اترپردیش میں اس وقت سبھی سیاسی پارٹیاں متحرک ہیں۔ جلوس نکال رہی ہیں، ریلیاں کررہی ہیں، میٹنگیں ہورہی ہیں، ایک دوسرے پر الزام عائد کررہی ہیں ۔ سبھی پارٹیاں اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ بھی کررہی ہیں اور اتر پردیش کی موجودہ حکومت کو گھیر رہی ہیں۔ ان پارٹیوں کے لیڈران جب اپنی پارٹی کی ریلی میں بھیڑ دیکھتے ہیں تو انہیں شائد یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی، ہمیں وزارت مل گئی، ہمیں لال بتی کی کاراور سرکاری بنگلہ مل گیا۔ مطلب اتنے جذباتی ہوجاتے ہیں کہ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں رہتا کہ یہی بھیڑ دوسری سیاسی پارٹیوں کے پروگراموں میں بھی رہتی ہے یعنی اسٹیج بدلتا ہے، جھنڈے اور بینر بدلتے ہیں مگر سامعین وہی ہو تے ہیں ،عوام وہی ہوتی ہے ، اسی لئے ریلی کی بھیڑ کامیابی کی ضامن نہیں ہوا کرتی ہے بلکہ یہی بھیڑ جس پارٹی کے حق میں ووٹ دیتےہیں، وہی پارٹی کامیاب ہوتی ہے۔آج اکثر سیاسی پارٹیاں کہہ رہی ہیں کہ اترپردیش کی عوام بی جے پی حکومت سے تنگ آچکی ہے اور ریاست کی عوام تبدیلی چاہتی ہے مگر سیکولر سیاسی پارٹیوں کا منتشر ہونا بی جے پی کو تقویت پہنچاتا ہے۔ آج پھر بیشتر پارٹیاں مسلمانوں کا دم بھرنے لگی ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ مسلمانوں کے سارے مسائل کو حل کردیں گی مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر بی جے پی مسلمانوں کو نظر انداز کرتی ہے تو اس کی ذمہ دار وہی سیاسی پارٹیاں ہیں جو خود کو سیکولر کہتی ہیں، خود اِنہی پارٹیوں نے مسلمانوں کو سیاست کے میدان میں اچھوت بناکر رکھ دیا، آج انہیںمسلمانوں کی یاد آنے لگی لیکن جب شاہین باغ میں این آر سی و سی اے اے کے خلاف دھرنا دیا جارہا تھا تو یہ سیکولر پارٹیاں اس میں شامل نہیں ہوئیں؟ اترپردیش پردیش کے مختلف علاقوں میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج و مظاہرے میں بچے بوڑھے جوان اور خواتین تک کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا گیا تو اِن سیکولر پارٹیوں نے آواز بلند کرنے کی کوشش نہیںکی ۔ شائد اسی لئے زبان بند رکھی کہ جب الیکشن آئے گا تو زبان کھولیں گے اور کہیں گے کہ ہماری پارٹی کی حکومت بنی تو ہم اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی سماج کو تنگ کیا جائے، اس کے خلاف پالیسی بنائی جائے تو وہ انتظار کرے کہ چلو پانچ سال بعد حکومت ہوسکتا ہے بدل جائے تو ہمارا مسلہ حل ہو جائے گا تو پھر اپوزیشن کا مطلب کیا ہوا، جمہوریت کا مطلب کیا ہوا اور سیکولر کا مطلب کیا ہوا؟
جہاں تک اترپردیش کی بات ہے تو یہیں بابری مسجد تھی اور یہیں متھرا کی عیدگاہ بھی ہے اور یہیں گیان واپی مسجد بھی ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں بار بار ماحول خراب کرنے کی کوشش کررہی ہیں تو جب وہ پارٹیاں اور اُن کے لیڈران فرقہ پرستوںکو جواب دینے کا نام نہیں لیتے ہیں تو پھرکس بنیاد پر اپنے آپ کو سیکولر کہتے ہیں اور کون کتنا سیکولر ہے اِس کا پتہ تو اُس وقت لگ گیا تھا ،جب بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ سبھی سیاسی پارٹیوںکے لیڈروں نے خوشی ظاہر کی تھی اور ان سیاسی پارٹیوں کو خوشی ظاہر کرتے ہوئے ،چاہے جو کچھ بھی محسوس ہوا ہو، مگر بی جے پی نے اُسی دن نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو بے نقاب کردیا اور اُن کے چہروں سے’’ سیکولر ازم‘‘ کی جھوٹی نقاب کو نوچ کر پھینک دیا اور انہیں ایسے چوراہے پر کھڑا کردیا کہ اِن نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو دائیں بھی گڈھا نظر آتا ہے اور بائیں بھی ۔ اور اب بیچ میں ایک ٹیلے پر چڑھ کر مسلمانوں کی کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی ہیں اور اپنی سیاسی کشتی کو پار لگانے کی اپیل کررہی ہیں ۔
صرف اترپردیش ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں مسلمانوں کاسیاسی میدان میں بہت بُرا حال ہے۔ وہ پوری طرح سیاسی بیداری اور سیاسی شعور سے محروم ہے۔ بس زبان پر وہی جملہ ہندوستان میں مسلمانوں نے سات یا آٹھ سو سال تک حکومت کی ۔تو جواب میں کوئی کہتا ہے کہ ہندوستان میں تو جس نے پانچ سال حکومت کرلی ہے،اس کے اندر اور اس کے سماج کے اندرتو سیاسی شعور آگیاہے اور بیداری۔ اُسے آبادی کے تناسب سے وزارت میں حصّہ داری ملنے لگی اور تم نے سات آٹھ سو سال تک حکومت کی تو تمہارا حال اتنا بُرا کیوں ہے کہ تمہیں کسی سیاسی پارٹی سے سیاسی معاہدہ تک کرنے کا شعور نہیں اور حوصلہ نہیں ہے ۔اسی لئے سیاسی پارٹیوں نے تمہیں کرکٹ کے میدان کا بارہواں کھلاڑی بنا کر رکھ دیا۔ یہی سچائی ہے کہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے ووٹ کے لئے ہمیشہ مسلمانوں کو گمراہ کیا اور ان پارٹیوں میں جو مسلم چہرے رہے بھی تو وہ بھی مسلم لیڈر بن کر نہیں بلکہ مسلم ووٹ ڈیلر بن کر رہے۔