مہور// زون مہور کا گورنمنٹ پرئمری سکول باچھالہ دیول15سال گزر جانے کے بعد بھی عمارت کا منتظر ہے۔ 2004 میںکھولے گئے اس سکول میں 30سے زائد طلاب زیر تعلیم ہیں جنہیں درس دینے کیلئے دو استادتعینات ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس اسکول کے طلباء مویشی خانہ میں درس لینے پر مجبور ہیں۔اس عمارت میں دن کو طلباء درس لیتے ہیں اور رات کو اس عمارت میں مویشی رہتے ہیں۔مقامی شخص نظیر احمد ملک نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ جہاں سرکار ایک طرف سے تعلیم کو لے کر بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن اس اسکول کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سرکار کے دعوئوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا اگرچہ کبھی تیز دھوپ یا بارش ہوتی ہے تو اساتذہ کو مجبوراً چھٹی کرنا پڑتی ہے ۔مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ آج تک کوئی بھی محکمہ تعلیم کا اعلیٰ آفیسر اس سکول کی حالت دیکھنے کیلئے موقع پر نہیں آیا۔اس حوالے سے جب کشمیر عظمیٰ نے زونل ایجوکیشن پلاننگ آفیسر مہور قمرالدین جرال سے بات کی انہوں نے کہا کہ مہور زون میں اس طرح کے بہت سے سکول ہیں جو عمارت کے بغیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے محکمہ کے اعلیٰ افسران کو آگاہ بھی کیا ہے، جیسے ہی عمارت بنانے کیلئے فنڈس آئیں گی، ان سکولوں کی عمارتوں کو تعمیر کیا جائے گا۔