جموں//مسلم ایکشن کمیٹی جموں کاایک اجلاس محمدشریف سرتاج اورجنرل سیکریٹری ظہوراحمد کی صدارت میں منعقدہوا جس میں مقررین نے ہیرانگررسانہ میں آصفہ بانوعصمت دری وقتل معاملے کے ملزمان کی حمایت میں ریلی میں بی جے پی کے دوسینئر وزراء کی شمولیت پرتشویش کااظہارکیا۔اس دوران میٹنگ میں ظہوراحمدکومسلم ایکشن کمیٹی اوردیگرمسلم تنظیموں کی جانب سے بیان جاری کرنے کیلئے ترجمان مقررکیاگیا۔ظہوراحمدنے وزراء کی جانب سے ہندوایکتامنچ کی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے پولیس کوکہاکہ وہ کسی کوگرفتارنہ کرے اورکرائم برانچ کی تحقیقات کوجنگل راج قراردینے پرتشویش کااظہارکیا۔انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ دونوں کابینہ وزراء کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان سے وزارت کاقلمدان واپس لیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی قیادت کوچاہیئے کہ وہ ان دونوں وزراء کوخطہ میں کشیدگی پیداکرنے کے سلسلے میں پارٹی سے باہرکاراستہ دکھائے۔انہوں نے کہاکہ دونوں وزراء مختلف فرقوں کے درمیان کشیدگی کرنے کاموجب بننے والے بیانات پہلے بھی دے چکے ہیں۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ ان پولیس افسروں کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے وہ شواہدمٹائے جانے پرخاموش رہے۔انہوں نے نائب وزیراعلیٰ کے بیان کی ستائش کی اورکہاکہ اگرحکومت نے بی جے پی کے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوشش کرنے والے وزراء کووزارت سے نہیں ہٹایاتو ریاست گیرایجی ٹیشن شروع کی جاسکتی ہے۔اس دوران میٹنگ میں مقررین نے معصوم بچی کے جنسی استحصال اورقتل کے اس معاملے کوسیاسی اورمذہبی رنگ دیئے جانے پرانہیں انتہائی تشویش ہے۔انہوں نے کہاکہ جس طریقے سے قصورواروں کوڈھال مہیاکروانے کی غرض سے نام نہادحب الوطنی کاڈھونگ رچایاجارہاہے اورمتاثرہ کوانصاف دلانے کی خاطرجاری مہم کوغیرموثرکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہاکہ انھیں خدشہ ہے کہ اگراس کیس کوکسی دوسری تحقیقاتی ایجنسی کوسونپاجائے گاتووہاں قصورواروں کوڈھال مہیاکروائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ انھیں لگتاہے کہ اس وحشیانہ قتل کی تحقیقات میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے مذہبی منافرت کوہوادی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حیرت انگیزبات تویہ ہے کہ دائیں بازوکی جماعت اورمخلوط اتحادمیں شامل دووزراء عوام میں سیاسی اورمذہبی منافرت پھیلاکر تحقیقاتی عمل میں رخنہ ڈالنے پرتلے ہوئے ہیں۔مقررین نے مزیدکہاکہ وہ تمام دھڑوں کواس معاملے کوسیاسی رنگ نہ دینے کی اپیل کرتی ہیں اوروہ چاہتی ہیں کہ آصفہ کے لواحقین کوہراساں نہ کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ وہ ریاستی حکومت سے بھی گذارش کرتی ہیں کہ کرائم برانچ کی تحقیقات میں سرعت لائی جائے جس کے بعداس معاملے کاعدالت میں چالان پیش کرکے متاثرہ کے لواحقین کوانصاف دلایاجاسکے۔ واضح رہے کہ آصفہ بانو کی نعش گذشتہ 17جنوری کورسانہ گائوں کے جنگلوں سے ملی تھی ،اس سے قبل متاثرہ کو10جنوری کواغواکیاگیاتھا۔بتایاجاتاہے کہ آصفہ کے جسم پرتشددکے نشانات تھے اورقتل کرنے سے پہلے اس کے ساتھ جنسی زیادتی جیساگھنائوناکھیل کھیلاگیا۔یہاں یہ واضح کرناضروری ہے کہ آصفہ کاتعلق خانہ بدوش طبقے سے تھا اورحالیہ دنوں خانہ بدوشوں کوہراساں کرنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پہلے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی مگربعدمیں یہ کیس ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کومنتقل کردیاگیاتھا ۔کرائم برانچ کی ٹیم نے ابھی تک اک نابالغ لڑکے اوردوایس پی اوزگرفتارکئے ہیں مگرتحقیقاتی عمل کافی سست رفتاری سے چل رہاہے ۔