سرینگر جموں شاہراہ کا غلط وجوہات کی بناء پراکثر وبیشتر خبروں میں رہنا معمول بن چکا ہے ۔شاید ہی کوئی ایسا دن ہوگا جب اس شاہراہ کے حوالے سے کوئی نہ کوئی خبر اخبارات میں شائع نہ ہوتی ہو۔شاہراہ کا جزوی کاکلی طور مسدو ہونا اب تو معمول کی خبر بن چکی ہے اور ہر روز ادہم پور سے جواہر ٹنل تک کسی نہ کسی جگہ پسیاں اور پتھر گر آنے کی وجہ سے شاہراہ بند ہونے کی اطلاعات موصول ہوتی ہے اور اب اگر شاہراہ بند نہ ہو تو پھر حادثات کی خبر آتی ہے جن میں انسانی جانوںکا زیاں ہوجاتا ہے ۔یہ شاہراہ اب تک جتنے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کو نگل چکی ہے تو کئی لوگ اب اس کو موت کی شاہراہ بھی کہتے ہیں اور انکے لئے یہ اب آدم خور بن چکی ہے ۔
ڈوگراہ مہاراجہ ہری سنگھ نے اس شاہراہ کو1926میں اپنے اہل و عیال اور درباریوں کو سرمائی دارالحکومت جموں پہنچنے کیلئے تعمیر کیا تھا۔250کلو میٹر لمبی سرینگر جموں شاہراہ اس وقت بھی دنیا کے پر خطر راستوں اور دہشت ناک شاہرائوں میں شمار ہوتی ہے۔1950کی دہائی میں پیر پنچال پہاڑیوں کو چیر کر تعمیر کی گئی ٹنل(سرنگ) وادی میں رہائش پذیر قریب65لاکھ لوگوں کیلئے خط حیات(لائف لائن) کی حیثیت رکھتی ہے۔ وادی میں اسی شاہراہ سے تمام اشیائے ضروریہ جن میں چاول،دالیں،سبزیاں،گوشت،مرغ،پیٹرولیم مصنوعات اور ادویات کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس شاہراہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب موسم ابر آلود رہتا ہے یا برف و باراں ہوتا ہیں تو شاہراہ پر برفانی تودے اور پسیاں گرتی ہیں،اور جب دھوپ ہوتی ہے تو چٹانیں کھسک جاتی ہیں یا پہاریوں سے از خود سنگ اندازی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مسافروں کی زندگیاں ہمیشہ خطرے سے دو چار ہوتی ہیں۔
امسال موسم سرما میں جب جموں کی جانب ،میں نے پنی گاڑی میں رخت سفر باندھا توقریب13گھنٹوں کے بعد جموں پہنچنے میں آخر کار کامیاب ہوا،حالانکہ موسم صرف ابر آلودتھا اور ٹریفک بھی یک طرفہ رواں دواں تھا ۔اس بیچ والدین اور دیگر رشتہ داروں کی جانب سے میرا حال پوچھنے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دن بھر میرا موبایل فون بھی بجتا رہاکیونکہ اہل خانہ سلامتی کے حوالے سے فکر مند تھے ۔ اس شاہراہ پر سب سے زیادہ خطرناک علاقہ رام بن سے رام سو تک کا24کلو میٹر راستہ ہے،جہاں پر کئی جگہوں پر چٹانیں کھسکنے،پتھر گرنے،تودے گرنے اور پھسلن کا زبردست خطرہ رہتا ہے،اور مسافروں کو سفر میں ایک ایک انچ کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس علاقے میں اگر راستہ بند ہوجائے تو یہ مسافروں کیلئے نہ صرف سب سے بڑا درد سربن جاتاہے،بلکہ یہ کسی خوفناک خواب سے کم نہیں ہوتا۔ اس علاقے میں کئی مقامات کے نام بھی ڈرائونے اور خوفناک ہیںجس کے نتیجے میں مسافروں کی نفسیات بھی دہشت زدہ ہوجاتی ہے۔ ان مقامات میں خونی نالہ کا نام سن کر جہاں رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں وہیں شیطانی نالہ کا نام سن کر اچھے اچھے بہادوں کی گھگھی بند ہوجاتی ہیں،مگرکوٹ،پنتھیال،شیر بی بی اور بیٹری چشمہ بھی ایسے نام ہیں،جن سے مسافر ایک بار یہ سوچنے پر مجبور ہوجتا ہے کہ آخر کس نے اور کیونکر ان علاقوں کے یہ نام رکھے گئے ہیں۔شیر بی بی وہ علاقہ ہے جہاں پر پہاڑوں سے اچانک پتھر گرتے ہیں،اور اس علاقے سے بچ کر نکلنا مسافروں کیلئے خوش قسمتی ہوتی ہے۔اس علاقے میں چٹانیں کھسکنے سے ایسے حاد ثات رونما ہوئے ہیں،جن سے گاڑیاں نزدیکی نالہ میں گر کرنیست و نابود ہوجاتی ہیں۔ مگر کوٹ میں بھی بارہا سڑک کا ایک حصہ ڈھنے سے کافی عرصے کیلئے یہ سڑک ٹریفک کی نقل و حمل کیلئے بند کی گئی۔1960سے لیکر170کی دہائی تک شاہراہ پر ناشری کا علاقہ خطرناک مانا جاتا تھا،جہاں پر پھسلن اور ٹریفک جام کا سلسلہ دنوں تک جاری رہتا تھا۔ علاقے میں جامع انداز میں شجر کاری کے بعد یہ علاقہ کچھ بہتر ہوا،تاہم اب ناشری ٹنل کی تعمیر سے گاڑیوں کی سانس تک پھولنے والے علاقے پٹنی ٹاپ سے سفر کرنے سے انہیں نجات ملی۔
جموں سرینگر قومی شاہراہ کا سب سے مشکل ترین حصہ ضلع رام بن کا مانا جارہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے نہایت ہی سست رفتار ی سے شاہراہ کو چار گلیاروں والی سڑک بنانے والے پروجیکٹ پر تعمیراتی کام کے دوران نجی تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے’’ ناتجربہ کاری اوربے مہارت کٹائی، پہاڑیوں کو کاٹنے کے نہ رُکنے والا سلسلے ،تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے ہورہی بلاسٹنگ‘‘کی وجہ سے ہر مہینے کئی کئی دن شاہراہ مٹی کے تودے گرآنے کی وجہ سے بند ہوکررہ جاتی ہے۔ شاہراہ پر حادثات کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ جموں سرینگر قومی شاہراہ ضلع رام بن میں یقینی طور سے خونی شاہراہ بن گئی ہے کیونکہ آئے دنوں اس علاقہ میں کوئی نہ کوئی گاڑی لڑھک جاتی ہے یا کھائی میں جاگرتی ہے۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران سری نگرجموں شاہراہ پربانہال سے رام بن تک ہی کے نام میں تبدیل ہورہی ہے۔ سال2010کے اوائل سے سال2019کے اواخرتک بانہال سے رام بن تک قومی شاہراہ پرکل 2842سڑک حادثات رونماہوئے ،جس دوران868قیمتی جانیں تلف ہوئیں اور3960افرادزخمی ہوگئے ،جن میں سے بعدازاں کئی ایک کی موت واقعہ ہوئی جبکہ کئی ایک عمربھرکیلئے جسمانی طورپرمعذور اورناتواں بن گئے ۔جموں سرینگر قومی شاہراہ پرناشری ٹنل سے جواہر ٹنل کے درمیان کا پورا حصہ نہایت ہی مشکل ترین پہاڑیوں کو کاٹ کر بنایا جارہاہے۔
شاہراہ پر خونین رقص جاری ہے،جس پر عوام نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ماہرین اورجانکار لوگ کہتے ہیں کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے شاہراہ کو چار گلیاروں والی سڑک بنانے کے پروجیکٹ کومرتب کرنے کے دوران اہم نکات پر غور وخوض نہیں کیا گیاجس کی وجہ سے سری نگرجموں قومی شاہراہ آج تک خستہ حالت میں ہے اورہرسال اس شاہراہ پرگاڑیوں میں سفر کرنے والے درجنوں لوگ مارے جاتے ہیں ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹرنے سری نگرجموں قومی شاہراہ کی خستہ حالی اور تشویشناک طور سے بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کو لیکر بات کرتے ہوئے ایک میڈیا ادارے کوبتایاکہ قومی شاہراہ کی خستہ حالی اور بڑھتے ہوئے سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے نیشنل ہائی وے اتھاڑتی آف انڈیا کو رام بن اور بانہال کے درمیان جیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ذریعے از سر نو سروے کرانے کے ساتھ ساتھ یکطرفہ ٹریفک کو زمینی سطح پر لاگو کرنے سمیت رات کے وقت شاہرا پر ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے کا کام جلد از جلد کرنا ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ شاہراہ کی توسیع کی تکمیل ہنو دلّی دور است کے مصدق ہی ہے اور یہ خواب مستقبل قریب میں تعبیر ہونے والا نہیں ہے ۔حاصل کلا م یہ ہے کہ کشمیریوںکیلئے یہ لائف لائن آنے والے کئی سال تک خونی شاہراہ ہی رہے گی اور نہ ہی سفر آسان ہوگا اور نہ ہی حادثات ٹلنے کا کوئی امکان نظر آرہا ہے۔