جموں//صحت و طبی تعلیم کے وزیر بالی بھگت نے کہا کہ کشمیر صوبہ میں ابھی تک ہیپاٹائٹس بی کی وجہ سے کوئی بھی شخص لقمہ اجل نہیں ہوا ۔ وزیر ایم ایل سی سجاد احمد کچلوکی طرف سے پیش کی گئی توجہ دلائو نوٹس کا جواب دے رہے تھے۔ وزیر نے مزید کہا کہ جموں صوبے میں اس مرض میں مبتلا دو افراد کی موت واقع ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں کشمیر صوبہ کے کوکر ناگ علاقے میں وڈون وادی میں دو دیہات جن میں تکیہ ماگام اور سند براری شامل ہے میں ہیپاٹائٹس بی پھیل چکا تھا ۔ وزیر نے کہا کہ محکمہ صحت نے اس علاقے کی ساری آبادی کا جائزہ لیا ہے اور ہیپاٹائٹس بی کے سلسلے میں 2034 اشخاص کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی ۔انہوں نے کہا کہ ان افراد میں 928لوگوں کو جدید ادویات مفت فراہم کر کے علاج کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وڈون علاقے کے پرانے کیسوں میں ہیپاٹائٹس بی وائرس دوبارہ اثرکرسکتا ہے اور اس عمل کو روکنے کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ ایسے مریضوں کو احتیاطی طور پر ضروری ویکسین دئیے جائیں گے ۔کشتواڑ میں ہیپاٹائٹس بی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ 19دسمبر 2017ء کو ڈاکٹر وں کی ایک ٹیم علاقے میں ہیپاٹائٹس بی کیسوں کی جانچ کرنے کے لئے بھیجی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ جانچ کے دوران میڈیکل ٹیم کو پتہ چلا کہ علاقے میں ہیپاٹائٹس بی کے 27کیس موجود ہے۔اس کے علاوہ میڈیکل ٹیم نے ریپڈ ٹیسٹ کے ذریعے مزید7کیسوں کی نشاندہی کی ۔ایم ایل سی فردوس احمد ٹاک نے بھی ضمنی سوالات اٹھائے اور اس تکلیف کا فوری علاج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپیل کی دشوار گزار علاقوں میں قیمتی جانیں بچانے کے لئے چاپر کے ذریعے طبی امداد بھیجی جائے ۔وزیر نے اس سلسلے میں یقین دلایا کہ علاقوں میں باقاعدہ میڈیکل ٹیم بھیجی جائے گی تاکہ لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔