آج ہمارا معاشرہ جس دور میں جی رہا ہے، اُس میں ایک طرف تو مہنگائی نے عام انسا ن کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں ایسی برائیاں اور رسومات پنپ چکی ہیں کہ جن سے معاشرہ مزیدپستی کی طرف چلا جارہا ہے ۔جس معاشرے میں ایک بیٹی کوایک عظیم نعمت سمجھا جاتا تھا آج اُسے بڑی زحمت تصور کیا جارہا ہے۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مہنگائی اور بے کاری کے اس موجودہ دور میںبیشتر والدین کے لئے بیٹیوں کی بہتر پرورش ،تعلیم وتربیت اور اُن کی شادی کروانا نہ صرف محال بن چکا ہے بلکہ اُن کی عزت و عصمت کا تحفظ بحال رکھنا بھی دشوار ہوتا چلا جارہا ہے ۔جس کے نتیجہ میں معاشرے کے زیادہ تر حصہ میں اب بیٹیوں کی پیدائش نا گوار ہونے لگی ہے۔اگرچہ یہ ناگواری یقینا ًقابل افسوس اور قابلِ مذمت ہے اور اس ناگواری میں ان کو قتل کرنے والے بدترین مجرم ہیں لیکن اُن کو یہ سب کچھ کرنے کے لئےکون آمادہ کررہا ہے اور کیوں کروا رہا ہے ،یہ ایک چھُبتا ہوا سوال ہے؟
حال ہی میں وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان موسیقی کار اشفاق کاوا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ویڈیو میںدیکھا جاسکتا ہے کہ موصوف اپنے چند احباب کے ساتھ غالباً کہیںسیر پر نکلے تھے کہ اُنہوں ایک نوزائد بچی مردہ حالت میں ملی۔بعد میں اُنہوں نے خود اُس کو دفن کیا اور ساتھ ہی ساتھ معاشرہ کو بیٹیوں کے حوالے سے ایک پیغام بھی دیا۔وہ بچی کون تھی،کہاں سے تھی ،اُس کے موت کی کیا وجہ بنی ،اس کا حقیقی علم تو اللہ رب العزت کو ہی ہے لیکن پھر بھی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یا تو دور جاہلیت کی طرح کسی ظالم باپ کے لئےبیٹی کا پیدا ہونا ناگوار گزرا ہوگا اور اُس نے ایک ننھی کلی کو کھِلنے سے پہلے ہی مسل ڈالا۔دوسری وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ کسی سے فعلِ بد سرزد ہوا ہو،اور ظاہر سی بات ہے کہ ایسے بچے کو شرمندگی کے ڈر سے نا ہی ماں باپ قبول کرتے ہیں اور اگر وہ کسی وجہ سے اپنا بھی لیں تو پھر وہ بچہ تاعمر سماج کے لعن طعن کا شکار ہوتا ہے۔خیر ان ہی دو وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر ایسے وجوہات رونما کیوں ہوتے ہیں؟ کیوں کوئی فردِ بشر اپنے ہی بچےکو قتل کرنے پر آمادہ ہوتا؟ اور اس سب کے لیے کہیں ہم بھی تو ذمہ دار نہیں؟
ذرا غور کیجئے اوروادی میں عصمت دری کے بڑھتے ہوئے رُجحا ن پر نظر ڈالیئے ۔اگرچہ بھارت کی دیگر ریاستوں میں یہ چیزیں کوئی نئی بات نہ تھی لیکن ہمارے ہاں ایسے سنگین جرائم کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ چند سال قبل شمالی کشمیر سے ایک ایسا واقعہ بھی سامنے آیا، جس نے سب کے رونگٹھے کھڑے کردئے۔ایک بیٹی نے الزام عائد کیا کہ اُس کا اپنا ہی والد،جو ایک رکھوالے کی مانند ہوتا ہے،اُس کی عصمت پر ڈاکہ زن ہے اور کئی عرصے سے اُسکا جنسی استحصال کررہا ہے۔اسی ایک واقعہ پر اکتفا نہ ہوا بلکہ ایسے کئی واقعات بدریج منظرِ عام پر آتےرہے ۔جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام سے ہی گزشتہ مہینوں میں کتنی ایسی خبریں آئیں؟ جن کو سُن کر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔اب آپ ہی بتائیے، جس معاشرےمیں ایک بیٹی کی عفت و عصمت ہی محفوظ نہیں ،وہاں بیٹی کا جنم والدین کو ناگوار نہ گزرے تو اور کیا ہوگا؟اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ عزت و عصمت کے عدم تحفظ کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کا قتل ہی کیا جائے۔اس حوالے سے میرا ذاتی موقف کافی سخت ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ اگر کسی ملک کی حکومت اس جرم کے لیے سنگین ترین قوانین نافذ کرنے کی کوشش کرتی بھی ہے تو انسانی حقوق کے تحفظ کی باتیں آڑے آتی ہیں، اُسے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حیرت ہے کہ اس معاملے میںHuman Rights کارونا رونے والے آخر چاہتے کیا ہے؟ایک بیٹی کسی آٹو میں سفر کرتی ہے،آٹو والا اسے منزلِ مقصود تک پہنچانے کی بجائے کسی سنسان جگہ لے جاتا ہے اور وہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اُس کاجنسی استحصال کرتا ہے،تو کیا ایسا شخص ’انسانوں‘ کے زمرے میں رکھنے کے قابل ہے؟جو شخص انسان ہی نا ہو ،اُس کے لیے کیوں Human Rights کا رونا رویا جائے؟سمجھ سے باہر ہے۔
ہاں! یہ درست ہے کہ اس صورت حال میں جہاں حکومت پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیں وہیں سماج بھی اپنی بہت ساری ذمہ داریوں کسی صورت میں بری الذمہ نہیں۔والدین کے لئےاپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت اس حوالے سے ایک ناگزیز تقاضا ہے۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے چونکہ پڑھائی اب آن لائن ہی ہوتی ہے،ایسے میں آج والدین کو اپنے نا بالغ بچوں تک کو اسمارٹ فون دینے پڑتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی یہ وطیرہ عام ہوچکا ہے کہ گھر بیٹھے بچے تنگ نہ کریں،اس لیے اُنہیں چپ کرانے کا آسان طریقہ یہ بن چکا ہے کہ اُن کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تھما دیا جاتا ہے ۔دورِ جدید میں جہاں لاکھوں فحش Pornویڈیو ہماری اُنگلیوں کے چند اشاروں کے محتاج ہیںوہاں اپنے نابالغ اور کم عمر بچوں کے ہاتھوں میں بلا روک ٹوک اسمارٹ فون تھما دینا کہاں کی دانش مندی ہے؟اگر آپ بچوں کو اسمارٹ فون دیتے بھی ہیں تو اُنہیں اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں ۔اس بات کا خصوصی خیال رکھیں کہ وہ اسمارٹ فون کن کاموں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔فحش ویڈیوز کی دُنیا کم عمری میں ہی ایک بچے کو بالغ بنا دیتی ہے۔یہ دُنیا ایک انسان کے سر پر ایسا بھوت سوار کردیتی ہے کہ وہ بعض اوقات سنگین جرائم کرنے تک پر آمادہ ہوجاتا ہے۔اسی طرح اپنے بالغ بچوں کے نکاح میں تاخیر اُنہیں زنا جیسے دلدل میں دھکیلنے کا کام کرتی ہے اور بعض اوقات حادثاتی طور اگر حمل ٹھہر جاتا ہے تو پھر معصوم بچوں کا قتل ہوجاتا ہے۔بدقسمتی سے آج کل والدین کو اپنے 30سالہ بیٹے بیٹیاں بھی معصوم بچے ہی نظر آتے ہیں۔یہ منطق بالکل سیدھی ہے،جتنی نکاح میں تاخیر ہوگی ،اُتنی ہی بدفعلی بھی عام ہوگی اور جس تیزی سے بدفعلی عام ہوگی ،اُسی تیزی سے ہمیں لاوارث بچوں کی لاشیں بھی ملتی رہے گی۔
تصویر کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ایک شخص نے عمر پر رشوت کھا کھا کر اور لوگوں کا گلا کاٹ کاٹ کر بے شمار دولت جمع کی ہے۔وہ اپنے بچوں کی شادی میں کروڑوں روپیہ صرف کرتا ہے اور بیٹی کو اس قدر جہیز دیتا ہے کہ اُس کی دو نسلیں اُس پر عیش و عشرت والی زندگی بسرکریں۔اُس کا ہمسایہ ایک مزدور پیشہ شخص ہے جس کا گزارا بھی مشکل سے ہی ہوتا ہے۔اُس مزدور کے گھر میں اگر بیٹی پیدا ہوجائے،آپ ہی بتائیں،وہ اُسے کیوں قتل کرنے پر آمادہ نہ ہو؟یہ بات میں ایک مرتبہ پھر واضح کردوں کہ ایک معصوم کلی کا قتل کسی بھی طور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن آپ ہی بتائیں کیا ہم ان قتلوں میں ملوث نہیں؟بہو لاکھوں کا جہیز نہ لے آئے تو اُس کا جینا حرام کیا جاتا ہے اور پھر ہم ہی کہتے پھرتے رہتے ہیں کہ ’’کتنے ظالم لوگ ہے،معصوم بچی کا قتل کردیا۔‘‘شادی بیاہ میں بے جا رسومات کو Normaliseکرنے والے ہم ہی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ’’کاش اس بچی کو قتل کرنے والا مجھے مل جائے،میں اُس کا خون پی جاتا۔‘‘کڑوا سچ تو یہ ہے کہ معصوم بچیوں کا قتل کرنے والے اکیلے مجرم نہیں ۔مجرم وہ بھی ہے جس نے اپنی اولاد کی صحیح تربیت نہیں کی اور بعد میں اُس کی اولادنے کسی کے بہکاوے میں آکراپنی عزت گنوا دی یا کسی کے بیٹے نے پیار محبت کی آڑ میںکسی کی بیٹی کا ریپ کیا۔مجرم وہ بھی ہیں،جن کے بچے کب کے بالغ ہوگئے ،شادی کرنے کا گزارا بھی تھا لیکن پھر بھی اُن کی شادی نہ کی۔مجرم وہ بھی ہیںجنہوںنے اپنی بہوئوں کے والدین کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے میں شرم تک محسوس نہ کی ۔مجرم وہ بھی ہیں جنہوں نے شادی بیاہ کی تقریبات میں اس قدر فضول خرچی کی کہ ایک غریب باپ کے لئے بیٹی کی شادی کرنامشکل بن گیا۔مجرم وہ لوگ بھی ہیں کہ کسی نے اگر سادگی سے شادی کر بھی لی،اُنہوں نے پیٹ پیچھے اُس پر باتیں بنائی۔کسی معصوم کے قتل پرآواز بلند کرنا اچھی بات ہے لیکن ساتھ ساتھ ہمیں اپنا بھی احتساب کرنا چاہئےکہ کہیں اس قتل میں ہماری بھی شراکت داری تو نہیں؟
رابطہ:[email protected]
برپورہ پلوامہ کشمیر