ٓٓعقلمند شخص وہ ہے جو ایک سوراخ سے دوبارہ نہ ڈسا جائے۔ پہلی بار ڈسے جانے کے بعد اسے چاہیے کہ وہ سوارخ کا منہ بند کر دے اور اگر اس کی طاقت و اہلیت نہیں رکھتا تو کم از کم اس سوراخ سے دور رہے۔ یعنی بہرحال احتیاطی تدابیر اختیار کرے اور ممکنہ خطرے کے تدارک کا انتظام کرے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور جان بوجھ کر خود کو ہلاکت میں ڈالتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے سابقہ تجربے سے کوئی سبق نہیں سیکھا یا اس کے اندر کوئی سبق سیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ عوام کو یہ تلخ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ ایک سوراخ سے دو بار ڈسے جا چکے ہیں۔ پہلی بار تو انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ایسا کوئی سوراخ بھی ہے۔ لہٰذا انھوں نے کوئی احتیاطی تدبیر اختیار نہیں کی اور اگر کی بھی تو وہ کوئی بہت زیادہ کارگر ثابت نہیںہوئی۔ اس کے بعد تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ ہوشیار ہو جائیں اور اپنی بقا کا کوئی انتظام کر لیں۔ اگر چہ ماہرین نے احتیاطی تدابیر بتائی تھیں لیکن ان کی زیادہ پابندی نہیں کی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری بار زیادہ لوگ ڈسے گئے اور دوسری بار خطرہ بھی کہیں بڑی شکل اختیار کرکے سامنے آیا۔ قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم کس خطرے کی بات کر رہے ہیں۔ جی ہاں وہ خطرہ کرونا وائرس کا ہے۔ چونکہ یہ ایک نئی بیماری تھی اس لیے دنیا کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود ڈاکٹروں، سائنس دانوں اور ماہرین کی ٹیموں نے احتیاطی نسخے بتائے۔ ان نسخوں پر عمل تو کیا گیا لیکن جس طرح ان کا حق تھا اس طرح نہیں کیا گیا۔ کرونا کی پہلی لہر نے جہاں بے شمار انسانی جانیں لیں وہیں ملکی معیشت کو بھی زبردست دھچکہ پہنچایا۔ لیکن بہرحال اس کا اثر رفتہ رفتہ کم ہوا اور پھر ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے اس کے تدارک کے لیے ویکسین تیار کر لی۔ ابھی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ وائرس نے دوسرا حملہ کر دیا جو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید تھا۔ چونکہ پہلے حملے کے بعد ڈاکروں اور سائنس دانوں نے اس کو تھوڑا بہت سمجھ لیا تھا لہٰذا دوسرے حملے سے قبل اس نے اپنی شکل تبدیل کر لی اور پھر ایسا اٹیک کیا کہ ملک کو سنبھلنے ہی نہیں دیا۔ کرونا کی دوسری لہر کس طرح تباہ کن ثابت ہوئی یہ زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہرحال دوسری لہر بھی زوال پذیر ہو گئی۔ تقریباً تین ماہ کے بعد ہندوستان میں کرونا کے مثبت معاملات کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے اور جس طرح روز بہ روز تعداد میں کمی آتی جا رہی ہے اس سے یہ قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ شاید اب وائرس کی مار مزید کمزور ہوگی۔ مثبت معاملات کی تعداد میں کمی کے پیش نظر مختلف ریاستی حکومتوں نے لاک ڈاون کی پابندیوں کو بتدریج نرم کرنا شروع کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ لاک ڈاون کے ختم ہونے سے ملک میں ٹھپ پڑ جانے والی اقتصادی و تجارتی سرگرمیاں از سرنو شروع ہو جائیں گی اور جو لوگ بے روزگاری کی مار جھیل رہے تھے یا اب بھی جھیل رہے ہیں ان کو دوبارہ ان کا روزگار واپس مل جائے گا اور گزشتہ سال کے ملک گیر لاک ڈاون کے بعد جو لوگ بدحال ہو چکے ہیں ان کی بدحالی میں بھی کمی آئے گی۔
لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رنجیت گلیریا نے ایک بیان میں یہ وارننگ دی ہے کہ اگر لوگوں نے کووڈ گائڈ لائن کی پابندی نہیں کی یعنی ماسک لگانا چھوڑ دیا اور بھیڑ بھاڑ میں گھسنا شروع کر دیا تو ایک بار پھر ملک میں کرونا کی وبا پھیل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا کے معاملات میں کمی کے باوجود ہمیں بد احتیاطی نہیں کرنی ہے اور وبا کے نقطۂ عروج کے وقت جن احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جا رہا تھا ان کو اب بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ احتیاطی تدابیر صرف ان کے لیے ہی ضروری نہیں ہے جنھوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی ہے بلکہ ان کے لیے بھی ضروری ہے جنھوں نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لے لی ہیں، اُن کو بھی ماسک لگانا ہے، بھیڑ بھاڑ سے بچنا ہے، بار بار صابن سے ہاتھ دھونا ہے اور سینی ٹائزر کا استعمال کرنا ہے۔ ڈاکٹر گلیریا کے مطابق اگر احتیاط نہیں کی گئی تو دو ماہ کے بعد تیسری لہر بھی آسکتی ہے اور وہ ممکن ہے کہ وہ کہیں زیادہ خطرناک ہو۔ گزشتہ دنوں دہلی میں ماہرین کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں تیسری لہر کے امکانات پر غور کیا گیا۔ میٹنگ میں مرکزی حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے دہلی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بتایا کہ اگر احتیاط کا دامن چھوڑ دیا گیا تو دہلی میں اگلے سال فروری مارچ میں وبا کی ایک اور لہر آسکتی ہے۔ ڈاکٹر گلیریا کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں طویل مدت تک لاک ڈاون کے باوجود کرونا کی ایک نئی قسم ڈیلٹا ویرینٹ کا پایا جانا ہمیں تشویش میں مبتلا کرتا ہے۔ گلیریا کے مطابق برطانیہ میں ڈیلٹا ویرینٹ کا پایا جانا دو اسباب سے باعث تشویش ہے۔ ایک تو یہ کہ ہندوستان میں بھی یہ قسم موجود ہے اور دوسرے یہ کہ برطانیہ میں بڑی تعداد میں لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے جبکہ ہندوستان میں ابھی اتنے زیادہ لوگوں کو ویکسین نہیں لگائی جا سکی ہے۔ اس نئی قسم کی خطرناک بات یہ ہے کہ یہ دوسری اقسام کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کو انفکٹیڈ کرتی ہے یعنی یہ بہت جلد دوسروں کو متاثر کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ لہٰذا اس نئی قسم سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق دو تین مہینے بہت ہی اہم ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کے 80 ملکوں میں ڈیلٹا ویرینٹ موجود ہے۔ یہ قسم ہندوستان میں بھی پائی جا رہی ہے اور اسے حکومت کی جانب سے تشویش کے زمرے میں رکھا گیا ہے جبکہ اس کی ایک اور قسم سامنے آگئی ہے، اس کا نام ہے ڈیلٹا پلس۔ یہ نئی قسم ابھی نو ملکوں میں ہے جن میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ڈیلٹا ویرینٹ ملک میں تیسری لہر کا سبب بن سکتا ہے۔ حالانکہ ملک میں لگائی جانے والی دونوں ویکسین یعنی کووی شیلڈ اور کو ویکسین اس نئی قسم سے بچاؤ کی اہلیت رکھتی ہیں لیکن اس کے باوجود ویکسین کی دونوں خوراکیں لے لینے والوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کووڈ گائڈ لائن کی پابندی کریں۔ اسی درمیان حکومت نے ویکسین لگانے کے عمل کو تیز کر دیا ہے اور اب تک تیس کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے جن میں سے ایک بڑی اکثریت کو دونوں خوراکیں لگ چکی ہیں۔ چونکہ ہندوستان کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ ہے لہٰذا تمام آبادی کو ویکسین لگانے میں کافی وقت لگے گا۔ ویکسین کی قلت اس دِقت کو اور بڑھا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے دوسری ویکسینز بھی شروع کی جانے والی ہیں لیکن ملکی آبادی کے پیش نظر ویکسین کا عمل کافی وقت طلب ثابت ہوگا۔ لہٰذا عوام کو بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کرونا وائرس اپنی ہئیت بدلنے میں ماہر ہے۔ وہ اب تک اپنی جانے کتنی شکلیں تبدیل کر چکا ہے۔ ابھی تو سب سے خطرناک ڈیلٹا قسم ہے۔ لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگر ہم اس پر بھی قابو پا لیں تو کوئی نئی قسم سامنے نہیں آجائے گی۔ چونکہ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ یہ وائرس کوئی ذی روح یا جاندار وائرس نہیں ہے بلکہ یہ ایک سائنسی وائرس ہے اور جیسا کہ امریکہ کا شبہ ہے کہ یہ چین کے کسی لیب سے لیک ہوا ہے لہٰذا اس پر قابو پانا آسان نہیں ہے۔ کسی بے جان چیز کو مارنا کسی جاندار کو مارنے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
لہٰذا ہمیں یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ کرونا ابھی جانے والا نہیں ہے۔ ابھی سال دو سال ہمیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ ہمیں احتیاطی تدابیر کو اپنی عادت میں شامل کر لینا چاہیے۔ دیکھا یہ جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے لاک ڈاون کی پابندیوں میں ڈھیل دیے جانے کے بعد عوام نے احتیاطی تدابیر میں بھی ڈھیل دینی شروع کر دی ہے۔ اب بازاروں میں ایک بار پھر بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ رہنے لگی ہے اور بازار میں موجود اکثر لوگ مناسب انداز میں ماسک نہیں لگاتے۔ کسی کا ماسک ناک کے نیچے ہے تو کسی کا ہونٹوں کے نیچے تو کسی کا ٹھوڑی کے نیچے۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے ماسک کو بالکل درست انداز میں ناک اور منہ پر لگایا جانا چاہیے اور اس انداز میں اسے لگایا جائے کہ اگر آپ کھانسیں یا چھینکیں تو لعاب کے ذرات باہر نہ جائیں اور اسی طرح اگر کوئی دوسرا کھانسے یا چھینکے یا تھوکے تو اس کے لعاب کے ذرات آپ کی ناک یا منہ تک نہ پہنچ سکیں۔ عام طور پر لوگ درست انداز میں ماسک نہیں لگاتے اور بہت سے لوگ تو ماسک ہی نہیں لگاتے۔ سینی ٹائزر کا استعمال بھی اب بہت کم کر دیا گیا ہے اور صابن سے بار بار ہاتھ دھونا تو لوگوں نے تقریباً ترک ہی کر دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ بہت احتیاط کر لی کتنی کریں۔ جو ہونا ہوگا ہو جائے گا۔ اس قسم کے خیالات تباہی کو دعوت دینے والے ہیں۔ ابھی دوسری لہر کی تباہ کاری کو زیادہ دن نہیں ہوئے۔ کیا لوگ یہ بھول گئے کہ کس طرح اسپتالوں میں بیڈ، آکسیجن اور دواؤں کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ کیا دریائے گنگا و جمنا میں تیرتی لاشیں بھول گئے۔ دریاؤں کے ساحل پر راتوں رات اُبھر آنے والی وہ قبریں ہم فراموش کر چکے جن کے اوپر بھگوا رنگ کی چادریں ڈال دی گئی تھیں اور جنھیں پولیس والوں کی جانب سے ہٹا دیے جانے کے بعد بہت سی لاشیں اوپر آگئی تھیں۔ کیا شمشانو ںمیں جلنے والی چتاؤں کی خوفناک تصاویر کو بھی لوگوں نے ذہنوں سے محو کر دیا ہے۔ کیا قبرستانوں میں قبروں کی روز بہ روز بڑھتی تعداد بھی لوگ بھول گئے۔ جس طرح لوگ آکسیجن سلنڈروں کی خاطر در در بھٹک رہے تھے اور چھ ہزار کا سلنڈر ستر اسی ہزار میں خریدنے پر مجبور تھے، یہ سب باتیں ہوا ہو گئی ہیں۔ مانا کہ عوام کی یادداشت کمزور ہوتی ہے وہ بہت جلد ہر چیز بھول جاتے ہیں لیکن یہ واقعات گزرے تو ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے۔ اتنی جلد کیسے لوگوں نے یہ سب کچھ فراموش کر دیا؟ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر چہ لاک ڈاون کی سختیاں کم کی جا رہی ہیں اور بازار اور مارکیٹ کھولے جا رہے ہیں، لیکن ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا ہے۔ اگر ہم نے ایک بار پھر لاپروائی شروع کر دی تو یاد رکھیں کہ کرونا کی کسی سے دوستی نہیں ہے۔ وہ پھر لوٹ کر آئے گا اور ہمارے اوپر اس طرح حملہ آور ہوگا کہ ہم اس بار اس سے بچاؤ کی کوئی صورت اختیار نہیں کر پائیں گے۔ لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وہ ہوشیار رہیں اور ماہرین کی باتوں پر عمل کرکے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالنے سے گریز کریں۔
موبائل:9818195929