سرینگر//موجودہ دور میں جموں وکشمیر کو سب سے زیادہ نقصان ہونے کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیرکے سابق وزیراعلی اور کانگریس کے سینئرلیڈر نے غلام نبی آزادکہا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا کل جماعتی میٹنگ کے دوران یقین دلایاگیا تھا اب پہلے اسمبلی الیکشن اور بعدمیںریاستی درجہ بحال بحال کرنے کابیان سامنے آ یاہے جو جموںو کشمیرکے لوگوں کے ساتھ سب سے بڑا مذاق ہوگا۔ایک خبررساںایجنسی کے مطابق کانگریس کے سینئرلیڈر اورجموں وکشمیر کے سابق وزیراعلی غلام نبی آزادنے مرکز وزیرداخلہ امت شاہ کی جانب سے جموںو کشمیرمیں دیئے گئے بیانوں پرحیرانگی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ جموںو کشمیر کاخصوصی درجہ واپس لینے کے بعد معاشی واقتصادی طور پرسب سے زیادہ نقصان جموںو کشمیر کواٹھاناپڑا اور اب بھی لوگ معاشی اور اقتصادی بدحالی سے دو چار ہیں ۔سابق وزیراعلی نے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کی جانب سے پہلے اسمبلی الیکشن اور پھرریاستی درجہ بحال کرنے کے بیان کوجموں وکشمیرکے لوگوں کے ساتھ سب سے بڑا مذاق قراردیتے ہوئے کہا کہ کل جماعتی میٹنگ کے دوران تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے جموں وکشمیر میں اسمبلی الیکشن سے پہلے ریاستی درجہ بحال کرنے کی بات رکھی تھی اور وزیراعظم نے کل جماعتی میٹنگ کے دوران وزیرداخلہ کی موجودگی میں یقین دلایاتھاکہ جتنی جلدممکن ہوسکے جموں وکشمیر کاریاستی درجہ بحال کرنے کے لئے اقدامات کئے جائینگے تاہم اب جس طرح کے بیان سامنے آ رہے ہے وہ حیران کن بھی ہے اور جموںو کشمیرکے لوگوں کے لئے مذاق کے مترادف ہے ۔انہوںنے کہا کہ اسمبلی الیکشن سے پہلے ریاستی درجہ بحال کیاجانا چاہئے اورجموں وکشمیر میں اب تک کی سب سے بڑی بیروز گار درج کی گئی ہے 23%لوگ ہی روز گارکے وسائل سے جڑے ہوئے ہیں ،جبکہ77%لوگ بیکار اور بیروز گاری سے تنگ آ چکے ہیں ۔سابق وزیراعلی نے مرکزی حکومت پرزور دیاکہ وہ جموںو کشمیر کے لوگوں کے مسائل کاازالہ کرنے اور معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط مستحکم بنانے کے لئے بیان بازی کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ لوگ جن مصائب ومشکلات سے اس وقت دو چار ہے انہیں راحت مل سکے ۔