کورونا وائرس کی وبا نے گزشتہ بارہ مہینوں سے عالمی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے،سماجی زندگیوں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ 4 ارب لوگ اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سال 2020 نے دنیا کو اس انداز میں بدل کر رکھ دیا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ کورونا کی عالمی وبا سے دنیا بھر میں اب تک 17 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 8 کروڑ اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں اور وائرس سے متاثر ہونے والوں کے اعداد و شمار حقیقت میں کئی زیادہ تصور کیے جا رہے ہیں۔
سائنسدان کئی دہائیوں سے عالمی وبا کے حوالے سے خبردار کر رہے تھے لیکن کسی ملک نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کا تقریباً ایک پورا سال وبا کا مقابلہ کرنے میں لگ گیا ۔کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر ویکسین لگانا شروع کر بھی دیں تب بھی اجتماعی مدافعت پیدا کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ جبکہ دیگر ماہرین کے خیال میں آئندہ سال کے وسط تک زندگی معمول پر آ سکتی ہے۔
کورونا وائرس کے خلاف اس جنگ کے دوران وائٹ کالر نوکریاں کرنے والوں کے لیے اگرچہ گھر سے کام کرنے کی سہولت موجود ہے لیکن کمرشل کاروبار کرنے والوں کے لیے پھر بھی غیر یقینی کی صورتحال ہے۔
دوسری جانب عالمی معیشت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی مالیاتی فنڈ شدید نوعیت کی کساد بازاری کے خلاف خبردار کر چکا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والا معاشی بحران 2008 میں آنے والے سے بھی بد ترین ہوگا۔
لیکن ماہرین کے خیال میں کورونا وائرس پھر بھی اس طرز کی خطرناک وبا نہیں تھی جیسی کے ماضی میں گزر چکی ہیں۔جن کا ذکر اب ہم کریں گے-تاریخ میں آنے والی وبائیں اس سے کہیں زیادہ بھیانک تھیں۔ سب سے ہلکی وباء پہلے اور سب سے خوفناک آخر میں بیان کی گئی ہے۔
نیند کی وباء ،کل ہلاکتیں: 15 لاکھ
1915 تا 1926 تک پھیلنے والی اس وباء کا باعث ایک جرثومہ تھا جو دماغ کے اندر جا کر حملہ کرتا تھا۔ اس بیماری کو گردن توڑ بخار کی ایک شکل سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے مریض پر شدید غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ مرض کی شدت میں مریض بت کا بت بنا رہ جاتا تھااور ہل جْل بھی نہیں سکتا تھا۔اسی لئے اسے نیند کی وباء بھی کہا جانے لگا تھا۔
ایشیائی فلو،ہلاکتیں: 20 لاکھ
ایشیائی فلو کی وباء 1957 تا 58چین ہی سے پھیلی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو لپیٹ میں لے لیا۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کا وائرس بطخوں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔ اس وباسے 20 لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے، جن میں صرف امریکا میں 70 ہزار ہلاکتیں شامل ہیں۔
ایرانی طاعون،ہلاکتیں: 20 لاکھ سے زیادہ
ویسے تو طاعون کی بیماری وقتاً فوفتاً سر اٹھاتی رہی ہے، لیکن 1772 میں ایران میں ایک ہیبت ناک وباء پھوٹ پڑی۔ اس زمانے میں اس موذی مرض کا کوئی علاج نہیں تھا جس کی وجہ سے اس نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔اور20 لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
کوکولزتلی (1)،ہلاکتیں: 20 لاکھ سے 25 لاکھ
جب ہسپانوی مہم جووئوں نے براعظم امریکا پر دھاوا بولا تو اس سے انسانی تاریخ کے ایک ہولناک المیے نے جنم لیا۔ مقامی آبادی کے جسموں میں یورپی جراثیم کے خلاف کسی قسم کی مدافعت موجود نہیں تھی، اس لیے ان کی بستیوں کی بستیاں تاراج ہو گئیں۔ایک سانحہ 1576تا 1580 میں میکسیکو میں پیش آیا جس میں 20 لاکھ سے 25 لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اصل بیماری کیا تھی، لیکن مریضوں کو تیز بخار ہوتا تھا، اور بدن کے مختلف حصوں سے خون جاری ہو جاتا تھا۔
انتونین کی وباء ،ہلاکتیں: 50 لاکھ سے ایک کروڑ تک
یہ دہشت ناک مرض اس وقت پھیلا جب رومی سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ 165 عیسوی سے 180 عیسوی تک جاری رہنے والی اس وباء نے یورپ کے بڑے حصے کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔جس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 50 لاکھ سے ایک کروڑ تک بتائی جاتی ہے۔
کوکولزتلی (2)،ہلاکتیں:ڈیڑھ کروڑ
یہ وباء بھی میکسیکو میں آئی تھی، لیکن کوکولزتلی 2 سے تقریباً 30 برس پہلے، اور اس کی وجہ بھی وہی تھی یعنی براعظم امریکا کے مقامی باشندوں میں یورپی جراثیم کے خلاف عدم مدافعت۔ لیکن اس وبا نے دوسری کے مقابلے پر کہیں زیادہ قیامت ڈھائی اور 50 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا۔
طاعون،ہلاکتیں: ڈھائی کروڑ
541 ء تا 542 ء میں آنے والی یہ وباء طاعون کی پہلی بڑی مثال ہے۔ اس وباء نے دو سال کے اندر اندر بازنطینی سلطنت اور اس سے ملحقہ ساسانی سلطنتوں کو سیلاب کی طرح لپیٹ میں لے لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وبا نے ان سلطنتوں کو اتنا کمزور کر دیا تھا کہ چند عشروں بعد عرب بڑی آسانی سے دونوں کو الٹنے میں کامیاب ہو گئے۔
ایڈز/ایچ آئی وی،ہلاکتیں: تین کروڑ
ایڈز نئی بیماری ہے جس کا وائرس مغربی افریقہ میں چمپینزیوں سے انسان میں منتقل ہوا اور پھر وہاں سے بقیہ دنیا میں پھیل گیا۔ اس بیماری نے سب سے زیادہ افریقہ کو متاثر کیا ہے اور حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ہونے والے 60 فیصد سے زیادہ مریضوں کا تعلق زیر ِ صحارا افریقہ سے ہے۔اس سے ہونے والی ہلاکتوں کا اندازہ تین کروڑلگایا گیا ہے۔
ہسپانوی فلو،ہلاکتیں: دس کروڑ
یہ وباء اس وقت پھیلی جب دنیا ابھی ابھی پہلی عالمی جنگ کی تباہی کے ملبے تلے دبی ہوئی تھی یعنی 1918تا 1920تک اس کا زور رہا۔ اس وقت دنیا کی آبادی پونے دو ارب کے قریب تھی، جب کہ ہسپانوی فلو نے تقریباً ہر چوتھے شخص کو متاثر کیا۔اور ہلاکتوں کا اندازہ دس کروڑنفوس لگایا گیا تھا ۔عام طور پر فلو بچوں اور بوڑھوں کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے، لیکن ہسپانوی فلو نے جوانوں کو خاص طور پر ہلاک کیا۔
سیاہ موت،ہلاکتیں: ساڑھے سات کروڑ تا 20 کروڑ
انسانی تاریخ کبھی اتنے بڑے سانحے سے دوچار نہیں ہوئی۔ 1347 سے 1351تک طاعون کی اس وبا نے دنیا کو اس قدر متاثر کیا کہ کہا جاتا ہے کہ اگر یہ وبا نہ آئی ہوتی تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ماہرین کے مطابق طاعون کا جرثومہ مشرقی ایشیا سے ہوتا ہوا تجارتی راستوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور پھر یورپ جا پہنچا جہاں وہ 30 فیصد سے 60 فیصد آبادی کو موت کے منہ میں لے گیا۔ تباہی اس قدر بھیانک تھی کہ پورے شہر میں مْردوں کو دفنانے والا کوئی نہیں بچا۔ ہلاکتیں7 کروڑ سے تا 20 کروڑ بتائی جا رہی ہیں۔
21ویں صدی کی دوسری مہلک وباء
2013 سے 2016 تک مغربی افریقہ میں پھیلنے والے ایبولا وائرس سے 11300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔یہ رواں صدی کی پہلی مہلک وبا تھی۔
لیکن آج جب ہم کورونا وائرس یا کووڈ 19 کی عالمی تباہی دیکھتے ہیں تو اس کی لپیٹ میں ہر کوئی ہے۔ جن لوگوں کو یہ نہیں لگی وہ اس کے خوف میں رہ رہے ہیں اور یہ خوف بالکل حقیقی ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ یہ وباء دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے اور چین سے لے کر امریکہ تک متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔کرونا وائرس کا طوفان کم ہونے میں نہیں آرہا۔ وائرس نے سارے دنیا کو ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔ خوف اور بے یقینی کی فضا نے ایک عام شہری کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ صرف لمحہ موجود میں زندہ رہے۔ ہر دن اس خوف میں گزار رہاہے کہ کوئی ایسی بے احتیاطی نہ ہو جائے کے وہ کرونا وائرس کا شکارہو جائے۔کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے بعد حالات میں بہتری آنے کی امید تو پیدا ہوئی ہے لیکن وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس نے اکثر ممالک کو دوبارہ سے سفری پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
رابطہ۔بارہمولہ کشمیر،9596571542
ای میل۔[email protected]