ندائے حق
اسد مرزا
جی ہاں! ایک اور نیا سال شروع ہو گیا ہے۔ لیکن کیا ہندوستانی مسلم قوم کے پاس پچھلے سال سے کچھ حاصل کردہ ایسی چیزیں ہیں، جنھیں وہ نئے سال میں لے جاکر قوم کی فلاح و بہبود کی تدابیر کو اور زیادہ فروغ دے سکے اور مستحکم کرسکے۔بلکہ گزشہ ۷۵ سالوں کے طرح آج بھی مجموعی طور پر ہندوستانی مسلم قوم اور اس کے سماجی، سیاسی اور مذہبی رہنما اپنی نیند ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں اورنہ ہی وہ ملک کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی کے ایک نئے دور کا خاکہ تیار کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں اور نہ ہی اس کے لیے تیار نظر آتے ہیں کہ موجودہ حالات کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔
الجھن میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ عام ہندوستانی مسلمان اور اس کے لیڈران دونوں ہی نجی طور پر یہ سمجھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ ملک میں سیاسی اور سماجی طور پر کیا ہو رہا ہے اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے، لیکن درحقیقت کوئی بھی آگے آکر بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کے بجائے اور مسلم قوم کو نیا راستہ دکھانے کے لیے تیار نظر نہیں آتا ہے۔ جبکہ قوم کو اس کی موجودہ ذہنی دلدل سے نکالنے اور اس کی سیاسی اور سماجی ترقی کے لیے نئے دروازے کھولنے اورراستے بنانے کے لیے ہمہ جہت اور جامع منصوبہ بندی درکار ہے، جس کا کہ موجودہ دور میں مکمل فقدان نظر آتا ہے۔
دراصل ہمارے نام نہاد سیاسی قائد جن کی بنیادی طور پر آج کے موجودہ دور میں کوئی بھی سیاسی حیثیت نہیں رہی ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر کو ان کے اور قوم کے اصل مخالف نے اپنی چالاکی ، چالوں اور حکمت عملیوں کے ذریعے مکمل طور پر اگر صفحۂ ہستی سے مٹایا نہیں ہے تو ان کا رول بالکل ختم کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی مذہبی قیادت بھی جو کہ قوم کو ایک متحد قوم بنانے میں بااثر کردار ادا کرسکتی ہے، وہ بھی ایسا کوئی عمل یا دعوت دینے سے قاصر نظر آرہی ہے۔جبکہ ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے بنیادی اختلافات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور ملک میں نفرت کی موجودہ فضا، اور مسلم مخالف ماحول کو ختم کرنے کے لیے کوئی بااثر منصوبہ بنائیں۔اگر آپ کا دشمن آپ کو ایک متحد قوم دیکھتا ہے اور اس میں شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی کی تفریق نہیں کرتا ہے تو ہمارے مذہبی قائدین اور اکابرین کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آپسی تفرقوں کو بھلا کر ایک متحدہ ہندوستانی مسلم قوم کو تشکیل دینے اور اسے آگے لے کر چلنے کے لیے اپنی ذمہ داری ایک نئی تحریک شروع کرکے ادا کریں، جس کے ذریعے مسلم قوم کے لیے ایک مثبت اور جامع لائحہ عمل بھی تیار کیا جاسکے۔
ماضی کی طرح ہی پچھلے دو ایک سالوں میں جس طرح ہمارے مخالفین نے ملک کے انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنے ساتھ ملا کر جو کچھ مسلم مخالف فیصلے اور احکامات جاری کیے تھے،وہ اس نئے سال میں بھی جاری رہیں گے۔ ہم بابری مسجد کا مقدمہ ہار گئے اور اب گیان ویاپی اور متھرا کرشنا جنم بھومی سے متعلق مقدمات بھی اسی نہج پر جاری ہیں۔بجائے اس کے کہ ہم اپنی جانب سے عدلیہ اور انتظامیہ کو اس بات سے باور کراسکتے کہ ہمارا مخالف ایک غلط بیانیہ کو فروغ دے رہا، ہم بالکل چپ ہیں۔کیونکہ پہلے سے معلوم ہوتے ہوئے بھی ہم نے ان سب موضوعات سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی جامع یا عملی حکمت عملی تیار نہیں کی ہے اور جب ہم یہ مقدمات بھی ہار جائیں گے تو دیکھیں گے کہ ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنما یہ کہتے نظر آئیں گے کہ ’مصلحت‘ کی بنیاد پر کچھ نہیں کیا گیا۔ درحقیقت یہ ’مصلحت‘ کیا ہے یہ وہی جان سکتے ہیں۔ جبکہ آپ اس دین کے ماننے والے ہیں جس میں حق گوئی اور صاف گوئی کو سب سے زیادہ بہترین عمل قرار دیا گیا ہے۔
سماجی اور سیاسی بحالی : ۔
ہندوستان میں مسلم قوم اپنے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اپنے مفکرین اور ماہرین تعلیم کے تعاون سے یہ چاہتی ہے کہ وہ مستقبل کے لیے ایک جامع حکمت عملی اور ایکشن پلان بنانے کے قابل ہوں، جس پر قوم گامزن ہوسکے۔مسلم قوم کی بیماری اس بات میں پنہاں ہے کہ بذاتِ خود قوم اور اس کے رہنما دونوں ایک فعال نقطۂ نظر کے مالک نہیں ہیں۔ وہ صرف جذباتی ردِ عمل ظاہر کرنے اور باتیں بنانے میں یقین رکھتے ہیں نا کہ عملی اقدمات سے بھرپور کوئی منصوبہ بنانے کے لیے ۔
قوم کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے، اس کے لیڈران قوم کو کوئی اعلیٰ درجہ کا پلیٹ فارم مہیا کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے، یعنی کہ سیاسی، مذہبی، سماجی، تعلیمی اور مفکرین و اکابرین، کیونکہ بنیادی طور پر ان میں سے ہر ایک اپنے ذاتی مفادات کو آگے بڑھانے پر یقین رکھتا ہےنہ کہ قوم کے مفادات کو۔اور ایک بار جب وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیتے ہیں، تو وہ شتر مرغ کی طرح اپنا سر ریت میں چھپا لیتی ہیں۔ اس قوم کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے، کہ جب اس کے مذہبی رہنما اور نوجوان جیلوں میں بند ہیں،پھر بھی وہ ہر تہوار اور شادی بیاہ کی تقریبات کو اپنے لیڈروں یا نوجوانوں کی پرواہ کیے بغیر مناتی رہتی ہے۔
دوسری جانب، ماضی کی طرح چند ایک نام نہاد مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے مختلف گروپوں نے حکومت کو متاثر کرنے کے واضح مقصد کے ساتھ،چھوٹی چھوٹی اور نہ معلوم تنظیمیں یا ’تھنک ٹینکس‘ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ لیکن ان کا خلوص بھی شک کے گھیرے میں ہے۔دراصل یہ گروپس اپنے چھوٹے مفادات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ مسلم قوم کی نمائندگی کررہے ہیں،جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، تو آئیے اپنا وقت اور توانائی بچائیں اور اس کے بجائے قوم کو درپیش مختلف مسائل کا مقابلہ کس طرح کیا جاسکتا ہے اس پر توجہ مرکوز کریں۔
سب سے پہلے، ہمارے سیاسی لیڈروں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ اگر وہ ہر ہندوستانی مسلمان تک پہنچنا چاہتے ہیں، تو انھیں قوم کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ تعاون کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ ان کے پاس ملک کے کونے کونے تک پہنچنے کے ذرائع کے علاوہ وسیع تر اپیل اور قابل قبول بنیادیں موجود ہیں۔
دوسرا، اگلا قدم اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ اگر چہ ایسی کوئی سیاسی جماعتیں نظر نہیں آتی ہیں جنہیں ہم مسلم قوم کے مفادات کا محافظ قرار دے سکیں۔ پھر بھی ہمیں ان سیاسی عناصر کو نشاندہ کرکے ان کے ساتھ جڑنا ہوگا جوواقعتاً مسلمانوں کے ہمدرد ہیں اور انہیں ان کے حقوق دینا چاہتے ہیں۔مزید برآں، ان سیاسی عناصر کے ساتھ تعلقات کو یقینی بنانا چاہیے جن کے ذریعہ ہم ہر سطح پر انتخابات کی شفافیت اور منصفانہ انعقاد کو یقینی بنانے کے قابل ہوسکیں۔ اس کے لیے ہمیں ہر گاؤں ، تحصیل، ضلع سطح پر پولٹیکل بوتھ مینیجرزاور کوآرڈینیٹروں کی ایک ٹیم بناکر تعینات کرنا ہوگی، جو اس بات کو یقینی بنانے کے قابل ہوسکیں کہ ملک میں کوئی بھی آئندہ انتخاب منصفانہ طور پر کرایا جاسکے ، خاص طور پر اگلے سال ہونے والے عام انتخابات۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج بھی ملک کے 67% رائے دہندگان بی جے پی کے مخالف ہیں۔ہمیں ایسے عناصر کے ساتھ اپنی سیاسی لڑائی کو آگے بڑھانا چاہیے۔
تیسرا، اگر ہم چاہتے ہیں کہ مسلم قوم کو مختلف فلاحی اسکیموں کا فائدہ ملے، تو یہ سمجھداری ہوگی کہ سول سوسائٹی تنظیموں کا ایک قومی کنفیڈریشن تشکیل دیا جائے،دراصل مسلم سول سوسائٹی تنظیموں کی تعداد پورے ملک میں ہزاروں میں ہے۔ اگر ہم ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر لے آنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان کے ذریعے وسائل اور پیسے کا استعمال بہتر طور پر کیا جاسکے گا۔ اور امید یہی کی جاسکتی ہے کہ اس کے ذریعے قوم کی ایک بڑی تعداد کو غربت سے باہر نکالا جاسکے گا۔
آخر میں ہمیں ملک کے آئینی اور سیاسی نظام سے امید نہیں ہارنی چاہیے۔ ہمیں مسلم معاشرے کو ہر سطح پر بدلنے کی کوشش بھی کرتی رہنی چاہیے، خواہ وہ تعلیمی ہو، پیشہ ورانہ ہو، سیاسی ہو یا مذہبی ہو اور اس راستے پر چلنا ہوگا، جو ماضی میں ہمارے اکابرین نے ہمیں دکھایا تھا۔اور اس سمت میں ہمارے مذہبی رہنما ایک کلیدی اور جامع کردار ادا کرسکتے ہیں۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمزدبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ رابطہ کے لیے: www.asadmirza.in)
۔2023کا آغاز مثبت سوچ سے کریں