سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ بھارت میں کوروناوائرس کی نئی لہر کے پیچھے وائرس کی نئی قسم ہے۔ انہوںنے کہا کہ وائرس کی نئی لہر جموں کشمیر میں بھی پیدا ہوسکتی ہے ،اسلئے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ بھارت میں کووڈ19کی نئی لہر شروع ہوچکی ہے اور یہ وائرس کی نئی ہیت کی وجہ سے ہے اور اس کا اثر جموں کشمیرمیں بھی ہوسکتا ہے ۔ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ برطانیہ کے بعد جنوبی افریقہ اور برازیل میں وائر س کی نئی ہیت پائی گئی ہے اور اس کے اثرات اب بھارت میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دے رہے ہیں اسلئے ہماری یہ کوشش ہے کہ اس نئی قسم پر جتنی جلد ممکن ہو قابو پایا جاسکے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ نئی ہیت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور مہاراشٹر میں اس سے بہت سارے لوگ متاثر ہورہے ہیں اسلئے یہ جموں کشمیر میں بھی نمودار ہوسکتا ہے کیوںکہ وادی کشمیر سیاحتی مقام ہونے کے نتیجے میں سیاح یہاں پر کثرت سے آتے ہیں جو اس وائرس کی نئی ہیت کے پھیلنے کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد پھر اس نئی لہر کے جلد شکار ہوسکتے ہیں ۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ اس نئی ہیت پر اثرانداز ہونے کیلئے موجودہ ویکسین کارگر نہیں ہے جو وائرس کی پہلی قسم کے خلاف تیار کی گئی ہے۔