راجوری //خطہ پیر پنچال کے جڑواں اضلاع راجوری اور پونچھ میں ڈرون جیسی فضائی چیز کو دیکھنے کے متعدد واقعات کے پیش نظر انٹیلی جنس ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ اہم سیکورٹی تنصیبات اورجموں راجوری پونچھ قومی شاہراہ جیسی اہم سڑکیں بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔ فورسز کو جموں ٹیکنیکل ہوائی اڈے پر حملے کی کسی بھی ممکنہ کوشش کو ناکام بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے کیلئے کہا گیا ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈرون جیسے مشتبہ ہوائی اشیاء کو دیکھنے کے متعدد واقعات لائن آف کنٹرول کے ساتھ والے علاقوں میں رونما ہوئے ہیں جس سے جڑواں اضلاع میں سیکورٹی کی ایک نئی تشویش پیدا ہوئی ہے جہاں اس سال جولائی اور اگست کے مہینوں میں ایسے واقعات رونما ہوئے تھے لیکن پچھلے تین مہینوں میں اس طرح کی فضائی چیز کی کوئی تازہ اطلاع نہیں ملی۔انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز کا مواقف ہے کہ اہم تنصیبات پر کسی بھی حملے کیلئے ڈرون کے استعمال جیسے خدشات کونکارہ نہیں جاسکتا ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’ڈرون ایک فضائی چیز و جدید ترین آلہ ہے جو استعمال میں مخصوص نہیں ہے لیکن اسے مختلف مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں فضائی نگرانی، ویڈیوز اور تصاویر ،اور کسی علاقے کی طول بلد اور عرض البلد کی تفصیلات لینے وغیرہ کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلحہ اور گولہ بارود گرانے کیلئے ڈرون کا استعمال جموں و کشمیر میں ایل او سی اور آئی بی کے قریب کے علاقوں میں کئی بار ہوا اور 19 اکتوبر 2020 کو راجوری کے چاوا گاؤں میں تین جنگجوؤں کو اسلحے کی کھیپ اٹھانے کے بعد گرفتار کیا گیااور ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے گولہ بارود گرایا گیا جبکہ اسی سال 3 اکتوبر کو جموں کے ستواری میں ڈرون سے گرایا گیا اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا تھا جبکہ اس سال 23 جولائی کو جموں کے اکھنورعلاقے میں پولیس نے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔سرکاری ذرائع نے مزید کہا کہ پچھلے ایک سال میں، راجوری اور پونچھ اضلاع میں ڈرون اسپاٹنگ کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں اور راجوری شہر کے قریب ٹھنڈی کسی علاقے کے لوگوں نے صرف 2021 سال میں نصف درجن سے زائد مرتبہ مشکوک فضائی اشیاء دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردانہ حملوں جیسے دھماکے کرنے کیلئے ان ڈرونز کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا اور ایسا ہی ایک واقعہ اس سال 27 جون کو پیش آیا جب جموں کے ٹیکنیکل ہوائی اڈے پر دوہرے دھماکے ہوئے اور یہ بات سامنے آئی کہ ڈرون سے دھماکہ خیز مواد گرایا گیا۔سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ راجوری اور پونچھ اضلاع میں خاص طور پر ان علاقوں میں جو لائن آف کنٹرول سے تین سے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں ہیں، اہم سیکورٹی تنصیبات اور دیگر سول تنصیبات کو نشانہ بنانے کیلئے اس طرح کی فضائی اشیاء کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اندیشہ ہے کہ جموں راجوری پونچھ قومی شاہراہ جیسے کچھ اہم سڑکیں بھی ان فضائی اشیاء کا استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کیلئے تمام فیلڈ ایجنسیوں اور فورسز کو ہائی الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ان فضائی اشیاء کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی مذموم کوشش کو ناکام بنانے کیلئے حفاظتی آلات کو مضبوط کیا گیا ہے اور کسی بھی فضائی چیز کو نظر آنے کے فوراً بعد اسے مار گرانے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔