سرینگر //کشمیر میں 45فیصد آبادی مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں ۔ ذہنی امراض کے خصوصی اسپتال کاٹھی دروازہ میں ذہنی صحت کے عالمی دن کے سلسلے میں منعقد کی گئی تقریب کے دوران مقررین نے کہا کہ ذہنی بیماریاں آنے والے وقت میں ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ عملہ کی کمی لوگوں کو علاج فراہم کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے زیر نگران کام کرنے والے ذہنی بیماریوں کے خصوصی اسپتال کاٹھی دروازہ میں ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر منعقد کی کئی تقریب میں ایڈیشنل کمشنر کشمیر عابد حسین قرہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ تقریب میں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر ، انچارج پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر تنویر حسین اور ذہنی بیماریوں کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد مقبول ڈٖار سمیت دیگر ماہرین و طلبہ موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل کمشنر کشمیر عابد حسین قرہ نے کہا ،’’ عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف عام لوگ ذہنی بیماریوں کے شکار ہوئے ہیں بلکہ کووِڈ مریضوں کو علاج فراہم کرنے والے ڈاکٹر بھی مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا ،’’پہلے لوگ ذہنی بیماروں سے دور بھاگتے تھے لیکن بعد میں ڈاکٹروں کی انتھک محنت کی وجہ سے لوگ ان بیماریوں کو عام بیماریوں کی طرح ہی سمجھنے لگے اور ان کا علاج کرنے لگے ‘‘۔ ایڈیشنل کمشنر کشمیر نے کہا کہ ذہنی بیماریاں آنے والے وقت میں ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئیں گی اوراس کیلئے ہمیں پہلے سے تیار رہنا ہوگا۔ ایڈیشنل کمشنر نے ڈاکٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے جانکاری بڑھانے کیلئے پروگراموں کا انعقاد کریں‘‘۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر نے کہا ’’ کشمیر میں بالغ آبادی میں 45فیصد لوگ ذہنی بیماریوں کے شکار ہیں جن میں بے قراری،مجروحیت کے مابعدذہنی انتشار اور نشیلی ادویات کی وجہ سے ہونی والی ذہنی بیماریاں شامل ہیں‘‘۔ڈائریکٹر ہیلتھ نے کہا کہ محکمہ صحت کیمونٹی ہیلتھ سینٹروں، سب ضلع اسپتالوں اور ضلع اسپتالوں میں بھی ذہنی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹروں کی دستیابی کو یقینی بنانا چاہتا ہے لیکن افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے ضلع سطح پر ذہنی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو علاج فراہم کرنے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے‘‘۔ڈاکٹر ہیلتھ سروسز نے کہا کہ پلوامہ ، شوپیان ، کولگام اور بڈگام میںاے ٹی ایف (Adiction Treatment Facility) کی سہولیات تیار ہوگئی ہیں اور آئندہ چند دنوں میں ادویات کی دستیابی کے ساتھ ہی ان اضلاع میں ذہنی مریضوں کو علاج میسر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دیگراضلاع میں بھی اے ٹی ایف کی سہولیات پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے ڈسٹرکٹ مینٹل ہیلتھ پروگرام کے تحت ذہنی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹروں کی تنخواہیںبڑھاکر 85ہزار کردی ہیں جبکہ پروگرام کے تحت ڈاکٹروں کو دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر نے کہا کہ36ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی تربیت کا پروگرام مکمل ہوگیا ہے اور اب ان ڈاکٹروں کو مختلف سی ایچ سی، پی ایچ سی، ضلع اور سب ضلع اسپتالوں میں تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت محکمہ صحت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ڈاکٹر ہیلتھ سروسز کے علاوہ انچارج پرنسپل جی ایم سی سرینگر ڈاکٹر تنویر معسود، میڈیکل سپر انٹنڈنٹ اعجاز احمد شاہ،، ذہنی بیماریوں کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد مقبول ڈار،سینئر پروفیسر ڈاکٹر ارشد حسین، پروفیسر یاسر احمد راتھر اورڈاکٹر اعجاز احمد خان بھی موجود تھے۔