تقدیس ِ حرفِ نقدو نظر جس کے دم سے تھی
وہ مصحف ِ ادب کا سپارا نہیں رہا
پھیلارہا تھا نورِ بصیرت جو مثل شمس
افسوس ! وہ چمکتا ستارا نہیں رہا
(سیف ؔنظامی)
آدھے درجن سے زائد انعامات حاصل کرنے والے تنقید نگار، شاعر اور ناول نگار شمس الرحمن فاروقی25دسمبر2020کو الہ آباد میں 85سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان کی بیٹی مہر فاروقی نے اپنے والد کے انتقال کے بارے میں ٹویٹ کیا:’’ہم الہ آباد پہنچ گئے اور والد نے پرامن طور پر منتقلی کی ‘‘۔ یہ خبر پھلتے ہی اردو ادبی حلقوں میں صف ماتم بچھ گیا ۔ شمس الرحمن فاروقی اردو ادب کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی مانند تھے۔ ان کی موت سے اردو کی ادبی دنیا کو یقینا نا قابل ِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ شعر و ادب کے لیے ان کی بیش قیمتی خدمات ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں گی ۔وہ گوں نا گوں اوصاف و خصوصیات کے مالک تھے۔ان کی ایک صفت ذہانت و فطانت بھی تھی جس کے آثار ان کے بچپن سے ہی نمایاں تھے۔اپنی اسی غیر معمولی ذہانت کے سبب وہ ہر درجہ میں امتیازی نمبروں کے ساتھ اول آتے اور استادوں کی محبت ،شفقت اور توجہ کا مرکز بنے رہتے اور بڑے ہو کر بھی انہوں نے اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اردو کے مردہ ادبی حلقوں میں اپنی سیمابی طبعیت سے نئی روح پھونک ڈالی۔ان کے انتقال سے اردو ادب میں جو خلا حائل ہو گیا ہے اس کو پاٹنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ان جیسی عہد ساز شخصیات صدیوں میں جنم لیتی ہیں۔انہوں نے اردو زبان و ادب کو اپنی گراں قدر خدمات سے مالا مال کیا ہے۔ اردو زبان و ادب کے تئیں ان جیسا دردِ دل رکھنے والے اب مشکل سے ہی پائے جاتے ہیں۔عصر حاضر میں پروفیسر گوپی چند نارنگ کے ساتھ اردو ادب کی ترقی و اشاعت میں جو دوسری بڑی شخصیت تھی ان ہی کی تھی۔انہوں نے اردو ادب کی کشتی کو اس وقت سہارا دیا جب اردو زبان و ادب بیچ سمندر میں ہچکولے کھا رہی تھی اور ہر سمت اس کے ڈوبنے کا اندیشہ ہو رہا تھا۔
30ستمبر1935ء کو پیدا ہونے والے اس ناقد،ادیب اور شاعر نے ایک آزاد خیال ماحول میں پرورش اور تربیت حاصل کی تھی۔کئی مقامات پر ملازمت کے بعد1960ء سے1968ء تک پوسٹ ماسٹر رہے اور بعد میں چیف پوسٹ ماسٹر کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ انہوں نے ادبی تنقید کے مغربی اصولوں کو ملحوظ نظر رکھا اور بعد میں انھیں اردو ادب میں نافذ کیا۔قابل ذکر ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے اردو ادب میں نئی اقدار وروایات کی تشکیل کی تھی اور روایت پسندی سے سرِ موہ انحراف کیا۔1955ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ماسٹر س حاصل کیا اور 1960ء کی دہائی کے اوائل میں لکھنا شروع کیا۔ ہندوستان میں اردو اور انگریزی شاعری حلقوں اور نثر کے متکلمین میںوہ بے حد عقیدت و احترام کا درجہ رکھتے تھے۔ان کو ان کی زندگی میں جو شہرت اورمقبولیت ملی وہ بہت کم اردو ادیبوں کو نصیب ہوئی ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے ان کو2009ء میں پدم شری کا اعزاز ملا۔ ان کوہندوستان کے سب سے بڑے ادبی اعزاز سرسوتی سمان سے بھی نوازا گیا اور1986ء میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سمیت مختلف اردواکیڈمیوں کی طرف سے ایوارڈس بھی مل چکے ہیں۔اس کے علاوہ ان کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے گراں قدر خدمات کے لئے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا۔
فاروقی صاحب صرف نقاد ہی نہیں ، بلکہ معتبر فکشن نگار، مولف، اور مشہور شاعر بھی تھے۔ ان کے نامور شاگر د بر صغیر ہند و پاک میں پھیلے ہوئے ہیں، جنھوں نے ہر جگہ فاروقی صاحب کے نام کو سر بلندرکھاہوا ہے۔ اگرچہ وہ تمام اصناف پر حاوی تھے، لیکن انہوں نے بعد میں خود کو تنقید تک ہی محدود رکھا۔ شاعری کے ساتھساتھ انھوں نے فکشن نگاری میں بھی طبع آزمائی کی اور داد و تحسین سے بھی نوازا گیا۔مگر کافی کچھ لکھنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ان سب چیزوں میں ان کی تنقیدی صلاحیت ضائع ہو رہی ہے۔ اس لیے انہوں نے بقیہ نصف صدی تنقید پر ہی صرف کی اور نہ صرف تنقید کے میدان میں اپنا منفرد مقام بنایا۔بلکہ روایتی تنقید سے الگ اپنی علاحدہ راہ نکالی۔وہ اردو میں بدلے ہوئے جدید ادبی رجحان کے ترجمان ،مفسر اور نمائندہ بھی تھے۔نئے ادبی مزاج اور رویے کی تعمیر و تشکیل کرنے میں صف ِ اول کے ادیبوں میں تھے۔ان کی شخصیت جدیدیت کے رجحان کا عرفان اور شعور عطا کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوئی۔فاروقی صاحب کو اردو میں تنقید نگاری کا ماہر قرار دیا جاتا تھا۔ان کے نزدیک اردو ادب کا تمام تر تنقیدی ذخیرہ عمومی بیان کا پلندہ ہے جس میں یکسر تبدیلی کی ضرورت ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی نے امریکہ کی پنسلوینیا یونیورسٹی میں سائوتھ ایشیاریجنل اسٹڈیز سینٹر کے پارٹ ٹائم پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی تھیں۔ عصر ِحاضر میں ان کی حیثیت جدیدیت کے علمبردار کی سی تھی۔نظری اور عملی تنقید سے متعلق ان کے تصورات دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ الہ آباد میں ’شب خوں‘ میگزین کے ایڈیٹر رہے۔میر تقی میر پر ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’شعر شور انگیز‘‘ چار جلدوں میں شائع ہوئی۔لفظ و معنی، تفہیم غالب ،زبانی بیانیہ، تعبیر کی شرح ،غالب پر چار تحریریں، انداز گفتگو کیا ہے ،بیان کندہ اور سامعین، اردو کا ابتدائی زمانہ ،افسانے کی حمایت میں، درس بلاغت ،عروض آہنگ اور بیان، اردو غزل ، خورشید کا سامان سفر،اثبات و نفی ، ، کئی چاند تھے سر آسماں، تنقیدی افکار، لغات روزہ مرہ اور تضمین اللغات شمس الرحمان فاروقی کی مشہور ترین تخلیقات میں شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ سوار اور ان کا ضخیم ناول ’’کئی چاند تھے سر آسمان‘‘ کا ترجمہ دنیا کی کئی اہم زبانوں میں ہو چکا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی روایتی اردو دان نہیں تھے بلکہ ان کو یہاں پر ان کا اپنا شوق اور ولولہ کھینچ لایاتھا۔ وہ اردو دان طبقے کی کوتاہ قدی اور تساہل پسندی سے بھی واقف تھے اور بالغ نظری اور سربلندی سے بھی۔ انھوں نے زندگی بھر اردو کی اتنی خدمت انجام دی ہے کہ رہتی دنیا تک اردو دنیا ان کی خدمات سے مستفیض ہوتی رہے گی۔ انگریزی ،ہندی اور اردو میںان کی کم و بیش 40سے زائد تصانیف ہیں۔یہ ایسی خدمت ہیں جو ہر دور میں قابل ذکر اور اہمیت کی حامل رہیے گی۔ انھوں نے اردو تنقید کو جن تنقیدی محاوروں سے متعارف کرایا اور جو وقار و معیار عطا کیا، اس کا ایک زمانہ قائل ہے۔ ادب میں آزادیٔ اظہار کی بات ہو یا نظریہ اور ہیئت پرستی کی عمل آوری وہ ہمیشہ اس کے حق میں گویا ہوئے اور اسی وجہ سے وہ ہمیشہ مابعد جدیدیت کے انکاری رہے۔ وہ ادب میں نئے اور منفرد اسالیب کے حامی اور پرودردہ بھی تھے ۔ان کے تخلیقی عمل اور طرزِ اظہار میں سماجی تاریخ پر ان کے بے پناہ عبور نے مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ۔وہ اپنے مخصوص طرزِ اظہار سے ان تہذیبی تصورات کو کھنگال رہے تھے جو جغرافیائی سرحدوں،قومی تشخص اور مذاہب کی قید سے آزاد ہیں۔مختصر یہ کہ شمس الرحمن فاروقی اردو زبان و ادب کی کشتی کے وہ ملاح تھے جن کے بغیر یہ کشتی بہت سارے پیچ و تاب کا شکار ہوگی ۔
رابطہ۔ریسرچ سکالر ،سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر
ای میل۔[email protected]