عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے ایک اہم کارروائی انجام دیتے ہوئے محکمہ بجلی (پی ڈی ڈی) راجوری میں تعینات میٹر ریڈر عارف اقبال کو 30 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن اے سی بی راجوری میں ایف آئی آر نمبر 03/2026 مورخہ 17 مارچ 2026 درج کی گئی ہے، جو انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 (ترمیم شدہ 2018) کی دفعہ 7 کے تحت قائم کی گئی ہے۔اے سی بی کے مطابق یہ کارروائی ایک شہری کی تحریری شکایت کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔ شکایت کنندہ نے اپنی درخواست میں بتایا کہ وہ سال 2019 سے 2021 تک ایک ٹائر شاپ چلاتا تھا، جس کے بعد اس نے اپنی دکان بند کر دی تاہم اس کے نام پر بجلی کا کنکشن برقرار رہا اور وہ باقاعدگی سے اپنے بجلی کے بل ادا کرتا رہا۔شکایت کے مطابق فروری 2026 میں اسے 31 دسمبر 2025 سے 31 جنوری 2026 تک کی مدت کا بجلی بل موصول ہوا، جس کی رقم 2,497 روپے تھی۔
اسی دوران پی ڈی ڈی راجوری کے میٹر ریڈر عارف اقبال اس سے ملا اور اس سے 50 ہزار روپے رشوت طلب کی، تاکہ وہ اس کے بجلی کے معاملات کو اپنے حق میں ’ایڈجسٹ‘کر سکے۔ تاہم شکایت کنندہ نے واضح طور پر کہا کہ وہ صرف میٹر ریڈنگ کے مطابق ہی بل ادا کرے گا۔اس انکار پر ملزم نے شکایت کنندہ کو دھمکی دی کہ اس کا بجلی بل غیر معمولی طور پر بڑھا دیا جائے گا۔ اس کے بعد 5 مارچ 2026 کو عارف اقبال دوبارہ آیا اور اس نے 31 جنوری سے 28 فروری 2026 تک کی مدت کا ایک نیا بجلی بل تھمایا، جس کی رقم حیران کن طور پر 1,53,890 روپے درج تھی اور اس کی ادائیگی کی آخری تاریخ 27 مارچ مقرر کی گئی تھی۔جب شکایت کنندہ نے اتنی بڑی رقم پر اعتراض کیا تو ملزم نے ایک بار پھر 50 ہزار روپے رشوت طلب کی تاکہ بل کو کم کیا جا سکے۔ بعد ازاں یہ رقم باہمی ’بات چیت‘کے بعد 30 ہزار روپے پر طے پا گئی۔ چونکہ شکایت کنندہ غیر قانونی ادائیگی نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے اینٹی کرپشن بیورو راجوری سے رجوع کر کے باضابطہ شکایت درج کروائی۔شکایت موصول ہونے کے بعد اے سی بی نے ایک خصوصی ٹریپ ٹیم تشکیل دی اور منصوبہ بندی کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ٹیم نے ملزم عارف اقبال کو اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا جب وہ شکایت کنندہ سے 30 ہزار روپے رشوت وصول کر رہا تھا۔ اے سی بی کے مطابق ملزم کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔بعد ازاں ملزم کے رہائشی مکان واقع راجوری پر بھی تلاشی لی گئی، جبکہ اس پورے معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ اے سی بی حکام نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔