وقت کی تیز رفتاری کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسانیت بھی ترقی کی منزلیں طے کرتی چلی گئی۔ کبوتر کے ہاتھوں پیغام رسانی سے ہوتے ہوئے انسانی نامہ بروں سے ہوتا ہوا ایس ایم ایس تک آ پہنچا اور پھر وہیں پر اختتامِ سفر نہیں کیا بلکہ وہاں سے بھی آگے ای میل، فیکس اور وٹس ایپ سے ہوتا ہوا فیس بک اور انسٹاگرام کی دنیا تک آ پہنچا۔ بیل گاڑی، گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کرنے سے ہوتا ہوا انسان گاڑیوں اور ہوائی جہاز اور بلٹ ٹرین تک آ پہنچا۔گو کہ زندگی کے ہر شعبے میں انسان دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا چلا گیا۔ لیکن اس دوران انسانی رشتے بری طرح متاثر ہوکر تنزلی کا شکار ہو گئے۔
بقول معروف شاعر اظہر فراغ ؎
دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا
تالے کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسا ہوتا تھا
دنیا جس قدر مادی ترقی کرتی گئی رشتوں میں سرد مہری عام ہوتی گئی۔ والدین بچوں سے اور بچے والدین سے جدا ہوتے گئے۔ حلقہء احباب جتنا بڑا ہوتا گیا ، آپسی محبت اور لگن اتنی ہی ناپید ہوتے چلے گئے۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ رشتے نبھانے سے قائم رہتے ہیں۔لیکن آج سے بیس تیس سال قبل رشتے نبھانے کے پیمانے الگ تھے اور آج کچھ الگ شکل اختیار کر چکے ہیں۔مصنوعی محبتیں اور ہمدردیاں بس سوشل میڈیا کی دنیا تک محدود ہو گئی ہیں۔ اب اگر آپ نے کسی شخص کو اپنی محبت اور ہمدردی کا ثبوت دینا ہے تو اس شخص کے گھر مہمان بن کر تشریف لے جانے اور اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنے اور کھانا کھانے کے بجائے آپ کے لئے اس شخص کو سوشل میڈیا پر فالو کرنا ضروری ہے اور اگر آپ نے غلطی سے اس شخص کو ان فالو کر دیا تو آپ کی محبتیں اور ہمدردیاں مشکوک ہو جائیں گی۔ سامنے والا شخص چاہے آپ کا بھائی ہو، بہن ہو، رشتہ دار ہو یا پھر کوئی دوست احباب، محبتوں کے ہونے سے زیادہ ان کا دکھلاوا ضروری ہو چکا ہے۔
آپ کو اپنے ہونے کا احساس سوشل میڈیا پر دلانا پڑتا ہے ۔حالات اس قدر بدحالی کا شکار ہیں کہ اب دوستوں اور رشتے داروں میں سوشل میڈیا آپسی رنجشوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔یہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سائنس اور ٹیکنولوجی کی ترقی کی وجہ سے انسانوں نے اپنی بے تحاشہ مشکلات سے نجات حاصل کر لی اور دنیا کو " گلوبل ویلیج" بنا دیا۔لیکن ترقی کی اس دوڑ میں محبت، ہمدردی، اور بھائی چارہ ہم سے بہت پیچھے رہ گئے اور عجلت پسندی، بے راہروی، نفرت،اور لالچ ہمارے سر چڑھ کر بولنے لگ گئے۔ دور کے رشتے دار تو دور کی بات نزدیک کے رشتے دار بھی یہاں تک کہ پاس پاس کے گھروں میں رہنے والے بھائیوں کے پاس بھی ایک دوسرے کے پاس جانے، اور مل بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔دوستیاں مطلب اور اپنے فائدوں کی محتاج ہو چکی ہیں۔
آئے دن ڈپریشن کی بیماری طول پکڑتی نظر آتی ہے، نوجوان چھوٹی چھوٹی باتوں پر خودکشیاں کرتے نظر آرہے ہیں۔سوشل میڈیا پر ہزاروں دوست رکھنے والے شخص کے پاس دل کی بات بیان کرنے کے لئے کوئی ہمراز شخص موجود نہیں ہے۔شیرخوار بچے والدین کی محبت اور صحبت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں دو تین سال کی عمر میں بچوں کے ہاتھوں میں والدین سمارٹ فون تھما دیتے ہیں۔ معاشرہ تنگ دل اور تنگ نظر ہوتا جا رہا ہے۔
ہر شخص عجلت میں ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں جانتا کہ آخر یہ عجلت کیوں بھلا۔ اسے جانا کہاں ہے؟ کیا انسان دوسرے انسان سے آگے جانا چاہتا ہے تو پھر پہلا انسان کہاں جانا چاہتا ہے؟کیا! انسان کو موت نہیں آئے گی؟ کیا دنیا یوں ہی قائم رہے گی؟اگر جواب "نہیں" ہے تو پھر اس قدر عجلت کیوں؟تو پھر انسان خود کو خدا کیو ںثابت کرنا چاہتا ہے؟
رشتے سرد مہری کا شکار کیوں؟رشتوں میں دھوکا، فریب، جھوٹ، مکاری اور حسد کیوں؟ڈپریشن تیزی سے بڑھنے والی بیماری کیوں؟
اس کیوں کے پیچھے ایک داستان ہے۔ ایک ایسی داستان جس کے کردار اسی سماج میں رہتے ہیں۔ لیکن کوئی انہیں جاننے اور پہچاننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اور بھلا تیار ہو گا بھی کیسے۔ کیوں کہ وہ کردار آپ ہیں، وہ کردار میں ہوں وہ کردار ہم سب ہیں۔
بقول ندیم بھابھہ ؎
سنتے کب ہیں لوگ ہمیں بس دیکھتے ہیں
چہرے کو آواز بنانا پڑتا ہے
ان اندھے اور بہرے لوگوں کو سائیں
ہونے کا احساس دلانا پڑتا ہے
(طالب علم پی جی کالج بھدرواہ، شعبہ اردو)
( مغل میدان، کشتواڑ۔رابطہ: 8492956626)