کشمیر دنیا کا وہ واحدخطہ ہے جو گذشتہ اوررواں صدی کے طویل ترین لاک ڈاؤن کا سامنا کررہا ہے۔ بیسویں صدی کے آخری عشرے سے ہی اس خطےمیں لوگوں کی زندگی اپنے جائز مطالبات کی حصولیابی کے جرم میں عذاب بنا دی گئی ہے اور اب عالمی وبا’ کورونا وائرس‘ نے بھی ان کے عذاب میں اضافہ کردیا ہے۔ظاہر ہے کہ اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس سے نمٹنے میں مصروف ہے۔تقریباً تمام ممالک اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں ،چار لاکھ کے قریب لوگ اس وبا سے موت کے گھاٹ اُتر چکے ہیں اور لاکھوں لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔اس وبا کی تباہ کاریوں نے دنیا سے اس کی بہت سی رنگینیاں چھین لی ہیں اور انسانی زندگی کے رنگ ڈھنگ بھی تبدیل کر دئے ہیںاور تاحال اس پر مکمل طور پر قابو پانے کا کوئی نسخہ کار آمد ثابت نہیں ہورہا ہے ۔انسانی جانوں کا اتلاف ،اقتصادی و معاشرتی بدحالی،بے روز گاری ،گران بازاری ،غذائی اجناس کی نایابی اور ادویات کے فقدان کے کارن بیشتر حریف ممالک ایک دوسرے کی مدد کے طلب گار بن گئے ہیںاور باہمی رنجش ،کشیدگی اور دوریاں ختم کرنے کی کوششیںکررہے ہیں۔چین اور امریکہ سمیت کئی مغربی حریف ممالک بھی آپس میں لفاظی جنگ کے باوجود ایک دوسرے کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں حالیہ سرحدی تنازعہ پر پیدا شدہ کشیدگی کی بات بھی اب مذاکرات کی میز پر آگئی ہے۔ لیکن حیرت کا مقام ہے کہ برصغیر کے دو ہمسایہ ملکوں بھارت اور پاکستان کے درمیان باہمی رنجشیں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیںاور خطۂ کشمیر کے متنازعہ مسئلہ پر کوئی بھی بات نہیں ہورہی ہے ۔یہ ایک ایسا خطہ ہے جہاںپچھلے تیس برسوں سے عوام کے غم اندوہ شب و روز میں نہ کوئی تبدیلی آرہی ہے اور نہ ان کی کوئی پُکار سُنی جارہی ہے۔یہ خطہ ان ہمسایہ ملکوں کے درمیان شروع سے ہی تنازعہ کا باعث بن کردونوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے ۔ اس خطہ کی متنازعہ حیثیت پردونوں ملکوں کے مابین سات عشروں سے کشیدگی چلی آرہی ہے اور اس کشیدگی کے باعث کشمیریوں کی زندگی نہایت اجیرن بن گئی ہے،جنہیں آج تک نہ صرف زبردست جانی و مالی نقصان سے دوچار ہوناپڑا ہےبلکہ تواتر کے ساتھ عذاب و عتاب کا سلسلہ بھی جھیلنا پڑ رہا ہے۔پچھلے تین عشروں سے چلے آرہے نامساعد حالات نے جہاںاُسے ہر سطح پر اور ہر معاملے میںتباہ حال کردیا ہے وہیںقدرتی آفات نےبھی اسے بُر ی طرح متاثر کردیا ہے۔۲۰۰۵ کےالمناک زلزلے اور ۲۰۱۴ کے تباہ کُن سیلاب کی تباہ کاریوں نے تو کشمیریوں کو تلپٹ کرکے رکھدیا ہے جبکہ وقفہ وقفہ کے بعد خوفناک آندھی اور ژالہ باریوں سے ان کی کمر ٹوٹ رہی ہے، اوراب کرونا وائرس نےاس خطے میں اپنے پنجے گاڑدیئے ہیں۔درجنوں افراد اس وائرس سے جان بحق ہوچکے ہیں،سینکڑوںافراد اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیںاور دن بہ دن وائرس سے متاثرین کی تعداد ہزاروں میں جا پہنچی ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ کشمیر میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے خاطر خواہ انتظامات بھی موجودنہیں ہیں۔انسانی حقوق کی کچھ بین الاقوامی تنظیموںنے بھی ایک مشترکہ بیان میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہےکہ جہاں کشمیر میں کرونا سے لڑنے کے لئے موثر ہتھیار وںکی کمی ہے وہیں عرصہ درازسے جیلوں میں بند کشمیری قیدیوںاور اگست 2019 سے گرفتار شدہ شہریوں کو جیلوں میں نہ تو انسانی حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی ان کی سہولت کا کوئی مناسب خیال رکھا جا رہا ہے۔ پوری دنیا کی توجہ چونکہ کرونا وائرس سے نمٹنے پر مرکوز ہے جس کے نتیجہ میںخاموشی کے ساتھ اس خطہ میںانسانی اور اخلاقی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کرعوام پر عذاب و عتاب کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے اور بیرونی آبادکاروں کو خطہ ٔ کشمیر کا شہری بنانے کا منصوبہ آہستہ آہستہ آگے بڑھایا جارہا ہے۔ جموں کشمیر میں 5 اگست 2019 کوکشمیریوں کی حق بجانب آواز دبانے کے لیے قانون میں تبدیلیوں کی جن کوششوں کا آغاز کیاگیا تھا اُن کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔اگرچہ بھارت کی ماضی کی کی حکومتوں نے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کے لئے اپنے آئین کے آرٹیکل 35 اے اور370 کے تحت کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو چھیڑنے کی کوشش نہیں کی تھی لیکن موجودہ مرکزی حکومت نےاپنے دوسرے دور ِ حکومت کے پہلے ہی سال کے دوران یہاں کی تما م سیاسی جماعتوں کا تیا پانچہ ایک کرکےگزشتہ سال پانچ اگست کو اس متنازعہ خطہ کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور پھر ۳۱ ؍اکتوبر۲۰۱۹ کو اِسے یونین ٹریٹری میں بدل کر ریاست کو تقسیم کر کے رکھ دیا گیا ہے۔جس کے نتیجہ میں کشمیر خطہ کے لوگ مزید مشکلات و مصائب میں مبتلا کردیئے گئےہیں ۔جبکہ حق بات یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی تمام ترذمہ داری بھارت اور پاکستان کی ہی ہے کیونکہ اقوام متحدہ نے بھی کشمیر پر اپنی قرار دادوں میں بھارت اور پاکستان کو ہی تنازعے کا فریق قرار دیا ہے اور کشمیری عوام جوکہ اس مسئلہ کے بنیادی فریق ہیں، بھی یہی مطالبہ دہراتے آرہے ہیں کہ دونوں ہمسایہ ملک مسئلہ کا ایسا حل ڈھونڈ نکالیں جوکہ کشمیریوں کو بھی قابل قبول ہو۔حالانکہ دونوں ملک پچھلے ستر برسوں کے دوران اس مسئلے پر چار جنگیں بھی لڑچکے ہیں جن کا کوئی بھی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے،گذشتہ تیس برسوں میں کے دوران بھی دونوں ملکوں کے مابین تیس چالیس بار ملاقات اور مذاکرات کے ادوار میں باہمی مسئلے حل کرنے کی کوششیں جاری رہیں،مختلف مرحلوں میںمذاکرات ہوئےاور مختلف اوقات پر دونوں ملکوں کی طرف سے یہ یقین دہانیاں بھی دہرائی جاتی رہیں کہ امن اور مفاہمت کے تحت ہی تمام مسائل حل کئے جائیں گے مگرافسوس! عملاًکچھ بھی نہیں ہوا ، صورت حال میں کوئی فرق نہیں آئی اور معاملہ جُوں کا تُوں پڑارہا۔وقت گذرتا چلا گیا ،دونوں ملکوں میں سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں،سیاست دانوں کی سیاسی نہج بدلتی گئی۔کئی سیاست دان ناکارہ قرار دئے گئے، کئی سیاست سے ریٹائر ہوگئے اور نئے سیاست دان میدان میں کود پڑے۔حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں،حکمران بدلتے رہے،بولیاں بدلتی گئیں اور لہجے بھی تبدیل ہوگئے۔دونوں ملکوں کے سیاست دانوں اور حکمرانوں نے اپنے اپنے سیاسی مقاصد اور ملکی مفادات کے لئے ایک دوسرے پر الزامات لگانےکا سلسلہ شروع کردیا ،دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کردی گئیں،رنجشیں پروان چڑھیں ،کشیدگی بڑھتی چلی گئی اورپھرایک بار جنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں سرجیکل اسٹرائک بھی ہوئی۔الغرض ایسا سب کچھ ہونے کے بعد بھی دونوں ملکوں کو کیا کچھ حاصل ہوا ،دنیا بخوبی دیکھ چکی ہے،سوائے اس کے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حد متارکہ کے آر پار رہنے والے کشمیری ہی متواتر متاثر ہوتے رہے اور وقفہ وقفہ کے بعدجب بھی دونوں اطراف کی فوجوں کی طرف سےچاند ماری اور گولہ باری ہوتی رہتی ہے ،اس کا خمیازہ کشمیریوں کو ہی جان و مال کے نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ ٔ کشمیر پر آج بھی جس طرح کی لفاظی جنگ اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوںکا سلسلہ جاری ہے،اُس سے یہی عندیہ مل رہا ہے کہ کسی بھی وقت ایک اور بار روایت کے تحت پھر ایک جنگ کی نمائش ہوسکتی ہے جس کا نتیجہ ڈھاک کے تین پات والا ہی ثابت ہوسکتا ہے ۔کیونکہ جو بات اصولی طور پر غلط ہے وہ بھلا عملی طور پر کہاں صحیح ثابت ہوسکتی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ عقلمند لوگ ہمیشہ اصولوں کی پیروی کرتے ہیں اور جس کا معاملہ سچائی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے وہی نہایت عمدہ ہتھیاروں سے آراستہ ہوتاہےاور اُسی کے نصیب میںکامیابی ہوتی ہے۔دنیا دیکھ رہی ہے کہ وقفہ وقفہ کے بعد پیش آمدہ حالات و واقعات کے پیش نظر بھارت اور پاکستان کے درمیان جب بھی کشیدگی بڑھ جاتی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے سارےاقدامات منقطع ہوجاتے ہیں تودونوں ملکوں کے درمیان جنگ جیسی کیفیت رہتی ہے ۔بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا رہتا ہے اور پاکستان اسے اپنی شہ رگ جتلاتا رہتاہے ۔جس کی وجہ سے کشمیری کےتمام تر جائزانسانی، جمہوری اور بنیادی حقوق سلب ہوتے جارہے ہیں۔ایک ایک سال گذرتا چلا جا رہا ہے اور مسئلہ وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔کشمیری ایک طویل مدت سے جن مصائب و آلام کا شکار ہے، اُس پر کسی بھی جانب سے کوئی مثبت غور نہیں ہورہا ہے۔آج بھی ہر کشمیری درپیش نامساعد حالات سے نجات پانےکے لئے آہ و فغاں ہے۔اس کی شروع سے ہی خواہش رہی ہے کہ بھارت اور پاکستان آپسی نفرت اور بد اعتمادی کی دیواریں گرادیںاور اس خطہ کے متنازعہ مسئلے جمہوری طرز عمل کے تحت کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کریں۔اسی مقصد کے تحت کشمیری ایثار و قربانی سے دریغ نہیں کرتے ہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لئے آج بھی قیام امن کی کوششوں میں اپنا بھرپور تعاون دیتے رہتے ہیں۔بھارت اور پاکستان کے سیاست دان ، حکمران اور عوام کورونا وائرس کی وبا میں بھی اپنے اپنے مستحکم معاشروں میں جی رہے ہیں ،وہ محسوس ہی نہیں کرسکتے کہ کشمیر ی عوام کی زندگی کس قدر اذیت ناک ماحول اور غیر یقینی صورت حال میں گذر رہی ہے۔وہ دونوں ملکوں کے ساتھ کس طرح رہنا چاہتے ہیںیہ صرف کشمیری ہی جانتا ہے۔دنیا اُمید پر قائم ہے اور کشمیری پُر اُمید ہے کہ ایک نہ ایک دن اُن کی پکار رنگ لائے گی ۔حق تو یہ بھی ہے کہ بھارت اور پاکستان بہر حال دو ایسی طاقتیں ہیں جو کشمیر یوں کی سر زمین پر بر سر پیکار ہیںتاہم یہ طے ہے کہ بالآخر بھارت اور پاکستان کو وہی حل قبول کرنا ہوگا جو کشمیری عوام چاہیں گے،کیونکہ خود غرضی وہ قید خانہ ہے جس میں انسان زیادہ دیر نہیں رہ سکتااوربرداشت و برتاو ایسا آئینہ ہے جس میں ہر کوئی اپنا عکس دیکھ سکتا ہے۔