گاندربل//سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین میر نے منگل کو یونیورسٹی کے تولہ مولہ کیمپس میں قائم شعبہ قانون کے احاطے میں پودا لگاتے ہوئے ہفتہ تک جاری رہنے والی شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔اس موقعہ پر ریجنل ڈائریکٹر سوشل فارسٹری کشمیر معراج الدین ملک، سندھ فاریسٹ ڈویژن کے ڈویژنل آفیسر اویس فاروق میر ،سوشل فاریسٹری سرینگر کے ڈی ایف او، سنٹرل یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ایم افضل زرگر ، کیمپس ڈائریکٹر پروفیسرڈاکٹر شاہد رسول، شعبہ لینڈ سکیپ ڈیولپمنٹ ، اسٹوڈنٹس ویلفیئر ، اسکول آف ایجوکیشن ، محکمہ سوشل فاریسٹری کشمیر کے تعاون سے منعقدہ پروگرام کے دوران اسکولوں کے سربراہ اور اسکول کے سینئر اراکین بھی موجود تھے۔ پروفیسر معراج الدین میر نے پودا لگاتے ہوئے زمین پر موجود جانداروں کی بقا کے لئے پودوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے متعدد صوفیوں اور سنتوں کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف یونیورسٹی کے احاطے میں بلکہ جموں و کشمیر میں بھی آئندہ نسلوں کی بہتری کے لئے پودے لگانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں سے گرین کیمپس تیار کرنے کی کوشش میں یونیورسٹی حکام سے تعاون فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔رجسٹرار پروفیسر ایم افضل زرگر نے شجرکاری مہم میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ درختوں کی بلاجواز کٹائی اور بڑھتی ہوئی آلودگی نے ماحول کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اتراکھنڈ میں حالیہ سیلاب کے حوالے سے کہا ’دنیا بھر میں قدرتی آفات ماحولیاتی تباہی اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی وجہ سے ہورہی ہے‘۔سوشل فاریسٹری کشمیر کے ریجنل ڈائریکٹر کشمیر معراج الدین ملک نے کہا کہ پودے لگانے کا ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے جس کا اس وقت جموں و کشمیر کو بھی درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام اور ذاتی مفادات کے ذریعہ درختوں کے لگاتار کٹ جانے سے ہونے والے نقصان کو ختم کرنے کے لئے ان کے محکمہ نے جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر شجر کاری مہم شروع کی ہے۔سندھ فاریسٹ ڈویڑن گاندربل کے ڈی ایف او اویس فاروق میر نے طلاب ،رضاکاروں اور یونیورسٹی کے سینئر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس شجر کاری مہم کو بڑی کامیابی سے ہمکنار کیا جائے۔