مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کے تعلیمی زون منکوٹ میں محکمہ تعلیم کے اعلی آفیسران کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ہر روز کوئی نہ کوئی سکول بند رہتاہے جس کی وجہ سے سرحد پر بسنے والے او ر فائرنگ و گولہ باری کے بیچ زندگی بسر کرنے والے لوگوں کے بچے تعلیم سے محروم ہورہے ہیں ۔تازہ کیس میں تعلیمی زون منکوٹ کا گورنمنٹ پرائمری سکول چیرنگڑی جو منکوٹ اپر پنچائت میں پڑتاہے اور سرحد سے کچھ ہی کلومیٹر اندر ہے،بند پڑا ہے۔ اس سلسلہ میں ممبر پنچائت محمد رشید چوہدری کا کہنا ہے کہ پورے ہندوستان کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر یوٹی میں تمام سکول کھل چکے ہیں لیکن کرونا وائرس کے دوران گیارہ ماہ سکول بند رہنے کے بعد ابھی تک ہمارا سکول نہیں کھلا ۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے بچے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں اورگولہ باری و فائرنگ کے بیچ اپنی زندگی خطرے میں ڈالکر تعلیم حاصل کرتے ہیں اور گذشتہ دس دنوں سے صبح لگاتار سکول جاتے ہیں لیکن اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آجاتے ہیں اور ایسا لگتاہے کہ محکمہ تعلیم کے اعلی آفیسران کا ان اساتذہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔ سکول کو بند دیکھتے ہوئے محکمہ تعلیم کے ڈپٹی سی او مینڈھر کے حکم پر زیڈ ای او منکوٹ نے ایک استاد کو وجہ بتائو نوٹس جاری کرکے تنخواہ بند کرنے کا حکم دیاہے ۔معاملہ کی نسبت جب ڈپٹی سی او مینڈھر سے بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ ہمارے اس سکول کا ٹیچر بھی تحصیل دفتر منکوٹ میں اٹیچ ہے جسکے لئے ہم نے تحصیلدار منکوٹ کو خط بھی لکھا لیکن اس وقت تک ہمارا ٹیچر واپس نہیں آیا جسکی وجہ سے سکول بند ہے اور بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس سکول کے اندر ایک ہی استاد ہے اور ہم نے منگلوار کو ایک اور ٹیچر سکول کھولنے کیلئے وہاں بھیجا تھا جو وہاں نہیں پہنچا جسکے خلاف ہم نے کاراوئی کی ہے ۔