ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں آئے روز جنگلات کے ناجائز کٹاو¿ کی وڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوتی آرہی ہیں تاہم محکمہ ہر بار اس کی تردید کرتا ہے۔ ادھر جنگلات ڈویڑن بھدرواہ کے رینج بھلیسہ کمپارٹمنٹ 104 ،105 و 106 میں بڑے پیمانے پر سبز سونے کے ناجائز کٹاو¿ کی ویڈیو بھی گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں محکمہ کا ایک ملازم یہ کہہ رہا ہے کہ ان درختوں کی کٹائی کی اجازت باقاعدہ طور پر حکام نے دی ہے تاہم وہ درخت سبز ہوتے ہیں جس پر کئی صارفین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ کو ہدف تنقید بنایا۔صارفین کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی درست کہ تعمیرات کے لئے محکمہ کی اجازت لینا لازمی ہے لیکن سبز درختوں کی کٹائی پر سختی سے پابندی لگنی چاہیے۔سرپنچ پنچائت گڑیکھڑا طارق حسین شیخ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ کی ملی بھگت سے جنگلات کو بھاری نقصان پہنچایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکام نے چھوٹے پودوں کی باڑ بندی کرنے کے لئے ایک پروجیکٹ منظور کروا کر لایا تھا لیکن محکمہ نے غیر معیاری کام کیا جس کی وجہ سے چھوٹے پودوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے محکمہ کے کچھ ملازمین اسمگلروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے سبز سونے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ طارق حسین نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر جنگلات و باالخصوص چھوٹے پودوں کے تحفظ کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔سرپنچ نے حکام سے جنگلات کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات کرنے و اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جب رینج آفیسر بھلیسہ سریش جموال سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں ان کی ٹیم نے سو کنال کے قریب اراضی پر ناجائز قبضہ چھڑایا تھا جس کے بعد کچھ لوگ محکمہ خلاف سازشیں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو درخت ویڈیو میں دکھایا گیا ہے وہ سوکھا ہے اور اسکی باقاعدہ طور پر منظوری دی گئی ہے۔رینج آفیسر نے لوگوں و پنچائتی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ جنگلات کے تحفظ کیلئے محکمہ کو اپنا مکمل تعاون کریں۔