نئی دہلی// وزیراعظم نریندر مودی نے زراعت کیلئے جدت اور نئے پن پر زور دیتے ہوئے اتوار کو کہا کہ ایسا نہ کرنے پر یہ شعبہ بوجھ نہیںبن جائے گا۔ وزیراعظم نے ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام ’من کی بات‘ کے 75ویں ایڈیشن میں کہا کہ زرعی شعبے میں جدت طرازی بہت ضروی ہے کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور کسانوں کی آمدنی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا،’زندگی کے ہر شعبے میں نیا پن، جدت طرازی ضروری ہوتی ہے ورنہ وہی کبھی کبھی ہمارے لیے بوجھ بن جاتی ہے۔ ہندوستان کی کھیتی کی دنیا میں-جدت طرازی، یہ وقت کا تقاضا ہے۔ بہت دیر ہو چکی ہے۔ ہم بہت وقت برباد کر چکے ہیں۔ زرعی شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے روایتی کھیتی کے ساتھ ہی نئی سہولتوں کو، نئے نئے اختراعات کو، اختیار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے‘۔ مودی نے کہا کہ سفید انقلاب کے دوران ملک نے اس کا تجربہ کیا ہے۔ اب شہد کی مکھی پالنا بھی اسی طرح کا ایک آپشن بن کر ابھر رہا ہے۔ شہد کی مکھی پروری ملک میں شہد انقلاب کی بنیاد بنا رہی ہے۔ بڑی تعداد میں کسان اس سے منسلک ہو رہے ہیں، انوویشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال کے دارجلنگ میں ایک گاؤں گْردْم کا ذکر کیا اور کہا کہ پہاڑوں کی اتنی اونچائی، جغرافیائی مسائل لیکن یہاں کے عوام نے شہد کی مکھی پالنے کا کام شروع کیا ۔
من کی بات جیسے کل کی ہی بات ہے: مودی
نئی دہلی // وزیر اعظم نریندر مودی نے ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ماہانہ پروگرام ’ من کی بات ‘ کے 75 ویںایڈیشن مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اتوار کے روز کہا کہ 3 اکتوبر 2014 شروع اس پروگرام میں آئے تنوع سے وہ تحریک حاصل کرتے رہے اور اس سفر میں جو تجربات ہوئے ان کو یاد کر کے لگتا ہے کہ ’ من کی بات‘ جیسے کل کی ہی بات ہے ۔ مودی نے کہا کہ من کی بات کے لئے جو خطوط اور تبصرے موصول ہوتے ہیں ، اس سے وسیع معلومات ملتے ہیں۔ کئی لوگوں نے 75 ویں ایڈیشن کے پورا ہونے پر مبارکباد بھی دی ہے اور اس کے لئے انہوں نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ اتنی باریک نظر ’ من کی بات ‘ پروگرام پر رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ میں سامعین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ آپ کے ساتھ کے بغیر یہ سفر ممکن نہیں تھا۔ ایسا لگتا ہے ، جیسے یہ کل کی ہی بات ہو ، جب ہم سبھی نے ایک ساتھ مل کر یہ سفر شروع کیا تھا۔ تب 3 اکتوبر 2014 و جئے ادشمی کا مقدس تہوار تھا ، اور اتفاق سے آج ہولی ہے۔ ایک چراغ سے جلے دوسرا اور ملک روشن ہو ہمارا ۔ اسی جذبے سے چلتے چلتے ہم نے یہ سفر طے کیا ہے ، ہم نے ملک کے کونے کونے سے لوگوں سے بات کی ہے اور ان کے غیر معمولی کام کے بارے میں معلومات حاصل کی اور محسوس کیا ہے کہ ہمارے ملک کی دور افتادہ علاقوں میں بھی بے مثال صلاحیت موجود ہے۔ مادرِ وطن کی گود میں کیسے کیسے جوہر پر ورش پا رہے ہیں ۔ سماج کو دیکھنے ، جاننے اور اس کی صلاحت کو پہچاننے کا میرے لئے تو ایک حیرت انگیز تجربہ رہا ہے‘‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ ان 75 ویں ایڈیشن کے دوران ا ن کا کئی موضوعات سے گزرنا ہو ا۔ انہوں نے کہا ’’ اس دوران ندی کی بات، تو کبھی ہمالیہ کی چوٹیوں کی بات ، تو کبھی ریگستان کی بات ، کبھی قدرتی آفت تو کبھی انسانی خدمت کی ان گنت کہانیوں کا احساس ، کبھی ٹکنالوجی کی ایجاد ، تو کبھی کسی انجان کونے میں کسی کے نیا کر دکھانے کے تجربے کی کہانی۔اب آپ دیکھئے ،کیا صفائی ستھرائی کی بات ہو،خواہ ہمارے ورثے کو سنبھالنے کی بات ہو ۔ صرف اتنا ہی نہیں کھلونے بنانے کی بات ہو ، کیا کچھ نہیں تھا۔ جتنے موضوعا ت پر ہم نے بات نے کی ، وہ شاید ان گنت ہوں گے۔