جموں //حال ہی میں ریاستی انتظامی کونسل کی جانب سے مختلف سکولوں کادرجہ بڑھایاگیاہے جس کی وجہ سے متعلقہ علاقوں میں خوشی پائی جاتی ہے لیکن بعض اسکول ایسے ہیں جوتمام ترلوازمات مکمل کرنے کے باوجود فہرست سے باہررکھے گئے ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگوں میں حکومت کے تئیں غم وغصے اورناراضگی کی لہرپائی جارہی ہے۔اس سلسلے میںضلع ریاسی کی پنچایت بھبھرکنڈرہ میں ایک اجلاس سرپنچ بودھراج کی صدارت میں منعقدہواجس میں مقررین نے کہاکہ ہائی سکول کنڈرہ کی فیسبلٹی رپورٹ زیرنمبر 788 مورخہ 6 اکتوبر 2018کومحکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کوسونپی گئی تھی جس میں ہائی سکول کنڈرہ ،درجہ بڑھائے جانے کے سلسلے میںتمام ترلوازمات پورے کرتاتھالیکن حکومت نے جب چندروزپہلے درجہ بڑھائے جانے والے اسکولوں کی فہرست جاری کی تواس فہرست میں ہائی سکول کنڈرہ کانام شامل نہ کرکے علاقہ کے ساتھ ناانصافی کی۔ انہوں نے کہاکہ ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ 1984 سے نہیں بڑھایاگیاہے جس کی وجہ سے علاقہ کی کثیرآبادی کے طلباء کواعلیٰ تعلیم کیلئے پچاس کلومیٹرکاسفرطے کرکے ریاسی جاناپڑتاہے۔سرپنچ بودھراج ودیگرمقررین نے کہاکہ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ پنچایت کی عوام نے اس عوامی نوعیت کے معاملہ کوریاستی گورنرکے صلاحکارخورشیدگنائی کے ساتھ زیربحث لایاتھااوریہ ہدایات بھی متعلقہ محکمہ کوجاری ہوئی تھیں کہ تمام ترلوازمات مکمل کرنے والے ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ ہائرسکینڈری کیاجائے لیکن اس کے باوجودعوام انصاف سے محروم رہی ۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے انتباہ دیاکہ اگر ہائی سکول کنڈرہ کادرجہ بڑھاکرہائرسکینڈری نہ کیاگیاتوعوام کٹرہ ریاسی سڑک بندکرکے احتجاج کرنے پرمجبورہوجائے گی۔