سرینگر//سرینگر میں محکمہ باغبانی کے بنیادی باغبانی تربیت یافتہ(بیسک ہارٹیکلچرٹرینڈ) امیدواروں نے اپنے مطالبے کو لے کر سرینگر کی پریس کالونی میں زور دار احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ محکمہ کی طرف سے درجہ چہارم اسامیوں کوپرکرنے کے لئے فارم داخل کرنے کے اہل ہیں۔انہوں نے ڈگری یافتہ امیدواروں کی جانب سے احتجاج کو غیر ضروری قرار دیا۔انہوں انڈر سیکریٹری کی جانب سے بھرتی روکنے کے منصوبے پر زبردست برہمی کا اظہار کیا۔ سنیچر کے روزسرینگر میںبنیادی باغبانی تربیت یافتہ نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کی ایک بڑی تعداد نے پریس کالونی میں محکمہ ہارٹی کلچر کے اعلیٰ حکام کے خلاف زور دار احتجاج کیا۔اس دورا ن احتجاج میں شامل نوجوانوں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ اٹھائے تھے۔احتجاج میں شامل امیدواروں کا کہنا تھاکہ انہوںسابق گور نر این این ووہرا کے دور میں محکمہ نے ایک کورس ’بی ایچ ٹی‘سکاسٹ کے تحت مکمل کیا اور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد اس میں شامل ہوئی ۔انہوں نے بتایا وہ گزشتہ کئی سال سے محکمہ میںکسی درجہ چہارم پوسٹ کے انتظار میں ہیں۔احتجاج میں شامل جاوید احمدنامی ایک نوجوان نے بتایا کہ حال ہی میں محکمہ نے درجہ چہارم اسامیوں کے لئے تربیت یافتہ امیدواروں سے درخواستیں طلب کیں ہے جس دوران سکاسٹ سے ڈگری اور ڈپلوما ہولڈوں جو گزٹیڈ اسامیوں کے اہل ہیں ،نے اس بھرتی عمل کو شروع کرنے سے قبل ہی احتجاج شروع کر کے اُنہیں بھی اس بھرتی کے اہل قرار دینے کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے بتایا ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن مذکورہ امیدوار محکمہ میں اعلیٰ اسامیوں کے اہل ہیںاور انہیں درجہ چہارم کے اہل قرار دینا اور بھرتی عمل کو متاثرکرنا قابل افسوس ہے ۔ریاض احمد نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ ڈگری یافتہ امیدواروں کے احتجاج کے بعد محکمہ نے اس بھرتی عمل پر فی الحال روک لگانے کی تیاری کی ہے جس کے حوالے سے اہل حکمنامہ جاری ہوگا ۔انہوں نے اس حکم نامے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایل جی جموں و کشمیر منوج سنہا،وائس چانسلرسکاسٹ،گور نر کے مشیران سے اس سلسلے میں مداخلت اور انصاف کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے بتایا درجہ چہارم کے ان تربیت یافتہ امیدواروں کے لئے پہلی باراسامیاںمشتہرکی گئی ہیں اور اس پر بھی روک لگانا قابل مذمت ہے ۔ادھراپنی پارٹی کے سینئررہنمااور سابق وزیر دلاور میرنے لیفٹینٹ گورنر سے بنیادی باغبانی تربیت یافتہ نوجوانوں کے مطالبے پر ہمدردانہ غور کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ باغبانی میں ڈگری یافتہ امیدواروں کے دبائو میں آکرباغبانی میں بنیادی تربیت یافتہ نوجوانوں کے ساتھ امتیاز کا برتائو کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان کے مستقبل کے روزگارکے امکانات کو سبوتاژ نہیں کرنا چاہیے اور ان اسامیوں کو باغبانی کے بنیادی تربیت یافتہ کورس کے امیدواروں کیلئے مخصوص رکھاجائے۔