ہمارے لئے ہر صدی میں دین کچھ نہ کچھ بن جاتا ہے۔ کبھی یہ اعتزال بنا، پھر یہ تجرد ہوا، اس کے بعد تفرد، آگے چلیے تصوف، پھر یہ تصلب، نقطوی، شطاری ،مداری علی ھذہٖ۔ اب ہمارے دور میں یہ فرقہ غداری ہوگیا ہے۔ مذکورہ اور غیر مذکورہ افراط و تفریط پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ لہٰذا میں اس کی تکرار سے پرے رہوں گا۔ ان سب میں جو مشترکہ بات ہے وہ یہ کہ دین، دین نہیں رہتا ہے کچھ اور ہو جاتا ہے اب اگر زیادہ سے زیادہ باقیاتِ دین میں کچھ رہتا ہے تو وہ نیکی کا تصور رہتا ہے اور جو ہر زمانے میں بدلتا رہتا ہے۔ اسی پریشانی نے شوپنہار کو تجرد کی طرف مائل کیا پھر اس پاگل پن کا اظہار نطشے نے اپنی کتاب Beyond good and evil میں کیا۔ اور ہمارے زمانے تک آتے آتے یہ تصور اب ڈجٹل بن گیا ہے اور کیوں نہ بن جائے کہ زندگی کا ہر پہلو ڈجٹل صورت میں ڈھل رہا ہے۔ شادی سے لے کر تعلیم و تربیت، وعظ و بیعت اب ڈجٹل ہے۔ ہمارے مذہبی حضرات اب اسکرین اور اسکرینی حضرات اب دین کی زینت بن رہے ہیں۔ چاے کی پیالی ہاتھ میں فضا اکبر، اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج رہی ہے۔ ایک میسیج کو فارورڈ کرنے پر لاکھوں گناہ معاف ہوتے ہیں۔ اور نہ کرنے پر کوگل کے آسیب مسلط اور رزق کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ درود شریف کو لائک کرنے پر جنت کے تمام دروازے کھلتے ہیں۔ اور نہ کرنے پر گستاخ کا تازیانہ ہے ۔ ایک نیم برہنہ دوشیزہ کو غور سے دیکھنے کے بعد ڈس لائک کرنے پر جہنم کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ کبھی محترمہ بلی تلاوت کر رہی ہوتی ہے کبھی وہ تلاوت سن رہی ہوتی ہے۔ اور بہت سے مسلمان زیادہ تر صاحِبات کے دل میں اس سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔ کبھی خربوزہ معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو کبھی آلو اپنی پشت پر اسلام کی نشانی لے گر اُگتا ہے۔ ٹماٹر، بیگن،مٹر یعنی سبزیوں کے ساتھ درخت، میوے، پھل بھی جذبہ اسلام سے سرشار معجزے لے کر اُگتے ہیں اور دوسرے دن وہ معجزے منہ کی وساطت سے براستہ گلہ معدے میں چلا جاتا ہے۔ یوں اس سے اسلام کی حقانیت ثابت ہوتی ہے۔ آپ اس بد ذوقی کا اندازہ لگائیں کہ ہمارے بہت سے صحافی و تجزیہ کار ہر خبر کو حدیث سے ثابت کر رہے ہیں اور اس رفتار سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ 'یہ چنل جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام تک بہت جلد پہنچ جائیں گے اور اس میں کام کرنے والا عملہ وہاں خصوصی طور پر نوازا جائے گا۔ حورو غلمان خس کی ٹٹیوں سے ان کے لئے ہوائیاں پھرائیں گیں۔ اب اسکرین ایسی درگاہ بن گئی ہے جو دین و دنیا کے تمام مکاشفات سے گزار کر ہر طرح کے مشاہدات کرا رہی ہے۔ چاہے وہ روحانی ہوں ہو یا جسمانی ، دینی ہوں یا بے دینی ، رحمانی ہوں یا شیطانی اور بھی۔
یہ سب جدید جہالت ہے جس کا نیکی و گناہ (چہ جائے کہ دین) کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ دین کا تعلق خیرالقرون میں جن اوامر و عوامل سے تھا اور جو نصوص میں ہیں ہر قرن میں انہی سے رہے گا۔ یہ سب نفس کو تسلی (حقیقت میں دھوکہ) دینا اور حیلہ گری ہے۔ جدید دور (حالانکہ مجھے یہ کہنے میں بھی تردد ہے) کے انسانوں کو اپنے آپ کے بارے میں قابلیت، علمیت، اطلاعات، اطلاقیت کا زعم ہے لیکن تاریخی شواہد کی بنا پر یہ صرف ملمع کاری ہے کبھی الفاظ کی، کبھی انداز کی، اور یہاں تک آتے آتے یہ ایک ایک صفت کھوتی چلی گئی بس چند ایک رہ گئی تھیں اب ان کو بھی کھورہی ہے۔ ہم اگر سابقہ لوگوں کے اس طرح کے کرتوتوں پر ہنس رہے ہیں تو یاد رکھیں وہ ہماری ان بچکانہ حرکتوں پر قہقہے ماریں گے، بلکہ تھو تھو تھونکیں گے کہ ہم جو اسکرینوں پر یہ عزیزی بن رہے ہیں۔ خود کو متحرک تصویر بنا کر خوش ہونا چھوڑ دیں، اپنا مزاق بنانا چھوڑ دیں۔ زندگی مشہور ہونے کا نام ہے اور نہ مغرور ہونے کا۔ نہ ہی اس طرح کے پوچ اظہارات مقصود ہیں۔ ہاں اس سے ایک انسان کی ذہنی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ سدھر جائیں! مسلمان نہ بنیں، چلیں نہ بنیں، انسان تو بنیں۔ کب تک ڈاورن اور ارتقائیوں کے نظریوں کے جانور بن کر ہی زندگی گزاریں گے۔ اپنے معلوم کی حد تک انسانوں کی صورت میں انسانوں کی نسل سے جنم لیا ہے تو انسان ہونے کا اب تو کچھ ثبوت دیں۔ اور ان ثوابت میں ادب، تہذیب ، علم و شعور انسان ہونے کی علامات ہیں۔
ہم ایک مغالطے کے شکار ہو گئے ہیں کہ انسان نے ترقی کی ہے۔ انسان نے کوئی ترقی نہیں کی ہے بلکہ اس نے چیزوں کو ترقی کرائی ہے۔ انسانی معمولات میں کوئی خاص تبدیلی و ترقی واقع نہیں ہوتی۔ انسان کھاتا ہے پیتا ہے، اٹھتا ہے، چلتا ہے، پھرتا ہے، ہنستا، روتا جاگتا، شادی بیاہ، بچے، خوشی غم، نوکری، منصب، حکومت۔۔۔ یعنی سب کچھ جو اِس وقت کر رہا ہے، صدیوں سے کرتا آرہا ہے اور ایسا ہی کرے گا۔ جو تبدیلی واقع ہوتی ہے وہ مظاہر میں ہوتی ہے لیکن جہالت کو علم و سائنس کے نام پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے چونکہ جس کو بصورت جو پیش کیا جائے گا وہ بصورتِ وہ قبول کی جائے گی ۔ اس کو انسان میں مستعار دے کے پیش کیا جاتا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے ترقی کی اور ترقی بھی کیا کی کہ انسان سے جانور بن گئے، بیالوجکلی بھی اور سوشیولوجکلی بھی۔ ماں، بہن و بیٹی کو جورو یا باپ، بھائی، بیٹے کو محض یار میں تبدیل کیا، یعنی نینو ٹکنالوجی یا منمل ازم پر بھی عمل پیرا ہوئے ۔ یوں ہم ان نظریات سے مرعوب ہوکر ٹھس ہوجاتے ہیں پھس ہوجاتے ہیں اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ بوڑھے ہوکر سٹھیا گئے اور پاؤں لٹکائے ہوئے ہیں۔ پھر جب مرتے ہیں تو ساری زندگی جس دین کے احکام کی مخالفت کی تھی ،جو بچے ڈاون لوڈ کئے تھے ان کو تاکید کرتے ہیں کہ تختہ کو لوبان کی دھونی دینا نہ بھولنا، ، بیری کے پتوں سے پانی کو گرم کرنا، قبلہ کی طرف منہ رکھنا، وضو کرانا ،جس مولوی کو دو کوڑی کہتا تھا اس سے جنازہ پڑھانا، جن مسلمانوں کو جاہل گنوار کہتا تھا ان کے قبرستان میں دفن کرنا علی ھٰذالقیاس۔
جہل صرف عقل کا کم استعمال ہی نہیں ہے بلکہ عقل کا بے جا استعمال بھی ہے لہٰذا تَوّہُم صرف اقرارِ افعال نہیں ہے(مذکورہ) بلکہ انکارِ افعال بھی ہے۔ اور ایسا دو وجہ سے ہی ہوتا ہے یا عقل کا اقل استعمال یا عقل کا کثر استعمال، اور دونوں عقل کا غلط استعمال ہے! یہی وجہ ہے کہ اب 'اسکرین دانشوروں ' کی ایک نئی کھیپ پک گئی جو بازار میں اب خوب بِک رہی اور بَک رہی ہے۔ مال کے بِکنے کے لئے بَکنے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا بہت بب بب بک بک رہے ہیں۔ (زیر اور زبر آپ خود لگائے)۔ صبح ایک حدیثِ مبارک کا انکار کیا جارہا دوپہر کو دوسرے، سہ پہر کو تیسرے اور شام کو چوتھے۔ کبھی معراج کے واقعے کو داستان بنایا جارہا ہے کبھی غزوات کو رزم قرار دیا جارہا ہے اور اب غارِ حرا کو افسانہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ جہالت پہلی جہالت سے زیادہ جہل ہے اور عامی توہم سے فزوں وہم ہے۔ اس لئے کہ اس میں شعوری کوشش کو دخل ہے اور دین کو ہمیشہ ان شریعت بے زار نفس پرستوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ لہٰذا یہ زیادہ خطرناک ہے۔ میں حیران ہوں کہ ہمارے درمیان شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی، پیرِ طریقت شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی، مفکرِ عصر خلیل الرحمٰن مولانا سجاد نعمانی، شیخِ طریقت، محمود آفندی، مدبر زمانہ یوسف القرضاوی، عالمِ راست قاری صہیب احمد میر محمدی، عبدالرحمٰن العریفی، مفتی نذیر احمد قاسمی اور بہت سے بحرِ ذخار موجود ہیں اور ہم بجائےان کی طرف مراجعت کے خشک کنوؤں کی طرف پیاس بجھانے جارہے ہیں جو ظاہر ہے کہ ہم کو مٹی تو دے سکتے ہیں پانی نہیں۔ اور پیاس مشروب سے بجھتی ہے خاک و دھوپ سے نہیں۔ اپنے منہ میں مٹی دینے سے بہتر ہے اس کو پانی دیں۔ دین کو دین رکھیں اور رہنے دیں جو کہ اسلام ہے اس کو اکبر شاہی کا دینِ الٰہی نہ بنائیں۔ اور آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ اصل دینِ الٰہی کن نے بنایا تھا۔ انہیں عقل کے مت مار نفس پرست نیم مولویوں یعنی ملا عبداللہ سلطان پوری، مولانا عبدالنبی، ملا مبارک ناگواری اور اس کے دو فرزندان فیضی اور ابو الفضل نے۔ ان پر لعنت ملامت تو کرتے ہیں لیکن اپنے دور کے فیضی اور ابوالفضل سے دین کے فتوی حاصل کرکے بے دینی کے مزے اڑا رہے ہیں۔ ہمارا وطیرہ ہے کہ یزید کی صفحوں میں رہتے ہوئے اس کا معاون بن کے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ماتم کرتے ہیں۔
اسلام و اسلاف سے ناواقف کثیر تعلیم یافتہ طبقہ شاید اس مثال کو سمجھے کہ آپ ان ادوار میں رہ رہے ہیں مثلاً اسحاق نیوٹن کے ہوتے ہوئے نظریہ کشش اس کے مخالف کرسٹیان ہئوگنز یا گوٹفریڈ ویلہم لائبنیز سے پوچھ رہے ہیں۔ ڈیکارٹ کے کوگٹو کو بلیز پاسکل سے دریافت کر رہے ہیں ۔ البرٹ آئنسٹائن کے بجا ئے نیلز بوہر سے اس کا نظریہ اضافت معلوم کر رہے ہیں۔ برگساں کے اِلان وائٹل کو وائٹ ہیڈ سے سمجھانے کے لئے کہتے ۔ مرشدِ مرشدین رومی کے معارفِ اسرارِکو اس کے فرزند چلپی علا ءدین سے بیان کرنے کے لئے کہتے ۔ مرشدِ من اقبال کی خودی کی معرفت سید محمد فقیر سے حاصل کر رہے ہیں۔ اسکرینوں پر نظر آنے والے بہت سے لوگ (جو اب مشہور بھی ہوچکے ہیں ) جب طبیعیات، صحافت و ادب کے بجائے اقبال، سیاست اور دین پڑھانے لگیں تو سمجھو کہ کل یوگ چل رہا ہے، اللہ خیر کرے کہ کیا ہو۔ در ہر عصر ہم مشروب و ہر مذہب ہم شعار، اور طرفہ یہ کہ خواب ہیں اسلام کی سربلندی کے۔
'یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے، بھولے بھالے ہیں اقبال۔
واقعی اگر نیکی کرنا چاہتے ہیں قرآن مقدس کی طرف رجوع کرکے سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں اس کے احکام پر بغیر چون و چرا، حیلہ و تاویل کے عمل کریں۔ اور خاص طور عالمی سطح پر اس وقت اسلام اور مسلمانوں کو جو مسائل و خطرات درپیش ہیں اس کے لئے خالی خولی ڈجٹائزیشن کے بجائے مستعدی دکھائیں اور اسوہ رسولﷺ اور طریقہ خلفا و صحابہ رضی اللہ عنہم پر عمل کریں تو کچھ بات بنے۔ یہ حقیقی نیکی ہے اور نیکی مقصود دین نہیں بلکہ صاحب دل جانتے ہیں کہ یہ ایک اشتباب ہے۔ ابو الفیض فیضی نے 'سواطع الالہام کے نام سے اپنی عربی دانی دکھانے اور خود کو معلم و گیانی منوانے کے لئے غیر منقوط تفسیر لکھی۔ اور دوسری طرف اسی کتاب کے احکامات کا سر قلم کر دیا کہ یہ نہ صرف عملاً متروک کرائی گئی بلکہ (اب جو کچھ بھی تھا) رسماً بھی۔ کچھ لوگوں نے چاول پر اپنے فن کے تیر قل ھواللہ پر بھی آزمائے۔ بہت نیک تھے کہ اکبر کے 'دینِ الٰہی میں معاونت کی اور اسلام و ملت اسلامیہ ہندیہ کا وہ حشر کیا جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ سب نیکی کے تصور تھے۔ کاغذی گھوڑے دوڑائے اور کئی مملکتیں فتح کیں وہاں اسلام کے پرچم گاڑھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سب کاغذی تھا۔ او ہو کیوں؟ کیونکہ گوڑھے کاغذی تھے۔