برسات کے موسم اور ڈائیریا کا ساتن ازل سے ہے ۔اسہال (ڈائیریا) کے مختلف حالات میں پانی اور نمکیات کی کثیر مقدار بدن سے یوں خارج ہوجاتی ہے گویا آنتوں سے جھرنا جاری ہوتا ہے۔مریض پر نقاہت غالب آجاتی ہے ۔بدن کے سبھی نظام متاثر ہونے لگتے ہیں ۔بدن سے مائیت خارج ہونے کی وجہ سے خون کی سیاست کم ہوجاتی ہے ،وہ گاڑھا ہونے لگتا ہے ۔اسہال کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی زیادہ مائیت بھی بدن سے نکل جاتی ہے ۔اسی لحاظ سے بدن کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے ۔اسی سبب ہیضہ (کالرا) کا مرض مہلک مانا جاتا ہے۔کیونکہ اس میں بدن سے اتنا زیادہ خارج ہوجاتا ہے کہ خون رگوں میں دوڑنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے،جمنے لگتا ہے اگر بروقت اس کی سیالیت کو طبعی بنانے کی تدابیر اختیار نک کی جائے تو اعضاء رئیسہ (گردے ،جگر،قلب و دماغ)پر تباہ کُن اثرات پڑتے ہیں،یہ اعضاء بیک وقت اپنا فعل انجام دینا بند کردیتے ہیں اور موت واقع ہاجاتی ہے۔
’’ہیضہ ان امراض میں سے ہے جس میں صرف حضرت انسان مبتلا ہوتے ہیں اور اگرچہ بالعموم برسات کے موسم میں پھیلا کرتا ہے اور وقتی ہوتا ہے لیکن بھارت کے بعض مقامات مین مثلاً گنگا اور برہم پتر کے کناروں پر یہ مرض بارہ مہینے رہتا ہے۔‘‘(شرح اسباب ،جلد دوم)کالرا کے اسہال کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں فضلہ نظر نہیں آتا بلکہ صرف چاول کے بیج کی طرح پانی ہوتا ہے ،یہ بے بو اور بے رنگ اور اس کی تعداد بھی دو ،پانچ یا دس نہیں ہوتی بلکہ اکثر دن بھر میں پچاس سے زیادہ بار اور کبھی سو تک تجاوز کرتی ہے۔یہ مرض (vibrio cholerae)نامی جرثومے سے لاحق ہوتا ہے اور شدید قسم کا متعدی مرض ہے۔
مختلف اسہالی حالات میںبدن سے پانی اور نمکیات کے خارج ہوجانے کی صورت میں سب سے پہلا قدم تو یہی ہوتا ہے کہ کسی طرح بدن میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرکے خون کے گاڑھے پن کو سیالت اور اعتدال کی جانب پلٹایا جائے ۔اس غرض کے لئے ماضی میں شکنجین سادہ پانی میں عرق گلاب یا عرق لیموں کے ہمراہ دیا جاتا تھا اور مریض کو برف چوسنے کے لئے دیا جاتا تھا ۔اس طرح بڑی حد تک مریض کی اعانت ہوجاتی تھی لیکن بنگلہ دیش اور مشرقی ہند میں بیسویں صدی کی ساتویں دہائی کے عرصے میں وسیع پیمانے پر کالرا کے پھیلنے اور ماوات کی کثرت کے دوران یہ مطالعہ کیا گیا کہ اسہالی کیفیت میں گلوکوز (Gulocose)کا محلول منہ کے راستے مریضوں کو دیا جائے تو اس کے آنتوں میں پہنچنے کے بعد آنتوں کی قوت انجذاب بیدار ہوجاتی ہے ۔وہاں سے نمکیات کے جذب ہونے کا عمل بھی آسان ہوجاتا ہے۔اس مطالعے کی روشنی میں ایک سفوف ترکیب دیا گیا جس میں کھانے کا نمک (3.5gm) کھانے کا سوڈا(2.5gm)اورپوٹا شیم کلورائیڈ(1.5gm)کی متعینہ مقدار اور بیس گرام گلوکوز شامل ہے ۔اس سفوف کو ایک لیٹر پانی میں گھول کر مریض کو دیا جاتسکتا ہے۔اسی فارمولے کو عالمی تنظیم (W.H.O)کی سفارش حاصل ہے۔
بدن میں پانی کی کمی:آگے بڑھنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بدن میں پانی کی کمی کی واضح علامات کا بھی تذکری کیا جائے جومرض کی مختلف کیفیات کا مظہر ہیں۔جیسے پانی کی کمی معمولی نوعیت کی ہے ۔اوسط درجے کی ہے یا شدید نوعیت کی ہے ،اس لئے انہیں خالصے کے ساتھ ہی ذیل کے جدول میں درج کیا جاتا ہے۔
(۱) علامت : مریض کی ظاہری حالت۔ معمولی حالات :باہوش ،بے چین ،پیاس کی شدت۔شدید حالات: انتہائی نحیف اور بے ہوش یا غنودگی ،جلد ٹھنڈی ،پانی پینے کی تاب نہیںہوتی۔
(۲)علامت : جلد کی لچک۔معمولی حالات: حسب معمول یا معمول سی کمی ۔شدید حالات : بالکل کم یا معدوم۔
(۳) علامت: نبض: معمولی حالات :موجود ہوتی ہے۔شدید حالات :انتہائی باریک یا غائب۔
(۴) علامت: آنکھیں اور تالو (بچوں میں):مومولی حالات: طبعی یا معمولی دھنسی ہوئی۔شدید حالات : گڑھے میں دھنسی ہوئی۔
(۵)علامت: پیشاب: عموماً طبعی مقدار۔شدید حالات : معمولی مقدار میں یا بالکل نہیں۔
مذکورہ حالات معمولی اور انتہائی شدید اسہال کی کیفیت کے لحاظ سے پیش ااتے ہیں لیکن درمیانی حالات باعتبار شدت مرض پائے جاسکتے ہیں۔ان تمام حالات میں مرض کا علاج بہدف ضروری ہے لیکن بدن سے پانی کی کمی کو دور کرنا اس سے مقدم ہوتا ہے۔
منہ کے ذریعہ دیئے جانے والے نمک اور گلوکوز کے محلول کی تاری کے علاج کے اخراجات کافی کم ہوگئے ہیں ۔اب مریض کو اسپتال کی بجائے گھر پر بھی رکھا جاسکتا ہے اورا سے بنانے کا طریقہ بھی کافی آسان ہے۔گھر میں بھی اسے تیار کیا جاسکتا ہے اور بازار میں اس سفوف کے تیار پیکٹ بھی دستیاب ہین اسے سادہ طریقے سے پانی میں گھول کر پلایا جاسکتا ہے۔(گھولنے سے قبل پانی کو اُبالنا بھی جاسکتا ہے لیکن یہ کوئی ضروری امر نہیں)
اسہال کا عارضہ اکثر چھوٹے بچوںکو زیادہ گھیر لیتا ہے اس لئے اس جانب خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔یہ تسلیم شدہ مشاہدہ ہے کہ چھوٹے بچے بازار میں دستیاب مختلف ذائقے دار تیار پیکیٹ (O.R.S)کو زیادہ پسندنہیں کرتے ہیں اس کے برعکس انہیں گھر میں نمک شکر کا محلول تیار کرکے دینے پر اسے قبول کرلیتے ہیں ۔اس لئے آیئے گھر میں تیار کئے جانے والے شکر اور نمک کے محلول کو آسانی سے تیار کرنے کے طریقے کو سمجھ لیں۔
اشیائے ضروریہ : دو گلاس پانی ایک چمچہ بھر شکر اور (انگوٹھا شہادت کی انگلی اور قسطی انگلی کی)دو چٹکی نمک،اس آمیزے کا محلول تیار کرکے دو چار قطرے لیموں کے اضافہ کردیں اور جس قدر ہوسکے زیادہ سے زیادہ پلایا جائے اور او وقت کا خیال رکھا جائے ،جب بدن سے پانی کی کمی کی تمام مذکورہ علامات ختم ہوجائیں۔
سمجھ کی غلطی: اکثر مطب میں چھوٹے بچوں کے تعلق سے جب طبیب حضرات والدین کو تجویز کرتے ہیں کہ اسے شکر کا پانی دینا ضروری ہے تو سمجھنے میں غلطی ہوجاتی ہے ،گھر جاکر وہ ایسا کرتے ہیں کہ شکر کو پانی میں اُبالنے کے لئے ااگ پر رکھ دیتے ہیں ،جب یہ ابل جاتا ہے تو اسے ٹھنڈا کرکے بچے کو پلاتے ہیں،شکر (کھانڈ)پانی کا یہ گھول بچے کے لئے زیادہ فایدہ مند نہیں ہے کیونکہ گرم ہونے کے بعد شکر کی اپنی طبعی ترکیب (ماہیت) بدل جاتی ہے اور بدن میں اس کا عمل کچی یا سادہ شکر کی طرح نہیں ہوتا اس لئے پانی کو علاحیدہ اُبال کر سرد کرلینا چاہئے اور پلانے کے لئے کچی شکر اس میں گھول کر استعمال کرائیں ۔درج بالا سطور مین شکنجین کے تعلق سے بھی لکھا گیا ہے ۔اسی بات کو آگے بڑھاکر عرض کیا جاتا ہے کہ شکنجین کی شکر (یا شہد) بھی قوام ساختہ ہوتی ہے اس لئے سادہ گلوکوز کی طرح منافع نہیں دیتی ۔سکنجین کے دیگر اجزاء سے قے یا سفراکی حدت میں تو فایدہ حاصل ہوتا ہے لیکن بدن میں پانی اور نمکیات کی کمی کے سلسلے میں اس کے فواید (O.R.S)کی بہ نسبت بہت تھوڑے ملتے ہیں۔