پونچھ//پچھلے چند برسوں میں انتقال کر چکے ہندوستان خصوصی طور خطہ پیر پنچال کے معروف شعراء،ادباء اور ناقدین کی یاد میں دبستان ہمالیہ کے زیر اہتمام ہمالین کالج کیمپس ٹھنڈی کسی راجوری میں منفرد ایک روزہ عظیم الشان ادبی و ثقافتی کانفرنس اورحمدیہ نعتیہ مخلوط مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں اضافی ضلع ترقیاتی کمیشنر راجوری شیر سنگھ مہمان خصوصی کے طور شامل ہوئے۔ ان کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کے معروف شعرائے کرام مختلف جماعتوں کے قائدین، دانشوروں، وکلاء ، صحافتی برادری، ڈاکٹرس اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معززین اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ تقریب کا اغاز تلاوت کلام پاک ہوا جس کے بعد بچیوں نے سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا گنگنایا۔ محمد سلیم وانی نے مرحوم ظہور الدین، مرحوم حامدی کشمیری، مرحوم شمس الرحمٰن فاروقی، ماسٹر عبدلعزیزوانی،عرش صہبائی، مرحوم شہباز راجوروی، ودیارتن عاصی، مرحوم فداراجوروی، مرحوم ڈاکٹر فاروق مغل، مرحوم عبدالشکور کو ایک تحریر پڑھ کر خراج پیش کیا۔ پروفیسر قدوس جاوید، ایم این قریشی، خالد احمد، مشتاق وانی اور ڈاکٹر ذاکر ملک بھلیسی، عبدالسلام وہاب، نثار راہی،فاروق قیصر،اکبر علی بانڈے، اقبال رینہ نے سال رواں میں قومی سطح کی متوفی مقتدر علمی، ادبی، سماجی شخصیات کی حیست و خدمات کے حوالے سے تعارفی اور توصیفی یادگاری خطبے فرمائے۔ اس دوران معروف صحافی طارق میر کی جانب سے مرحوم ماسٹر عبدالعزیز وانی کی علم و ادب کے حوالے سے کی گئی خدمات پر تیار کردہ دستاویزی فلم بھی درشائی گئی۔کھانے کے وقفے کے بعد دوسری نشست میں جموں کشمیر کے معروف شعرائے کرام جن میں احمد شناس،رشید قمر،کے ڈی مینی،ایم کے وقار،ذاکر خاکی،پرویز ملک،محتشم احتشام،اکبر علی بانڈے،عمر فرحت،نثار راہی، خورشیدجانم،روبینہ میر،زنفر کھوکھر،ع ع عارف،عشرت بٹ،رفیق سوز،امیر معبود، سلام بہار، نزیرشاکر،حافض ریاض ضیائی،عارف فہیم،یاسین ناز وغیرہ نے اپنے حمدیہ نعتیہ کلام پیش کئے۔ تقریب کے دوران کئی ایوارڈ بھی تقسیم کئے گئے اور معزز مہمانان گرامی کی عزت افزائی کی گئی۔ مہمان خصوصی نے اپنے خطاب میں ہمالین کالج کے بانی فاروق مضطر کی کاوشوں کر سراہتے ہوئے ان کو مبارک پیش کی کہ جنہوں نے ایک بہترین پرگرام منعقد کیا۔ ہمالین کالج کے بانی فاروق مضطر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس دوران نظامت کے فرائض محمد مسلم وانی اور علمدار عدم نے انجام دیئے۔