سرنکوٹ/ /تعلیمی زون بفلیاز میں پرائمری سکول اپر سیلاں 2006سے تشنہ تکمیل ہے۔اپر سیلاں کے وارڈ نمبر 2 میں محکمہ دیہی ترقی نے سکول کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا جس کو لنٹر لیول تک پہنچا کر محکمہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لئے جس کے نتیجے میں سکولی طلباء کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 2006 سے لیکر ابتک سکول کی حالت ویسی کی ویسی ہے جبکہ مذکورہ محکمہ کی جانب سے تین کمرے مکمل کرنے تھے جو وقت پر نہ تعمیر ہوسکے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر کے مطابق محکمہ دیہی ترقی نے سکول کو اچھی طرح سے تعمیر نہیں کیا اور محکمہ کے پاس فنڈ کی عدم دستیابی رہی جس کی بنیاد پر سکول مکمل طور پر تعمیر نہ ہو سکا۔ اس کے بعد 2009 میں سکول کو اپ گریڈ کیا گیا اور جماعت اول سے لیکر آٹھویں تک انھوں نے چار سال طلباء کو کسی کے گھر کرایہ پر تدریسی عمل رکھا پھر 2013 میں ایس ایس اے اسکیم کے تحت سکول کے دو کمرے مزید تعمیر کیے گئے جن میں طلباء کا تدریسی عمل شروع کیا گیااور 2017 میں سکول کاباورچی خانہ برف کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا جسکی ابھی تک مرمت نہیںکی گئی۔ ان کہنا تھا کہ محکمہ ایجوکیشن کے پاس فنڈس موجود ہیںلیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ وہ سکول نہیں بنا سکتے اور سکول کے لئے اس وقت ایک کنال اراضی لی گئی تھی، اس میں محکمہ دیہی ترقی نے سکول کو لنٹر لیول تک بنا کر چھوڑ دیا باقی جگہ بچی نہیں جہاں وہ سکول کو تعمیر کریں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے محکمہ دیہی ترقی کو بار بار مطلع کیا کہ وہ سکول کی عمارت کو جلد از جلد تعمیر کرے لیکن تمام گزارشات کرنے کے باوجود بھی کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ۔ انھوں نے کہ محکمہ تعلیم کے اعلی آفیسران کو بھی اس سلسلے میں مطلع کیا لیکن انھوں نے بھی کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ 2018 میں سابق ایم ایل سرنکوٹ نے مذکورہ عمارت کے چھت ڈالنے کے لئے ایک لاکھ سے زائد فنڈس دستیاب کرائے لیکن چھت ڈالنے کے کچھ روز بعد سکول کی چھت ہوا میں اڑ گئی اور طلباء کے لئے سردرد بن گیا۔ سکول کی حالت اس قدر خراب ہے کہ جہاں طلباء کو پڑھایا جاتا ہے وہاں ہی باورچی خانہ اور اساتذہ کا دفتر موجود ہے۔ سکول میں کل 29 طلباء زیر تعلیم ہیں اور 4 اساتذہ ہیں۔