نئی دہلی/یواین آئی// راجیہ سبھا نے منگل کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور پڈوچیری کے بجٹ سے متعلق تصرفی بلوں ، ضمنی مطالبات زر اور تصرفی بل 2021 اوراس سے متعلق مطالبات زر صوتی ووٹنگ کے ذریعہ لوک سبھا کو لوٹا دی ۔دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے بجٹ اور ضمنی مطالبات زر پر ایوان میں ہو ئی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں مرکزی حکومت نے ترقی کے عمل کو رفتار دی ہے ۔ ریاست میں مرکزی اسکیموں کے فوائد مل رہے ہیں۔ دفعہ 370 کی منسوخی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں جنگجویت کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے اور سیاحوں کی آمدکی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ ریاست میں مقامی سطح پر انتخابات ہوئے ۔وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں مرکزی حکومت ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے عزم کے ساتھ ایک خود انحصار ہندوستان کی تعمیر کی طرف گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں منعقدہ ڈی ڈی سی الیکشن میں 51 فیصد ووٹنگ ہوئی ، جس میں دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور علیحدگی پسند عناصر کمزور ہوئے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام نے آرٹیکل 370 کی منسوخی خیر کا مقدم کیا ہے ۔ راجیہ سبھا نے تصرفی بل 2021 ، جموں و کشمیر کے تصرفی بل 2021 اور جموں و کشمیر تصرفی بل (نمبر 2) 2021 )اور پڈوچیری تصرفی بل 2021 اور پڈوچیری صرفی بل 2021 پر بیک وقت بحث کی۔ کانگریس کے شکتی سنگھ گوہل ، بیجو جنتا دل کے پرشانت نندا ، اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایم تھمبی دورائی ، بی جے پی کے سدھانشو ترویدی ، تلنگانہ راشٹرسمیتی کے جے سنتوش کمار ، وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے وی وجئے سائی ریڈی ، سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو ، راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشوک واجپئی ، کانگریس کے سید نذیر حسین ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے شویت ملک ، اسی پارٹی کے سنجے سیٹھ اور عام آدمی پارٹی کے نارائن داس گپتا نے بھی اس بحث میں حصہ لیا۔