اس باغ میں 2005ء تک ایک قد آور اور قدیم چنار ایسا تھا جس کی جڑ کی چوڑائی 54 ؍فٹ تھی۔ پھر سیلاب سے یہ پیڑ ٹوٹ گیا۔ ظریفؔ صاحب ’’تزک جہانگیری‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ راول پورہ میں چنار کا ایک پیڑ اتنا بڑا اور موٹا تھا کہ تیز بارش سے بچنے کے لئے جہانگیر اور اکبر بادشاہ نے 34 افراد کے ساتھ اس کے کھوکھلے تنے میں پناہ لی تھی۔ اورنگ زیب تک جب جامع مسجد سرینگر کے نذر آتش ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے دریافت کیا کہ آگ سے چنار کو کوئی گزند تو نہیں پہنچی؟ پھر کہا جامع مسجد تو تعمیر ہوسکتی ہے مگر چنار کہاں سے لاسکتا ہوں! سر والٹر لارنس ’’ویلی آف کشمیر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ 1882ء میں میں نے خود لولاب میں 63 فٹ پھیلاؤ یا چوڑائی کا چنار دیکھا۔ ظریفؔ صاحب نے چنار کی بدحالی اور بے قدری کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے ؎
قرنہ وادو پیٹھ شیہل شہجار ہیتھ اسہ آیہ بونی
گریشمہ ژنجین منز مسافیرن چھ تھاوان سایہ بونی
نظر چھوی کستام شہجاریے نی تاپس لگکھ
پگہ ہکس تژرس یی ما قبرہ پیٹھ ووگرایہ بونی
یعنی صدیوں سے چنار کا یہ پیڑ ہمیں اپنا سایہ فراہم کرتا رہا ہے۔ تھکے ہارے اور تیز دھوپ کے مارے مسافروں کو چنار کا یہ پیڑ ٹھنڈک دیتا رہا ہے ۔
کوئی گھاتیا ہمارے اس ورثہ کی گھات میں بیٹھا ہے۔
اے نادان! تو ذرا ہوشیار رہ، کہیں یہ گھاتیا ہمارا سایہ ہی نہ اڑادے اور ہم بے سایہ کے نہ رہ جائیں۔
اگر ہم قومی ورثے کی اس بے دردانہ لوٹ پر بھی ب حسی کا مظاہرہ کرتے رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں کوسیں گی۔
چنار کو کشمیری میں ’’بونی‘‘ کہتے ہیں۔ اس نام سے کشمیر میں کئی مقامات منسوب ہیں جن کا تفصیلی ذکر ظریفؔ صاحب نے اپنے مضمون میں کیا ہے۔ مثلا، ڈلگیٹ میں ’’بونہ باغ‘‘، سنگھم سنبل میں ’’بونہ زو‘‘، پرونژھ میں ’’بونہ باغ‘‘، ڈل میں ’’چار چناری‘‘ نام سے ایک جزیرہ نما جگہ۔ عیدگاہ سرینگر میں چالیس سال پہلے تک ’’نفلہ بونہ‘‘ موجود تھیں۔ جس طرح اگلے وقتوں میں آفات سماوی سے تحفظ کی خاطر لوگ دعا اور نفلی عبادتوں کے لئے جنگل جایا کرتے تھے، یہاں سرینگر میں ایسے مواقع پر ’’نفلہ بونہ‘‘ کے مقام پر لوگ جاتے تھے۔ اس جگہ آخری نفلی عبادت 1969ء میں صادق کے دور حکومت میں ہوئی تھی مگر اس دوران لوگوں پر گولی چلائی گئی جس سے تین آدمی شہید ہوگئے تھے۔ اس کے بعد یہاں کوئی اجتماعی نفلی عبادت نہیں ہوئی۔ آری گام بڈگام میں کشمیر کے مایہ ناز شاعر مہجورؔ نے چنار کے کچھ پیڑ لگائے تھے اور پھر اس جگہ کا نام ہی ’’مہجورؔ نہ بونہ‘‘ پڑگیا۔ ’’ہفت چنار‘‘ کا علاقہ بخشی سٹیڈیم کے نزدیک ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس جگہ چنار کے سات پیڑ تھے۔ ’’ستہ بونی‘‘نام کی جگہ لعل بازار سری نگر میں ہے اور اس جگہ آج بھی چنار کا پیڑ ہے مگر لوگوں کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ ’’سات چنار‘‘ کا مقام گلاب باغ میں ہے۔ ’’ہشہ نوشہ بونی‘‘ کی جگہ شاہ پورہ گاندربل میں ہے۔ اس جگہ چنار کا پیڑ ساس اور بہو نے ایک ساتھ لگایا تھا جو پنڈتانیاں تھیں۔
ظریف ؔصاحب کا یہ مضمون بڑا طویل ہے اور بڑا ہی دلچسپ ہے۔ یہاں میں نے محض اس مضمون کے کچھ اقتباسات پیش کئے۔ میں کلچرل اکیڈمی کے حکام سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ظریف ؔصاحب کے چناروں پر اس کشمیری مضمون کا اردو اور انگریزی ترجمہ کرواکر پمفلٹ کی صورت میںشائع کریں۔ میری ایسی ہی درخواست یہاں کے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اداروں سے بھی ہے اور اوقاف اسلامیہ سے بھی ہے۔ ظریف ؔصاحب نے ان تمام جگہوں اور مقامات کی نشاندہی کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے جہاں جہاں چنار کے پیڑ ہوا کرتے تھے مگر آج نہیں ہیں اور ان جگہوں کا بھی اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے جہاں یہ شاندار پیڑ آج بھی موجود ہیں۔ انہوں ٹورسٹ ریسیپشن سنٹر اور دور درشن کیندر کا بھی ذکر کیا ہے، جہاں یہ پیڑ ایمپوریم گارڈن تک بڑی تعداد میں قطاروں میں موجود تھے۔ ہمارے یہاں زیادہ تر وہی لوگ حکمران بنے جو جمالیاتی حس اور ماحولیاتی شعور سے عاری تھے جب کہ عام لوگ بھی ایسے معاملات میں زیادہ حساس نہیں ہیں۔ اکیلا ظریفؔ صاحب اور ان جیسے چند لوگ کیا کریں؟؟؟ ظریفؔ صاحب نے اپنے تحقیقی مضمون میں عجیب وغریب نوعیت کے چناروں کا ذکر کیا ہے جس میں رعناواری کی ’’غفار پلسنی بونی‘‘، اونتی پورہ کی ’’رمضان مامنی بونی‘‘ وغیرہ ایسے چناروں کا ذکر ہے جو مختلف ناموں سے منسوب ہیں۔ اس طرح ان چناروں کی وساطت سے ان لوگوں کی پہچان آج تک باقی ہے جن کا کسی سبب سے ان چناروں سے تعلق رہا۔ اس تحقیقی مضمون سے لگتا ہے کہ ظریف صاحب نے بہت محنت کرکے قابل ستائش کام کیا ہے۔ ظریفؔ صاحب نے معاشرے میں ماحولیاتی بیداری پیدا کرنے کے لئے کئی بہترین نظمیں لکھی ہیں جن میں ’’بونی‘‘، ’’ویتھ‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ اور پھر حساس لوگوں سے یہی امید باندھی ع
شاید کہ اُترجائے ترے دل میں میری بات
ایک ادیب اس کے علاوہ کر ہی کیا سکتا ہے کہ اپنے الفاظ سے متعلقین کو جنجھوڑے مگر افسوس یہ ہے کہ جن کو کام کرنا تھا وہ محض باتیں کرتے ہیں۔
حل مسائل جو بات سے ہوتے
عمر بھر خود سے گفتگو کرتے
چلئے اورآگے بڑھتے ہیں۔ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، یہی اس دنیا کا دستور ہے۔ بس جو کوئی کسی کے کام آسکا وہی یاداشت میں جگہ بنالیتا ہے۔ شاید ہی ایسا کوئی دن گزرتا ہو جب میں یہ نہ سنتا ہو کہ فلاں مرگیا اور فلاں چل بسا۔ افسوس تو ہوتا ہے، کبھی رو بھی پڑتا ہوں، مگر بہرحال زندگی کھیل ہی ایسا ہے۔ اعتبار ساجدؔ کی ایک خوبصورت غزل ہے جس میں وہ کہتے ہیں ؎
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جِنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر
مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے
میری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گُلاب سارے ہیں کاغذی
گُلِ آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے
جنہیں کر سکا نہ قبول میں و شریکِ راہِ سفر ہوئے
جو مِری طلب مِری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
مِری دھڑکنوں کے قریب تھے مِری چاہ تھے مِرا خواب تھے
جو روز و شب مِرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے
(ختم شد)