثم وراء الوارء کا اعلان کر رہے ہیں۔کیونکہ سائنس کی حیثیت ہی کیا ہے کہ وہ تحقیق کے جہاز پر سوار ہو کر خدا کی ذات کو بیان کر سکے۔قرآن مجید نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے : "اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے"۔خدا کے تصور کا مختلف اقوام اور مذاہب میں صفاتی مفہوم کیاہے اور کیسا رہا ہے اس موضوع پہ انسان تحقیق کر سکتا ہے اور کافی مواد جمع کر سکتا ہے۔اسی حوالے سے کیرم آرم اسٹرانگ (Armstrong Karem ) نے خدا کی تاریخ ( God of history A ) کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔جس میں مصنفہ نے خدا کے تصور کا ارتقاء مختلف مذاہب میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔انسان نے خدا کے تصور کو سمجھنے کے لئے منطق و فلسفہ کی راہ اختیار کر کے بظاہر علم کی تاریخ میں ایک باب کا اضافہ کیا تھا لیکن یہ موضوع تاہنوز تشنہ ہے۔کیونکہ عقل کے خالق کی ذات کو عقل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرنا ایک ناممکن اور مضحکہ خیز عمل کے مترادف ہے۔اللہ تعالی نے انسان کو افاق و انفس کی آیات پر غور کرنے کی ذریعے اپنے خالق کے موجود ہونے کا اعتراف کرنے کی تلقین کہ ہے نا کہ براہ راست خود خدا کی ذات پر تحقیق کرنے کا پیغام دیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ بندہ دوسری روش اختیار کرکے خدا کو نہیں پاسکتا ہے۔ عقل کے ذریعے انسان اس کے ایک ہونے،خالق ہونے،مالک ہونے اور قادر ہونے کو سمجھ سکتا ہے۔باقی رہی بات خالق کی ذات پہ تحقیق کرنا وہاں عقل اپنا وجود ہی گم کربیٹھتی ہے۔
دور جدید میں اب سائنس کا استعمال بھی خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے کیا جارہا ہے اور سائنس چونکہ اللہ کی نشانیوں کا عمیق احاطہ کرنے کی حامل ہے، اس لئے وجود باری تعالیٰ کے لئے غیر محسوس طور دلائل جمع کئے جارہے ہیں جو ایک سلیم الفطرت سائنسدان کے لئے بھی ہدایت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔چونکہ سائنس نے انسان کے طرزِ فکر اور طرز حیات کو ہی بدل ڈالا ہے جس کی وجہ سے خلقِ خدا سائنس پر دیگر علوم کے مقابلے میں حد درجہ انحصارکرتی ہے۔اس لئے خدا کے متعلق سائنس کے موقف کو جاننے کی طلب دن بدن افزوں ہو رہی ہے۔سائنس کو عمومی طور حقیقت کی تلاش کہے جانے کی بناء پر خدا کے وجود کو آشکار کرنے کا بہترین ذریعہ کی صورت میں متعارف ہو رہی ہے۔سائنس کے پاس علت العلل کا معاملہ دن بدن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اس لئے سائنس بھی اب خدا کے وجود کا اقرار واضح الفاظ میں کر رہی ہے۔سائنس کا نظامِ کائنات میں بے شمار غیر مرئی طاقتوں کا اعتراف کرنا درحقیقت خدا کے وجود کا بین اعتراف ہے کیونکہ سائنس بے شمار پریسزز(Processes)کو ان غیر مرئی قوتوں کو تسلیم نہ کرنے کے صورت میں ناقابلِ وضاحت پاکر اپنا وجود ہی دفن کرنے کے درپے ہوگی۔سائنس نے جس نظم وضبط کا اس کائنات کے ذرے ذرے میں انکشاف کیا ہے وہ درحقیقت کسی حکیم ،قدیر ،مقتدراور قادر ذات کے موجود ہونے کا انکشاف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مستند ترین کلام میں اپنی ذات سے انسان کو واقف کرنے کے لئے کائنات میں پھیلی نشانیوں پر غور کرنے کی تلقین کی ہے تاکہ انسان ان نشانیوں کی حددرجہ حیرت انگیز کاملیت و سالمیت اور نظم وضبط کو دیکھ کر خدا کی ذات کا قائل ہو۔اس کے علاوہ انسان کو اس مقام تک پہنچانے کے بعد وحی کے ذریعے ایمان و عقیدہ جیسی نعمتوں سے سرفراز کرکے اس کے لئے یہ معاملہ بہت آسان کردیا۔یہ ایک اصولی بات کے طور پر سمجھ لیں کہ کائنات کے خالق کو سمجھنا انسان کی دسترس سے باہر ہے البتہ یہ بات ضرور ہے کہ خالق نے اپنا جتنا تعارف مظاہر فطرت ،پیغمبروں اور مذہبی کتب کے ذریعہ کروایا ہے اس پر مقرر کردہ حدود کے اندر تحقیق کی جانی چاہئے اور کی جاسکتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے متعلق جتنا باخبر کیا ہے اتنے ہی ماننے کا مکلف بھی بنایا ہے :"پس اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں مت بناؤ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"(النحل) اگر کوئی شخص اللہ کی ذات کے متعلق ایسا تصور پیش کرے جو خود خدا کے پیش کردہ تصور سے مختلف ہو اس کو رد کرنا بھی ایک بہت بڑی علمی و مذہبی خدمت ہے۔وہ ذات جو ہر شئے اور ہر صفت کی خالق ہو اس کی ذات کو انسانی علم کی کوئی بھی شاخ اپنی تحقیق کا موضوع نہیں بنا سکتی ہے۔
انسان کے لئے آفاق و انفس پر تحقیق کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے آپ کو اشرف المخلوقات کے طور پر پیش نہیں کر سکتاہے اور نہ ہی اس مناسبت سے اجزائے افاق و انفس سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔جس طرح سے ایک کلاس میں طالب علم اپنے دیگر ساتھیوں سے اچھی کارکردگی دکھانے کے بغیر اپنا فائق تر ہونا ثابت نہیں کرسکتا ہے ،اسی طرح انسان کا اس کائنات میں تحقیق و تدقیق اور تلاش و دریافت سے روگردانی کرنا اسے اشرف المخلوقات کے طور پر ثابت نہ کرنے کے مترادف ہے۔مخلوقات پہ تحقیق کرنا انسان کو اس دنیا میں زندگی کا ایک مفہوم فراہم کرتا ہے لیکن اگر اس نے کبھی خالق پر تحقیق کرنا شروع کردی تو سوائے شش وپنج کے کسی معنویت کی تحصیل نہیں ہو پائے گی۔ مخلوق پہ تحقیق انسان کو کسی منزل کا پتہ ضرور دیتی ہے جہاں پہ پہنچ کے انسان کا ذوقِ تحقیق اطمینان و راحت کا سامان حاصل کرتا ہے۔بایں الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مخلوقات بحیثیت آیت اللہ انسان کو خالق کے وجود کو تسلیم کرنے کا جائز اطمینان بخشتی ہیں کیونکہ ہر انسان کی فطرت خدا کی نگہبانی کا احساس رکھتی ہے۔اسی فطرت کے زور سے انسان نے ہر دور میں خدا کا کوئی نہ کوئی تصور گڑھ کے رکھا تھا۔اب جب تحقیق و تدقیق کی راہیں ہموار ہوئیں تو انسان ایک خدا کو سائنٹفک طور پر ماننے کے مقام پر پہنچ چکا ہے۔اگرچہ آغاز پہ تحقیق کے جادوئی نتائج سے انسان آپے سے باہر ہوکر خدا کا انکار کر بیٹھا تھا۔لیکن اب جب کہ ہر عمل کی علت معلوم کرنے پر انسان کو کسی نہ کسی ابتدائی قوت کو ماننا لازم ہوا اس لئے انسان (سائنسدان)وجود ِ خدا کا قائل ہوا۔مخلوق پہ تحقیق کرنا محقق کو خالق کے قریب کرتا ہے کیونکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے بھرا ہے۔ایک ذرہِ صغیر یعنی ایٹم کے اسٹریکچر اور ذیزائن کو ہی دیکھ لیجئے، انسان اس کی کاملیت کو دیکھتے ہی حیران ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ الیکٹران (Electron)کیوں نیوکلس(Nucleus) کے اردگرد مدار میں گھوم رہے ہیں؟ یہ کامل اور متوازن اسٹرکچر کس طرح سے وجود میں آیا۔ہر شئے کا اسٹرکچر اور ڈیزائن کاملیت کا مظہر ہوتا ہے جو انسان کو بے شمار اصولوں سے متعارف کرتا ہے۔ایک پرندے کی جسمانی ساخت نے انسان کو ہوائی جہاز کا ڈیزائن تیار کرنے میں جو مدد کی وہ نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔یہ دوسری بات ہے کہ کوئی مکہ میں رہتے ہوئے بھی حج نہ کرے تو اس میں کعبہ کا کیا قصور۔اسی طرح سے کوئی محقق کائنات کی کسی شئے پر تحقیق کرنے کے باوجود خدا کو نہ پائے تو اس میں اس چیز کا کیا قصور بلکہ یہ قصور تو اس کے نفس کا ہے۔
آج سائنسی ترقی کے طفیل انسان غیر معمولی اقدام کر ریا ہے۔کبھی ایٹم کے اندر جھانک کے دیکھ رہا ہے اور کبھی کہکشاؤں کے بیچ اپنی دوربین سے نظر دوڑا رہا ہے۔اسے کہیں بھی کوئی ایسا مادی وجود دریافت نہ ہو سکاجو تمام طاقتوں اور توانائیوں کا مرکز ہو، جس کو انسان متعین کرکے ہر عمل کی آخری وجوہ بیان کرتا، جس سے وہ زندگی کی حیاتیاتی اور روحانی دونوں اعتبار سے اطمینان بخش توجیہ بیان کرتا۔خدا کو ماننے کے بغیر انسانی زندگی کے کسی بھی پہلو میں حسن پیدا نہیں ہوسکتا۔اگر علم حیاتیات (Biology) کی بات کی جائے اس میں معنویت اور تفہیم پیدا کرنے کے لئے ڈاروین (Darwin) نے ارتقاء (Evolution) کا تصور اختراع کیا۔آج یہ تصور ارتقاء حیاتیات میں اتنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ تھیؤڈوسییس ڈوبزاہنسکی (Dobzhansky Theodosius ) کو یہ کہنا پڑا کہ:"تصورِ ارتقاء کے بغیر حیاتیات میں کوئی بھی چیز معنیٰ نہیں رکھتی "۔اسی طرح سے یہ پوری کائنات اور زندگی تصورِخدا کے بغیر کوئی معنویت اور مقصدیت نہیں رکھتی۔
(مضمون جاری ہے ۔ایک نئے پہلو کے ساتھ اگلی قسط انشاء اللہ اگلی پیر کو شائع کی جائے گی)
رابطہ۔ڈوڈہ ،جموںوکشمیر
ای میل۔[email protected]