عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف آج پارلیمنٹ کے احاطے میں حزب اختلاف کے ارکان نے زبردست احتجاج کیا۔ نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دروازہ پر جمع اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے بھارت بند کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر عوامی مفادات سے سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کیا۔کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے آج لیبر یونینیں ہڑتال پر ہیں اور اپوزیشن ان کی حمایت کر رہی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت چاہے راہل گاندھی کے خلاف استحقاق نوٹس لائے یا مقدمہ درج کرے، اس سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ کسانوں اور مزدوروں کے حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے امریکہ کے دباؤ میں آ کر ملک کے وقار اور کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاہدے پر نظر ثانی نہیں کی گئی تو اس کے اثرات زرعی شعبے اور دیہی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔حزب اختلاف نے واضح کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ اس معاملے کو اٹھاتی رہے گی اور کسانوں و مزدوروں کے مطالبات کی حمایت جاری رکھے گی۔