خالد گل
سرینگر// وسطی کشمیر میں تعمیر ہونے والی سرینگر سیمی رنگ روڈ بڈگام ضلع سے گزرنے کے باوجود ضلع کے کئی علاقوں کو اس سے براہِ راست رسائی حاصل نہیں ہوگی، جس کے باعث منصوبہ فعال ہونے کے بعد مقامی لوگوں کو شاہراہ تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔بڈگام اور بیروہ کے مسافروں کو بالترتیب 20 اور 30 کلومیٹر سے زائد سفر کر کے نارہ بل یا واتھورہ۔چاڈورہ جنکشن پہنچنا ہوگا تاکہ وہ اس شاہراہ کے ذریعے سرینگر، شمالی کشمیر یا جنوبی کشمیر کا سفر کر سکیں۔اسی طرح خانصاحب کے رہائشیوں کو واتھورہ جنکشن تک پہنچنے کے لیے تقریباً 20 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے گا، جبکہ ابھرتے ہوئے سیاحتی مقام دودھ پتھری سے آنے والے افراد کو بھی شاہراہ تک رسائی کے لیے 30 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوگا۔بیروہ۔بڈگام ضلعی سڑک پر تعمیر کی گئی بلند سیمی رنگ روڈ کے مختلف مقامات، خصوصاًکونر،نصراللہ پورہ کے نزدیک، نہ تو اپروچ روڈز، سروس لینز اور نہ ہی داخلے اور اخراج کے لیے مخصوص راستے فراہم کیے گئے ہیں۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ شاہراہ کا راستہ ضلع سے گزرتا ضرور ہے، لیکن بڈگام کے بیشتر علاقوں کے لیے مناسب رابطہ فراہم نہیں کیا گیا۔ماحولیاتی کارکن راجہ مظفر بٹ نے کہا،’’یہ بڈگام اور بیروہ کو ملانے والی اہم ضلعی سڑک ہے، مگر جہاں یہ بلند رنگ روڈ سے ملتی ہے وہاں نہ کوئی کٹ ہے اور نہ ہی سروس روڈ۔ لوگوں کو شاہراہ استعمال کرنے کے لیے ناربل یا چاڈورہ جانا پڑے گا۔ منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے۔‘‘
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رابطہ سڑکوں کی عدم موجودگی سے مسافروں، ٹرانسپورٹروں، پھل کاشتکاروں، طلبہ اور ہنگامی خدمات کو شدید مشکلات پیش آئیں گی، جبکہ شاہراہ کے فعال ہونے کے بعد حفاظتی خدشات بھی پیدا ہوں گے۔بیروہ کے رہائشی محمد حفیظ نے کہا،’’بیروہ۔بڈگام سڑک اور رنگ روڈ کے درمیان کوئی براہِ راست رابطہ موجود نہیں۔ لوگوں کوناربل پہنچنے کے لیے اضافی سفر کرنا پڑے گا، جس سے وقت بھی ضائع ہوگا اور حفاظتی مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔‘‘مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دودھ پتھری کواچھکوٹ یااچھگام کے مقام پر داخلے اور اخراج کا راستہ فراہم کیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر سیاحوں اور مقامی باشندوں کو رنگ روڈ تک پہنچنے کے لیے 30 کلومیٹر سے زیادہ اضافی سفر کرنا پڑے گا، جبکہ مناسب رابطے سے سفر کا وقت نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔اچھکوٹ کے رہائشی جاوید احمد بٹ نے کہا،’’ہم نے رنگ روڈ منصوبے کے لیے اپنی زمین دی، لیکن آج بھی نہ اپروچ روڈ ہے اور نہ سروس روڈ۔ اگر اچھکوٹ میں انٹری اور ایگزٹ پوائنٹ بنایا جائے تو دودھ پتھری کو براہِ راست شاہراہ سے جوڑا جا سکتا ہے، جس سے مقامی لوگوں اور سیاحوں دونوں کو فائدہ ہوگا۔‘‘بڈگام کے رکن اسمبلی آغا سید منتظر مہدی، بیروہ کے رکن اسمبلی شفیع احمد وانی اور چاڈورہ کے رکن اسمبلی علی محمد ڈار نے مشترکہ طور پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اورنیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیاکو ایک یادداشت پیش کی ہے، جس میں بیروہ۔بڈگام سڑک پر کونر۔نصراللہ پورہ کے مقام پر اپروچ روڈ، سروس لینز، انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس، جبکہ دودھ پتھری کے لیے اچھکوٹ میں رسائی کا راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔گزشتہ ہفتے منصوبے کے مقام کا معائنہ کرنے کے بعد شفیع احمد وانی نے کہا کہ منصوبہ مکمل ہونے سے پہلے اپروچ ڈیزائن پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’رنگ روڈ کا مقصد رابطے کو بہتر بنانا ہے، رکاوٹ پیدا کرنا نہیں۔ اپروچ روڈ تکنیکی اعتبار سے مضبوط ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں ضلعی سڑک کی توسیع کے دوران مسائل پیدا نہ ہوں۔‘‘ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’فی الحال ناربل اور واتھورہ۔چاڈورہ میں رسائی کے مقامات موجود ہیں، جبکہ بڈگام۔بیروہ سڑک پر ایک اور رسائی پوائنٹ کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔ اچھکوٹ میں آبپاشی کے ایک سائفرن کی وجہ سے تکنیکی رکاوٹ موجود ہے، تاہم مختلف متبادل تجاویز پر کام جاری ہے۔‘‘این ایچ اے آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر آکاش دیپ سنگھ نے کہا کہ اس حوالے سے موصول ہونے والی نمائندگیوں پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور اس معاملے کو اپنے ہیڈکوارٹر کے ساتھ اٹھائیں گے۔ منصوبہ منظور شدہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ کے مطابق ہی تعمیر کیا جا رہا ہے۔‘‘واضح رہے کہ 42.10 کلومیٹر طویل سرینگر سیمی رنگ روڈ کے پہلے مرحلے، جو پلوامہ کے گالندر سے *بڈگام کے ناربل اوربندی پورہ کے سرائے ڈنگرپورہ تک پھیلا ہوا ہے، کی تعمیر تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ 2920 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ مرحلہ رواں سال کے آخر تک عوام کے لیے کھولے جانے کا امکان ہے۔تاہم منصوبے کادوسرا مرحلہ (24.7 کلومیٹر)، جو سرائے ڈانگرپورہ کو وائل، گاندربل سے جوڑے گا، اورمرحلہ II-A (12.11 کلومیٹر)، جو پاندچھ کو وائل سے ملائے گا، ابھی تک تکمیل سے کافی دور ہیں۔منصوبے کا تیسرا مرحلہ، جس کے تحت لسجن کوپاندچھ اورحضرت بل سے جوڑنے کے علاوہ ہوائی اڈے تک چھ کلومیٹر طویل لنک روڈ تعمیر کی جائے گی، فی الحال ڈی پی آر کی تیاری کے مرحلے میں ہے۔