آج ہمیںاپنےسماج و معاشرے کی تشکیل اپنے گھروں سے شروع کرنے کی بہت اوراشد ضرورت ہے۔موجودہ صورتِ حال پر غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہماری زندگی اور ہماری قوم و ملت کی نوجوان نسل،یہاں تک کہ کمسن بچوں اور بچیوں کے قدم کس جانب بڑھ رہے ہیںاور یہ لوگ کن لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں،کس ماحول میں وقت گذارتے ہیں،کیا کیا کرتے رہتے ہیں،ان باتوں کا علم رکھنا ہم پر لازم ہے۔اکثر گھرانوں کے ذمہ داران و سرپرست حضرات اپنے روزگار اور دیگر کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ کیا وہ ان باتوں کو مدِنظر رکھ کر اپنی نوجوان اولاد اور بچوں کا جائزہ لینے کے لئے تھوڑا سا وقت نکال لیتے ہیں؟اگرچہ سبھی والدین بچوںکے تعلیمی اخراجات برداشت کرتے ہیں، اُن کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں۔ فطری طور پر اپنی اولاد سے پیار ، محبت،شفقت اور لگاؤ رکھتے ہیںاور انہیں ایک اچھا اور کامیاب انسان بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں،گویا ہر کوئی اپنی اوالاد کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق حتی المکان سہولیات مہیا رکھنے کی تگ و دو میں رہتا ہے،جو کوئی بُری بات بھی نہیں ہے لیکن یہی سب کچھ بچوں کی فلاح و بھلا کے لئے کافی ہے؟چنانچہ جس تیز رفتاری کے ساتھ بُرائیاں جنم لے رہی ہیں،جس انداز سے بچے تعلیمی معاملات سے دور ہوتے جارہے ہیں،جس دلچسپی کے ساتھ ہماری اولاد رات ،دن موبائل میں فحش فلمیںدیکھنے، ویڈیوز، گانے سُننے، پب جی گیم، فری فائر گیم وغیرہ اور نہ جانے کن کن معاملات میں محو رہ کر اپنا قیمتی وقت برباد کر تےہیں۔کیا وہ اُن کے مستقبل کے لئے ٹھیک ہے؟ کیا اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہےکہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ گلی محلہ اور پڑوسیوں کے آس پاس بیٹھ کر یہ بچے وقت ضائع کرتے ہیں، اُن کی روک تھام کی ضرورت نہیں ہے؟ ہمارے سماج و معاشرہ میں خاص طور سے معزز خواتین اور مائیں، بہنیں گھر کی تمام تر ذمہ داریاں مثلاًکھانا پکانا، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ بہ حسن خوبی انجام دیتی ہیں، یہاں تک کے بچوں کی مکمل رہنمائی کرنے اور ان کی بہترین تربیت کے پیش نظر دیکھا جائے تو وہ قابل لائق قدر ہیں مگر افسوس کہ آج اولاد، بچوں کے دلوںسےاپنے سرپرستوںو ذمہ داروں کا خوف و ڈر نکلتا جارہا ہے۔ آج یہ بچے، بچیاں اور ہمارے نوجوان، جو ماں باپ کے لاڈلے ہیں،کھلم کھلاایسا سب کچھ کرتے رہتے ہیں۔کیا ان پر سخت نظر رکھنے کی ضرورت نہیںہے؟ سب سے اہم بات کہ ان بچوں کی زندگی میں اخلاقیات، اکرامِ مسلم کی تعلیمات سے روشناس کرانے، انہیں بُری عادتوں اور فضول کاموں سے بچانے،خصوصاًان کامستقبل سنوارنے کے لئے ہم کیا کررہے ہیں؟خدارا! اپنے بچوں او ربچیوں کو ایسےبہتر اور مثبت تحفے دیجئے،جن سے ان کی اصلاح ہوسکے،سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اپنا تھوڑا وقت اُن کو دےدیجئے،اُن کی حرکتوں اور کرتوتوں کا بغور جائزہ لیجئے،اُن کی بھرپور خبر گیری کا خیال رکھیں۔ اُن کے دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ، دینی معاملات اوراُن کے مستقبل کی فکر کیجئے۔اگر آپ ان کی فکر نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ ہم اگر اصلاح فکر کا آغاز اپنے گھروں سے کریںگے ،تو اِن شاء اللہ ایک پاکیزہ سماج و معاشرہ وجود میں آسکتا ہے، یہی نئی نسل کے بچے اور بچیاں معمارِ قوم بن کر ایک نئی مثالی تاریخ رقم کر جائیں گے۔