طلبہ،آن لائن کام کرنے والے،بیمار اورتاجر متاثر
عاقب سلام
سرینگر// کشمیر میں شدید گرمی کی لہر کے دوران، جب درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر چکا ہے،کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے مینٹیننس کے لیے دن بھر بجلی کی بندش نے سرینگر کے مختلف علاقوں میں شدید عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ نے انتہائی نامناسب وقت پر طویل بجلی بندش نافذ کرکے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔بدھ کے روز کے پی ڈی سی ایل نے صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک زکورہ۔حبک 33 کے وی لائن اور متعدد ریسیونگ اسٹیشنوں کی مینٹیننس کے لیے بجلی معطل رکھی، جس کے باعث درجنوں علاقوں میں تقریباً پورا دن بجلی غائب رہی۔ حبک، بٹ پورہ، گلاب باغ، دھنہ ہامہ، برزہامہ، شوپری گاہ، اہل، کھمبر، چھترہامہ، ونی ہامہ، گاسو اور ملحقہ بستیوں کے مکین شدید گرمی اور حبس کے دوران بجلی سے محروم رہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش نے زندگی اجیرن بنا دی، خاص طور پر بزرگوں، شیر خوار بچوں اور ان مریضوں کے لیے جو بجلی سے چلنے والے طبی آلات پر انحصار کرتے ہیں۔
علاقے کے رہائشی مشتاق احمد نے کہا،’’ہمیں معلوم ہے کہ مینٹیننس ضروری ہے، لیکن یہ کام گرمی کی شدید لہر کے دوران ہی کیوں کیا جا رہا ہے؟‘‘انہوں نے بتایا، ’’بجلی مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہی منقطع کر دی گئی۔ ہمارے گھر میں ایک بزرگ ہیں جو پنکھے کے بغیر گرمی برداشت نہیں کر سکتے۔ کئی مریض آکسیجن کنسنٹریٹر اور دیگر برقی طبی آلات استعمال کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں پورا دن بجلی بند رکھنا مناسب نہیں۔‘‘رہائشیوں نے یاد دلایا کہ کچھ ہی عرصہ قبل علاقے میں انسولیٹڈ کیبل بچھانے کے دوران بھی طویل بجلی بندش کی گئی تھی، جس سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔صارفین نے سوال اٹھایا کہ مینٹیننس کا کام یا تو گرمی کی شدت کم ہونے تک مؤخر کیوں نہیں کیا جاتا، یا پھر بندش کا دورانیہ کم کیوں نہیں رکھا جاتا۔ایک اور رہائشی قیصر احمد نے کہا،’’محکمہ کو چاہیے کہ یا تو یہ کام ہیٹ ویو ختم ہونے کے بعد کرے یا بجلی بند رکھنے کا دورانیہ آدھا کر دے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ہر گھر میں انورٹر موجود نہیں، اور جن کے پاس ہے وہ بھی آٹھ سے نو گھنٹے تک بجلی کا متبادل فراہم نہیں کر سکتا۔انہوں نے مزید کہا،’’ہم سال بھر بجلی کے بھاری بل ادا کرتے ہیں، اور یہی وہ مہینہ ہے جب پنکھے، کولر اور ایئر کنڈیشنر کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔‘‘طویل بجلی بندش سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ ایک دکاندار نے بتایا،’’بجلی نہ ہونے سے فریج اور فریزر بند رہتے ہیں، جس سے آئس کریم، ٹھنڈے مشروبات اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا متاثر ہوتی ہیں۔ گرمیوں کے مصروف سیزن میں بار بار پورا دن بجلی بند رہنے کا نقصان چھوٹے کاروبار برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ اور گھروں سے آن لائن کام کرنے والے افراد نے بھی شکایت کی کہ طویل بجلی بندش کے باعث انٹرنیٹ، آن لائن کام اور تعلیم بری طرح متاثر ہوئی۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کی تشویش اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ آئندہ دنوں میں مزید مینٹیننس بندشوں کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹس کے مطابق 7 جولائی کو برزہامہ ریسیونگ اسٹیشن جبکہ 12 جولائی کو ایک اور دن بھر کی بجلی بندش متوقع ہے۔ اسی طرح 22 اور 24 جولائی کو گاندربل کے بعض علاقوں میں بھی مینٹیننس کے لیے بجلی معطل رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں نے کہا، ’’ہم مینٹیننس کے خلاف نہیں، لیکن صارفین کے لیے ہمدردی بھی ہونی چاہیے۔ سال کے گرم ترین دنوں میں پورا دن بجلی بند رکھنا غیر منصفانہ اور غیر انسانی ہے۔‘‘کے پی ڈی سی ایل کے ایک عہدیدار نے بدھ کی بجلی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متعدد ریسیونگ اسٹیشنوں پر طے شدہ مینٹیننس کے تحت کام کیا گیا۔انہوں نے کہا، ’’یہ بندشیں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی ضروری مرمت کے لیے کی جا رہی ہیں۔ آج کی بندش پہلے سے جاری کردہ شیڈول کا حصہ تھی۔ ہمیں احساس ہے کہ اس سے عوام کو دشواری ہوتی ہے اور ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔‘‘رہائشیوں نے مطالبہ کیا کہ کے پی ڈی سی ایل اپنے مینٹیننس شیڈول پر نظرثانی کرے تاکہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری عوامی سہولت کی قیمت پر نہ ہو، خصوصاً ایسے وقت میں جب وادی حالیہ برسوں کی شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا کر رہی ہے۔