یو این آئی
واشنگٹن//یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز اگلے ایک یا دو دنوں میں ایران کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے تیار ہوجائے گا۔ ۔اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے علاقے میں اپنی اسٹرائیک فورس کو مضبوط کرنے کے لیے ایک درجن اضافی لڑاکا طیارے بھی بھیجے ہیں۔اس سے قبل فاکس نیوز نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز بحرہند میں ذمہ داری کے علاقے سینٹ کام میں داخل ہوا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 22 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ کے جہاز “ممکنہ صورتحال” کے جواب میں ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس سے قبل، انھوں نے اس سوال کا واضح جواب دینے سے انکار کر دیا تھا کہ آیا ایران میں فوجی مداخلت کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے، صرف اتنا کہا تھا کہ وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ مستقبل کیا ہو گا۔
حملہ ہوا تو مکمل جنگ ہوگی | عراقی حزب اللہ کی دھمکی
یو این آئی
بغداد//عراق میں ایرانی حمایتی تنظیم، کتائب حزب اللہ (حزب اللہ کی ایک بریگیڈ) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو خطے میں مکمل جنگ چھڑ جائے گی۔کتائب حزب اللہ تنظیم کے سربراہ ابو حسین الحمیداوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف جنگ دشمنوں کے لیے پارک میں چہل قدمی کرنے جتنی آسان ثابت نہیں ہوگی۔الحمیداوی نے مزید کہا کہ اگر تنازع شروع کیا گیا تو محورِ مزاحمت (Axis of Resistance) میں شامل تمام گروہ ایران کی بھرپور مدد کریں گے۔ان کے مطابق دشمنوں کو خطے میں بدترین انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔کتائب حزب اللہ تنظیم کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے مشرقِ وسطی میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے اور خلیج میں طیارہ بردار بحری بیڑہ تعینات کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب گزشتہ روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے عراق پر زور دیا کہ وہ ایران سے فاصلہ رکھے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کے زیرِ اثر حکومت عراق کے مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتی۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کو سخت پیغامات دیتے اور کہا تھا کہ امریکہ ایران پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے تاہم بعد میں انہوں نے حملے کے حوالے سے زبان نرم کر لی تھی۔ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اگر اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی تو سخت فوجی جواب دیا جائے گا۔