کشمیرعظمیٰ قانونی نامہ نگار
سرینگر// جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ڈل جھیل سے متعلق گزشتہ 24 برس سے زیرِ سماعت مفادِ عامہ کی عرضی (PIL) میں عدالت کی معاونت کرنے والے امیکس کیوری سے کہا ہے کہ وہ ایک جامع حقائق پر مبنی نوٹ پیش کریں، جس میں اس مقدمے کے دوران ہونے والی پیش رفت اور اب تک حل طلب رہ جانے والے مسائل کی نشاندہی کی جائے۔قائم مقام چیف جسٹس سنجیو کمار اور جسٹس محمد یوسف وانی پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے ریمارکس دیے کہ یہ مفادِ عامہ کی عرضی گزشتہ 24 برس سے زیرِ سماعت ہے اور اس دوران ڈل جھیل کی حالت بہتر بنانے کے لیے متعدد احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’مقدمے کا مکمل تناظر سامنے رکھنے کے لیے ہم امیکس کیوری سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایک مختصر حقائق پر مبنی نوٹ پیش کریں، جس میں بتایا جائے کہ اس مفادِ عامہ کی عرضی میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے اور اس معاملے میں مزید کن اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘
عدالت نے سینئر وکیل زیڈ اے شاہ، جو اس مقدمے میں امیکس کیوری کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، کو ہدایت دی کہ وہ 31 اگست، جو سماعت کی اگلی تاریخ ہے، تک پیش رفت سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔یہ مفادِ عامہ کی عرضی 2002 میںسید اقبال طاہر گیلانی نے دائر کی تھی، جو اْس وقت کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے طالب علم تھے۔ عرضی میں ڈل جھیل کے تحفظ، بقا اور بحالی کے لیے عدالتی مداخلت کی استدعا کی گئی تھی۔24 ستمبر 2021 کو جاری کیے گئے ایک حکم میں ہائی کورٹ نے ڈل جھیل سے متعلق کئی اہم امور کی نشاندہی کی تھی، جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت قرار دی گئی تھی۔ ان میں جھیل کی صفائی، سیوریج اور مائع فضلے کے اخراج کو روکنا، جھیل اور اس کے اطراف میں ٹھوس فضلے کا مؤثر انتظام، محکمہ سیاحت کی جانب سے سیاحتی اور تفریحی سرگرمیوں کی ترقی کی ذمہ داری، نیز عوامی سہولیات کی تعمیر اور دیکھ بھال جیسے معاملات شامل ہیں۔