کبھی کبھی یادوں کے جھروکوںکی کسی بات پر متواتر توجہ مرکوز ہوجانے سے انسان کے بدن میں ایک کسمساہٹ پیدا ہوجاتی ہے ۔اسی کسمساہٹ میں مجھے بھی بار بار یہ یاد ستاتی رہتی ہے کہ وہ سیول انجینئر اور آرکٹیکچر ابابیل کہاں گئے جو دریا کی مٹی اور گھاس پھوس سے ہمارے گھروں کے اندر اپنے گھونسلے بناتے تھے ،جن کی بناوٹ کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی تھی۔اسی طرح وہ سفید اور سیاہ لباس اوڑھے اور سَر پر پیلے رنگ کا تاج سجائے ہوئے ہُد ہُد کہاں گئے ۔پوشنول اور کستور کہاں گئے ،طوطے کہاں گئے اورمینا کہاں چھپ گئی ؟ اب کہیں بھی طوطا مینا کی داستان ِ عشق کیوں نہیں سنائی دے رہی ہے ۔بلبُل کی چہچہاہٹ کہاں گئی ،صبح سویرے جگانے والی کویل کی کُو کُو خاموش کیوں ہوگئی ،یمبرزَل کہاں ہے اور شام کی رنگت والا ڈرون جہاز سٹائل کا بھونرا بھی کہاں غائب ہوا ہے؟
یقیناًجملہ حشرات الارض اور چرند و پرند اس کائنات کی خوبصورتی اور ماحولیات کو برقرار رکھنے کا کام دیتے تھے لیکن کارخانۂ قدرت کے تئیں ہماری ناالتفاتی اور بے جا مداخلت سے ماحولیات آلودہ ہوگیا ۔عالمی حدت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ،جس سے یہ پرندے یا تو ہجرت کرگئے ہوں یا دَم توڑ بیٹھے ۔حالیہ ایام کے دوران کئی مور بھی دم توڑ گئے ہیں۔شایداب چند کوے ،چیل اور گدھ ہی بچے ہوئے ہیں جو ماحولیات کو صاف رکھنے کا کام انجام دے رہے ہیں ۔چند نا آشنالوگوں کا ماننا ہے کہ کتے گندگی پھیلاتے ہیں اس لئے ان کو ختم کرنا چاہئے ،چنانچہ چند سال پہلے تک زہر سے کتوں کا خاتمہ کیاجارہاتھا لیکن کتوں کی خیر خواہ ایک خاتون ان کی طرف دار بن کر میدان میں کود پڑی اور عدالت عظمیٰ سے کتوں کو وائلڈ لائف کے زمرے میں لائی ،جس سے کتوں کو مارنے پر پابندی لگی ہے ۔بظاہرقدرت نے کتوں کا وجود یونہی بیکار میں نہیں لایا ہے،کتوں کا اس کرہ ٔ ارض پر ایک خاص کام ہے جسے یہ بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ایک کا کا بار بار کہہ رہا تھا کتوں کو غذا فراہم کرو ،ان کے لئے رین بسیرے قائم کرو ،کتوں میں صبر کا مادہ ہے ۔یہ شب بیداری کرتے ہیں۔کتے اس زمین پر قدرتی صفائی کرمچاری ہیں ، یہ کسی کو بلا وجہ نہیں چھیڑتے ہیں ۔یہ بھیڑ بکریوں کے ریوڈ کی رکھوالی کرتے ہیںکیونکہ ان کوسمجھایا گیا ہے کہ ’’یہ چیز کھانے کی نہیں ہے ‘‘۔ یہ مجرموں کو تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔کچھ دن پہلے تو لندن میں کتوں کے سونگھنے سے کووِڈ ٹیسٹ بھی کرائے گئے ،اس لئے کتوں پر پتھر مت پھینکو ،ان کو لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مت مارو ۔اسی طرح جملہ جنگلی جانور ماحولیات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن ہم ہیں کہ ان کا دائرہ حیات تنگ کرتے چلے جارہے ہیں ۔اور ہاں!اب کے یہ جنگلی جانور خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھے ہیں۔اب ہم آئے دن انسان اور جنگلی جانوروں کے مابین تصادم آرائی کی خبریں سُن تو رہے ہیںاور یہ جانورکار چِلا چِلا کر پُکارتے رہتے ہیںکہ ہمیں مت مارو ،ہم سے ہماری پناہ گاہیں مت چھین لو۔
یہ تو ہوئی قدرتی ماحولیات کی بات! اب ذرا سماجی ماحولیات کی طرف نظر ڈالیںتو مشاہدے میں آتا ہے کہ عوام الناس سرکار اور اس کے طبلچی ملازمین کی ناقص کارکردگی،لاپرواہی اور رشوت ستانی سے نالاں ہیں ۔یہ حضرات اپنے آپ کو عوام کے خادم تصور نہیں کرتے ہیں بلکہ شخصی راج کے حاکم ۔کسی سرکاری دفتر میںکوئی کام کروانا ہو تو اس کے لئے حضرت ایوب کا صبر اور حضرت خضر کی عمر چاہئے ۔خریدار ،دکاندار حضرات سے ملاوٹ ،ناجائز منافع خوری اور کم تولنے کی وجہ سے پریشان ہیں۔عوام مزدوروں اور کاریگروں سے ناخوش ہیں کہ یہ کام چور اور نااہل ہیں ۔کامگار کارخانہ داروں ،تاجروں ،ہوٹل والوں وغیرہ سے نالاں ہیں کہ یہ ان کی چمڑی اُتارتے ہیں لیکن اُجرت برابر نہیں دے رہے ہیں ۔سماج کا شیرازہ بکھر گیا ہے ۔رشتہ دار ایک دوسرے کے خلاف ہتھوڑے لئے ہوئے نظر آر ہے ہیںاور رشتوں کے بندھن توڑدینے میں لگے ہوئے ہیں ۔ایک دوسرے کے ساتھ بائیکاٹ پہ بائیکاٹ کئے جارہے ہیں ۔دوستوں کی دوستی میں سلوٹیںپڑگئی ہیں ،ایک دوسرے کی غم گساری اور چارہ سازی کرنے کے بجائے یہ لوگ سانپ اور بچھو بنے ہوئے ہیں ۔ہمسایہ ہمسایہ کے خلاف شمشیر بکف ہے کہ اس نے ٹرانسفارمر لگاکر میری وولٹیج کھائی ہے ۔اپنے مکان کی بلا ضرورت تیسری منزل تعمیر کرکے میرے لئے ہوا کی آمدورفت بند کردی ہے اور پانی کا موٹر نصب کرکے مجھے پیاسا رکھ کر خوش ہورہا ہے ۔والدین اپنی اولاد سے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے نالاں ہیں اور اب اولڈ ایج ہوم میں پناہ لینے کی تلاش میں ہیں ،پہلے نیو کلر فیملی جس میں میاں بیوی اور بچے ہوتے ،اب سب نیو کلر فیملی کا چلن ہوگیا جس میں خاوند الگ ،بیوی الگ اور بیٹا الگ رہنے لگے ہیں ۔ان کو ایک چھت کے نیچے زندگی گذارنا گوارا نہیں ہے۔بہو اپنے سسرال والوں کی ریشہ دوانیوں سے آج بھی حبہ خاتوں کے گیت الاپ رہی ہے کہ اے میرے میکے والو! میں سسرال میں دُکھی ہوں ،میرے دکھوں کی چارہ سازی کرو ۔اب کے بہو یا تو زہر کھاکر اپنی جان دے رہی ہے یا دریا میں چھلانگ لگاکر خود کشی کررہی ہے۔میکے والے بھی خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھے ہیں ۔وہ تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق ایسے سُسر ال والوں کے مکان کو آگ کے حوالے کررہے ہیں ۔اگرچہ بہو ساس اور سسر کے میزائیل حملوں سے نالاں ہے تو ساس سسر بھی بہو کے راکٹ حملوں سے زخمی ہورہے ہیں ۔خاوند بیوی کی گولہ باری سے اپنی پرانی یا نئی معشوقہ سے جڑنے کے چکر میں اپنی بیوی کا ٹینٹوا دبا رہا ہے ۔بیوی خاوند سے برسر پیکار ہے اور اس کے ہوائی حملوں سے بچنے یا اپنے من چاہے پرانے یا نئے عاشق سے جڑنے کے لئے محوِ کارہے ۔ وہ اپنے خاوند کا سر توپ کے گولے سے اُڑواکر تھانے میں رپٹ درج کرارہی ہے کہ یہ بے چارا چھت سے گِر کر ہلاک ہوگیا ہے ۔خواتین کے خلاف جرائم میں رو ز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔دفتروں،کارخانوں ،کھیتوں میں ستائو، زیادتی اور جنسی دبائو ،تعلیمی اداروں ،ٹیوشن سینٹروں اور عام جگہوں پر چھیڑ چھاڑ ،اغوا کاری ،بدکاری اور بہو کی آتش زنی شامل ہے۔دیہات میں شہروں کے مقابلے میں جرائم کی نوعیت کچھ مختلف ہے۔وہاں آپسی دشمنی کے نتیجے میں ایک دوسرے کے باغات میں دوران شب ثمر دار پیڑوں پر آرے چلتے ہیں ۔زمین کے جھگڑوں میں کلہاڑے خوب چلتی ہے۔مچھلی کے تالابوں میں بلیچنگ پاوڈر ڈال کر مچھلیوں کا قتل عام کرکے ایک دوسرے کا نقصان کیا جارہا ہے۔جس خطۂ ارضی پر زعفران ،زیرہ سیاہ ،سبزیاں اور ثمر وںکے پیڑ لگائے جاسکتے ہیں وہاں اس زمین پر بھنگ کی کاشت کی جارہی ہے تاکہ منشیات کا کاروبار کرکے بے پناہ دولت کمائی جائے۔بڑھتے جرائم کی وجہ سے پولیس تھانوں پر اُووَر لوڈ ہوچکا ہے۔اسی طرح عدالتوں میں حق وانصاف کی جنگ لڑنے کے لئے کروڑوں مقدمے درج ہوتے ہیں ۔ایک جدید تحقیق کے مطابق حسد، عداوت ،کینہ پروری ،بے صبری ،انتقام گیری اور باہمی صلح صفائی کے لئے جھکائوکے فقدان کی وجہ سے امراض ِ قلب اور کینسر کی بیماری لگ جاتی ہے ۔اسی طرح منفی سوچ رکھنے سے بھی کینسر سیل ڈیولپ ہوسکتی ہے۔مثبت سوچ رکھنے والوں کے لئے سادہ پانی بھی قند و نبات اور شکر ہوسکتا ہے۔ہمارے سماج میں پڑھے لکھے ،اَن پڑھ یا نام نہاد افضل وفاضل اور نا تراشیدہ عناصر کے ہاتھوں دین میںایسے بے شمار احادیث اور روایات داخل کی جاچکی ہیں جن کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔جن کی رو سے ہر ایک شخص گناہوں سے بے خوف اور بے عمل بن چکا ہے ۔اس طرح ہم نہ دین کے رہے ہیں اور نہ دنیا کے۔نہ ہم میں روحانی طاقت حاصل ہوئی نہ دنیاوی۔اس وجہ سے ہم مار کھا رہے ہیں ۔بغیر قول و فعل کے محض دکھاوے کی خاطر رسمی طور پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی باتیں کرتے رہتے ہیںاور بغیر عشق کے شب قدر کی برکت،رحمت اور فضیلت تلاش کرتے ہیں۔ حقیقی معنوں میںنہ خود سیدھے راستے پر چلتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔لکیر کے فقیر بن کر وہی کچھ کرتے چلے جارہے ہیںجس سے نہ ہماری دنیا سنور جاتی ہے اور نہ ہی آخرت بنتی ہے۔
باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے ہیں۔ہماری حالت ایسے مریضوں کی بن گئی ہے جو بیماری سے نجات پانے کے لئے دوا تو کھاتے ہیں مگر پرہیزنہیں کرتے ہیں۔
رابطہ۔مخدوم صاحب ،سرینگرکشمیر
فون نمبر۔ 9906158193