پونچھ//کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ضلع پونچھ میں انتظامیہ کی طرف سے سخت بند شیں نافذہیں اس کے باوجود نرمی کے دوران لوگ بلا وجہ بازاروں میں بھیڑ کر رہے ہیں جو کہ نہایت خطرناک ہے۔اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے پونچھ کے سیاسی و سماجی کارکنان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔چوہدری شہنواز ڈی ڈی سی رکن سرنکوٹ نے کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلے سے کہیں زیادہ مہلوک اور خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا روزانہ نئے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ وہیں بہت ذیادہ ہلاکتیں بھی ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کیسز میں اضافے کے دوران ضلع انتظامیہ کی جانب سے شہری علاقوں میں تو مکمل لاک ڈاو ن نافذ ہے لیکن دیہی علاقوں میں لوگ آج بھی شادیاں کر رہے ہیں اور بڑی تعداد میں شامل ہو کر خطرے کو دعوت دے رہے ہیں انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ فی الحال اپنی تقریبات ملتوتی کر کے ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ وہ خود محفوظ رہ سکی اور دوسرے بھی ان سے محفوظ رہیں۔ایڈوکیٹ افتخار علی بزمی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے تو لاک ڈاو ن نافذ ہے لیکن لوگ ابھی بھی لاک ڈاو ن پر عمل نہیں کر رہے ہیں اور نہ رہنما ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نہایت خطر ناک ہے انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ نرمی کے دوران بازاروں میں بھیڑ نہ کریں۔اگر مجبورا بازار آئیں بھی تو گھر سے ایک ہی فرد آئت اور وہ کم از کم ایک ہفتہ تک کی ضرورت کا سامان ایک ہی بار گھرلے جائے اور اس کے بعد گھر میں آرام کرے تاکہ اسے بار بار بازا ر آنے کی ضرورت نہ پڑے۔نیشو شرما سینئر لیڈر بی جے پی نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنا نقصان اٹھانے کے باوجود ہم سدھر نہیں رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاو ن کے نفاذ کے تحت پولیس نے جگہ جگہ پر ناکے لگا رکھے ہیں،انتظامیہ کے افسر ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے اور غیر ضروری طور بازاروں کا ر خ کرنے والے ڈرائیوروں کی گاڑیاں بھی سیز کر رہے ہیں۔لیکن عوام اپنے فرائض کیوں نہیں انجام دیتی۔انہوں نے بھی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بلاضرورت بازاروں کا رخ نہ کریں اور کورونا وائرس جیسی مہلوک بیماری سے بچائو کے لیے گھروں میں ہی رہیں۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایمرجنسی میں ہی گھروں سے نکلیں۔ انہوں نے لوگوں سے انتظامیہ کا تعاون کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔