بانہال// محکمہ دیہی ترقی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور فراڈ طریقوں سے سرکاری رقوم ہڑپنے کے الزامات اور خبریں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں اور تازہ واقع میں بانہال بلاک کی چاپناڑی پنچایت میں پرائم منسٹر آواس یوجنا کے تحت جن لوگوں کو مکان منظور کئے گئے تھے ،ان کی رقوم دوسرے افراد کے بنک کھاتوں میں ڈالی گئی ہیں جن میں سے بیشتر لوگوں کے نام نامعلوم ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے پوری پنچایت گنڈ عدلکوٹ بی چاپناڑی کے لوگوں میں محکمہ دیہی ترقی کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ پی ایم آواس یوجنا کے تحت سروے میں آئے مستحق قرار پائے افراد کے بجائے مکان تعمیر کرنے کیلئے رقوم کی قسطیں دوسرے بنک کھاتوں میں ڈالنے کی شکایات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے بلاک ڈیولپمنٹ افسر بانہال نے تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے پیر کے روز بانہال بلاک کی گنڈ عدلکوٹ بی چاپناڑی کا دورہ کرکے زمینی سطح پر تحقیقات کی۔ بانہال بلاک ہیڈکوارٹر سے محض پانچ چھ کلومیٹروں کی دوری پر واقع پنچایت چاپناڑی کے ایک وفد نے محمد ایوب ، جعفر حسین اور رئیس احمد کی قیادت میں کشمیر عظمیٰ سے ملاقات کی اور محکمہ دیہی ترقی بانہال کی طرف سے رقم کی گئی ناانصافی کی روداد بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ PMAY کے تحت جن لوگوں کے نام مفت مکان منظور ہوئے تھے اور جن مستحقین کی ID اور جیو ٹیکنگ محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین نے کاغذی لوازمات سمیت پوری کر دی تھیں ان کی رقوم کی قسطیں ایسے نامعلوم اور صاحب ثروت افراد کے بنک کھاتوں میں ڈالی گئی ہیں جو اس رقم کے مستحق نہیں تھے۔ انہوں نے کہا محکمہ کے ملازمین نے چند لوگوں کے ساتھ ملکر ان سرکاری رقومات کو مبینہ طور پر ہڑپ کیا ہے اور وہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ دیہی ترقی سے حاصل کئے گئے ریکارڈ کو پیش کرتے ہوئے کئی نامعلوم اور معلوم مگر غیر مستحق افراد کی نشاندھی کی جن کو پرائم منسٹر آواس یوجنا کے تحت پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپئے تک کی رقم ایک اور دو قسطوں کے ذریعے بنک کھاتوں میں ڈالی گئی ہیں جبکہ جن کے نام کاغذی لوازمات تیار کئے گئے تھے وہ لسٹ سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن نامعلوم افراد کے بنک کھاتوں میں مبینہ فراڈ کرکے یہ رقم ڈالی گئی ہے ان میں سے بیشتر افراد کا تعلق چاپناڑی پنچایت سے ہے ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دس دس سال سے مفت مکانوں کیلئے تمام تر کاغذی لوازمات پوری کرنے کے بعد مکان ملنے کی امید لگائے بیٹھے غریب مستحقین کی امیدیں محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین کی ان مبینہ دھاندلیوں کی وجہ سے خاک میں مل گئی ہیں او رکئی درجن معاملات مزید ہیں جن میں مستحق افراد کے حق کو مارا گیا ہے۔اس سلسلے میں بات کرنے پر حال ہی میں تعینات کئے گئے بلاک ڈیولپمنٹ افسر بانہال عامر حسین ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان کی بانہال میں تعیناتی کے فوراً بعد کچھ لوگوں نے یہ شکایت کی تھی کہ پرائم منسٹر آواس یوجنا کے تحت جن افراد کو مفت مکان منظور کئے گئے تھے ان کی رقوم دوسرے افراد کے بنک کھاتوں میں ڈالی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شکایت کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس معاملے کی تحقیقات کرے گی اور اس ٹیم نے پیر کے روز چاپناڑی پنچایت کا دورہ بھی کیا ہے اور ٹیم کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں انہیں پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کی بنیاد پر دوسرے بنک کھاتوں میں رقوم ڈالنے کا معامہ کھل کر سامنے آئے گا اور اس کے بعد ہی اس معاملے میں مزید کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات مستحق افراد کے نام یا ولدیت کے غلط اندراجات اور کمپوٹر میں انٹری کے دوران غلطیوں کی وجہ سے بھی ہوسکتے ہیں اور اس کیلئے تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ہی کچھ کہا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جن غیر مستحق افراد کے بنک کھاتوں میں یہ رقم ڈالی گئی ہے اسے کسی بھی صورت میں ان سے واپس وصول کیا جائے گا اور اس کیلئے کسی بھی قسم کی کوئی نرمی برتی نہیں جائے گی۔ عامر حسین نے مزید بتایا کہ اس بارے میں نامزد کمیٹی کی تحقیقات اور دریافت سامنے آنے کے بعد مزید کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور مستحق افراد کو ان کا حق دیا جائے گا۔