سرینگر//جموںوکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصرالاسلام نے کہا ہے کہ 5اگست کے بعد مرکزی حکومت نے نارملسی اور حالات بدلنے کے دعوے کئے تھے، ملی ٹینسی پر قابو پایا گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جو زمینی حالات ہیں وہ اسکے برعکس ہیں،بلکہ ہم 1990میں واپس پہنچ گئے ہیں‘‘۔ انکا کہنا تھا ’’ حالات 1990میں واپس پہنچ گئے ہیں‘‘۔ مفتی ناصرالاسلام دیگر کئی علماء سمیت اتوار کو آلوچی باغ سرینگر میں مہلوک پرنسپل سپندرکور کے گھر گئے اور لواحقین سے تعزیت کی۔ نامہ گاروں سے بات کرتے ہوئے مفتی اعظم نے کہاکہ ’’میں سمجھتا ہوںکہ زمینی حالات جو ہیں،وہ ان دعوئوں کے برعکس ہیں جو جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کے وقت کئے گئے تھے‘‘۔ انہوںنے کہا کہ’’ جس کسی نے بھی سپندر کورکو مارا ہے،میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بہت بڑے پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہئے کیونکہ مجھے نہیں لگ رہا ہے کہ کسی کو ہم، اس میں بدنام کرسکتے ہیں ،بغیر تحقیقات کے، یا کسی کا بھی اس میں ہاتھ ہوسکتا ہے؟،اُس نے ہندئوں اور مسلمانوں اور سکھوں اور کشمیری مسلمانوں کے درمیان اختلافات کوپیدا کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔ اقلیتوں میں ڈر اور وادی چھوڑنے پر ناصرالاسلام نے کہاکہ جتنے بھی سکھ برادری کے لوگ ہیں، میں نے ان کو یہ یقین دہانی دی ہے جس نے بھی یہ حرکت کی ہے، یہ بزدلانہ حرکت ہے ، قابل مذمت حرکت ہے اور شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہیں لیکن کسی کمیونٹی کو اس کیلئے مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے جب تک نہ اس کی تحقیقات ہو‘‘۔ مسلمان فرقہ سے سکھ برادری کو گلہ شکوہ کے بارے میں پوچھنے پر مفتی ناصرالاسلام نے کہاکہ ’’میں جموںوکشمیر میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہوں، اگر آپ یہ مانتے ہیں تو آپ کو احساس ہونا چاہئے میرا آنا کونسی ترجمانی ہے، ہم تو پہلے بھی سکھ برادری کے ساتھ ہیں اور آگے بھی رہینگے‘‘۔ مفتی ناصرالاسلام کے ہمراہ دیگر علمائے کرام بھی موجود تھے۔