ہمارےملک کو آزاد ہوئے قریباًپون صدی گزر گئی لیکن اتنا لمبا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی یہاں کے محنت کش مزدور کووہ سہولیات فراہم نہیں ہوسکیں جن کا وہ حقدار تھا ۔جمہوری ملک ہونے کے ناطے جو قوانین غریب مزدور اور مستحق لوگوں کے لئے بنائے گئے تھے اُن پر آج بھی پوری طرح عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔جس کے نتیجہ میںغریب کی حالت وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بدتر ہورہی ہے۔ ان کی آمدنی میں ایسی کوئی بڑھوتری نہیں ہوئی کہ وہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلا سکیں۔ شاید ایک مزدور کے بچے کی قسمت میں مزدوری کرنا ہی لکھا ہوتا ہے۔یہاں کے کمسن میں بچے مزدوری کیوں کرتے ہیں؟اس کی طرف کوئی ٹھوس توجہ نہیں دی جاتی۔ جس عمر میں ان بچوںکے ہاتھ میں کتاب، کاپی اورکھیل کا سامان ہونا چاہئے تھا وہ بچے اپنے کندھوں پر بوجھ اُٹھاے پھر رہے ہیں۔ جو وقت انہیں پڑھائی اور کھیل کود میں گزرنا چاہئے تھا، وہ وقت اُنہیں اپنے کھانے پینےکا سامان حاصل کرنےکے لئےمختلف کارخانوں میں مزدوری کرنے میںصرف ہوجاتا ہے۔اپنی مفلسی اور خستہ حال گھریلوحالات ہی جہاں انہیں حصول تعلیم سے دور کرتے ہیں وہیںکم سنی کی عمر سے ہی انہیں روزگار کی جدوجہد میں ڈال دیتے ہیں۔جس سے ان کی تعلیم، اُن کاذہن اور معاشرتی اقداربُری طرح متاثر ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سماجی کارکن شیر دین ماگرے کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی کئی مفلس ،غریب و یتیم بچوں کو وظیفہ فراہم کیا جاتا تھا لیکن آج جو بھی فنڈس غریب بچوں کی فلاح و بہبودی کے لیے مختص کی جاتی ہے وہ ان تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔جبکہ روز بروز بڑھتی ہوئی بے روزگاری بھی بچہ مزدوری کی ایک بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے۔ غریب والدین آمدنی کی خاطر اپنے نابالغ بچوں سے ان کا بچپن چھین کر روزگار میں لگا دیتے ہیں۔جوکہ افسوس ناک امر ہے۔اس سلسلے میں جب ہم نے 14سال کے ایک نابالغ مزدور شمیم احمد وانی سے بات کی تو اس کا کہنا تھا کہ میں مدرسے میں تعلیم حاصل کرتا توتھا لیکن میرے والد کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہتاہے۔ جس کی وجہ سے مجھے اپنی والدہ اور دیگر پانچ چھوٹے بہن بھائیوں کی کسی حد تک کفالت کے لئےمزدوری کرنی پڑتی ہے۔ حال ہی میں شمیم نے مدرسہ سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعداب ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ جس سے گھر کی کفالت ہورہی ہے۔آگے پڑھنے کے شوق کے باوجود گھر کے حالات کی وجہ سے مجھے کام کرنے کو مجبور ہونا پڑا۔لیکن افسوس مجھے اس بات کا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی وظیفہ یا معاوضہ نہیں دیا گیا۔ شمیم نے بتایا کہ میری طرح ایسے سینکڑوں طلباء ہیں جو ایسی ہی کسی لاچاری کی وجہ سے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔اس نے کہاکہ مجھے اعلی تعلیم کا بہت شوق ہے لیکن حالات نے مجھے اس قابل نہیں رکھا۔آج میں مزدوری کرکے اپنے گھر کا خرچہ بھی چلاتا ہوں اور اپنا مکان بنانے کی خواہش بھی میرے دل میں زندہ ہے۔البتہ میں ان بچوں کی طرف نظر دوڑاتا ہوں جو بچے مزدوری کرکے میری طرح اپنے گھر کا خرچہ چلاتے ہیں۔انہیں کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا اور وظیفہ نہ ملنے کی وجہ سے نہ جانے کتنے بچوں کا مستقبل خاک میں مل گیا ہوگا۔
جب ہم نے شمیم کی والدہ سے بات کی تو ان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے بچے مزدوری کریں لیکن گھریلوحالات نے میرے بچوں کو گھر کا خرچہ اٹھانے پرمجبور کر دیاہے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے میں خودمزدوری کرتی تھی اور اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتی تھی۔لیکن جب میرے بچے جوان ہو گئے اور میری مزدوری کے بعد بھی خرچے میں اضافہ ہونے لگاتومجبورا میرے بچوں کوبھی مزدوری کرنی پڑ تی ہے۔ شمیم کی ماں نے بتایا کہ حکومت کے سامنے کئی مرتبہ گڑگڑائی،کئی مرتبہ انتظامیہ کے پاس اپنی درد بھری کہانی لے کر گئی۔لیکن سب کچھ بے سود ثابت ہوا۔
ایک اور کم عمرمزدور آصف حسین ماگرے سے بات ہوئی کہ آخر اسے مزدوری میں شامل ہونے کی کیا وجہ ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ گھر کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ والدین میری پڑھائی کا خرچ برداشت کر سکتے۔ جس گھر میں کھانے کے لئے دو وقت کی روٹی کا مشکل سے انتظام ہوتا ہو اس گھر کے بچوں سے پڑھائی میں بہتر کارکردگی کی امید بے معنی ہے۔آصف نے بڑے ہی تلخ انداز میں کہا کہ مزدوری کرنا نہ ہی کسی کا شوق ہے اور نہ ہی کوئی چاہتا ہے، مگر حالات اسے مجبور کر دیتی ہے۔اس نے کہا کہ حکومت بدلنے سے نہ ہی مزدوروں کی زندگی میں فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مزدورکے بچوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔اگرچہ حکومت سے بڑی امیدیں ہوتی ہیں کہ ہم غریب بچوں کو پڑھائی جاری رکھنے کے لئے وظیفہ ملے گا۔ ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح تعلیم حاصل کر علاقہ اور ملک کا نام روشن کرینگے۔لیکن وظیفہ نہ ملنے کی وجہ سے ہماری تعلیم کا اصل معیار ختم ہو جاتا ہے۔ہمیں گھر میں کھانے پینےکا انتظام کرنے کے لئے ماں باپ کے ساتھ مزدوری کرنی پڑتی ہے۔۔یہ ایک فکر انگیز کہانی ہے کہ مزدوری کے دوران جب طلباء اسکول جاتے ہیں تو ان کی آدھی فکر تعلیم سے زیادہ مزدوری پر ہی ہوتی ہے۔ان کو لگتا ہے کہ ہماری تعلیم سے زیادہ ضروری ہماری مزدوری ہے جس سے ہم روزمرہ کی زندگی میں سامان پورا کرتے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے مستقبل کو داؤ پر لگانے والے ہمارے اپنے ہیں، قوم کے وہ رہبر ہیں جوانہیں وظیفہ فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے منھ موڑ لیتے ہیں۔کم عمرمیں مزدوری کرنے سے بچوں کے ذہن پردباؤ بہت بڑھ جاتا ہے۔یہ دباؤ بچے کو کسی بھی امتحانات میں کامیاب ہونے سے روک دیتا ہے۔آصف کا کہنا ہے کہ مزدوری کرنے کی وجہ سے اب میرا ذہن پڑھنے میں بلکل نہیں لگتا ہے۔ ہر وقت ذہن میں مزدوری کا ہی خیال آتا رہتا ہے۔آصف نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے جیسے کئی بچے ہیں جن کا مستقبل بالکل داؤ پر لگ چکا ہے۔اگر ہمارے حق میں بہتر انتظام نہیں کئے جاتے تو ہمارا اسکول جانابھی چھوٹ جائےگا۔ اس نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ ہر اسکول کا دورہ کیا جائے اور جو غریب بچے ہیں انہیں تحفظ فراہم کی جائے،تاکہ بہت سارے طلباء اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔
اس سلسلے میں سوشل ویلفیئر کے ایک آفیسر نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے غریب طلباء کے لیے وظیفہ فراہم کیے جاتے ہیں۔لیکن والدین کو اس کی جانکاری نہیں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اس وظیفہ کا فایدہ نہیں اٹھا پاتے ۔سوال یہ ہے کہ اگر والدین کو اس کی جانکاری نہیں ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت اپنی تعریف میں اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار شائع کروا سکتی ہے؟کون ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ ملک کے غریب اور مزدور کا بچہ بھی پڑھ لکھ کر آگے بڑھے؟کوئی نہیں چاہتاکہ مزدور کا بچہ مزدور ہی بنے۔
������