کنگن//زیڈموڈ ٹنل تعمیر کرنے والی کمپنی نے ابھی تک ’کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی‘کے تحت مخصوص رقومات کو ابھی تک خرچ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں ابھی تک کمپنی نے کوئی منصوبہ تیار کیا ہے۔زیڈموڈ ٹنل گگن گیراور سونہ مرگ کے درمیان تعمیر کی جارہی ہے اور27.33کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی اس 6.5کلومیٹر ٹنل سے سونہ مرگ کاصحت افزاء مقام ساراسال عام لوگوں اور سیاحوں کیلئے کھلا رہے گا کیوں کہ موجودہ سڑک پر موسم سرما کے دوران گگن گیر سے آگے کئی مقامات پر بھاری بھرکم برفانی تودے گرآتے ہیں جن کی وجہ سے یہ سڑک موسم سرما میں ٹریفک کیلئے بند کی جاتی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ٹنل تعمیر کرنے والی کمپنی کو گگن گیر کی آبادی کو ’کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی‘کے تحت یہاں اسپتال ،کھیل کے میدان،اندرونی رابطہ سڑکیں ،اسکول اور سولرلائیٹیں فراہم کرنی تھیں اور اس کیلئے پروجیکٹ کی منظور شدہ رقم میں سے دوفیصد رقومات خرچ کرنی تھیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ 2015میں اس ٹنل کی تعمیر کاکام شروع کیا گیا اور اب تک اس کا 70فیصد کام مکمل ہوچکاہے اور اس ٹنل کے آئندہ برس ستمبر تک مکمل ہوجانے کی توقع ہے لیکن پانچ سال گزرنے کے باوجود کمپنی نے گگن گیر کی ترقی کیلئے ایک پائی بھی خرچ نہیں کی ہے ۔بلال احمد نامی ایک مقامی شہری نے بتایا کہ2015میں جب اس ٹنل کی تعمیرکاکام شروع کیاگیا تواُس وقت کمپنی کے حکام نے بتایا تھا کہ دوفیصد رقم علاقے کی تعمیر اورترقی پرخرچ کئے جائیں گے اوریہاں ایک80بستروں والااسپتال،کھیل کامیدان،اندرونی سڑکیں تعمیر کی جائیں گی اور علاقے میں سولر لائٹیں بھی نصب کی جائیں گی۔انہوں نے مزیدکہا کہ ٹنل کا 70کام مکمل ہوچکاہے لیکن علاقے کی ترقی کیلئے ایک پائی بھی خرچ نہیں کی گئی۔