احمد کشمیری
بعض سانحات ایک دن کی سرخیاں بنتے ہیں، جبکہ بعض ایسے ہوتے ہیں جو کسی معاشرے کے اجتماعی شعور پر ہمیشہ کے لئے اپنے نقوش ثبت کر جاتے ہیں۔ 8 جولائی کو مگام کے مقام کنی ہامہ میں پیش آنے والا المناک سڑک حادثہ، جس میں ٹنگمرگ کے دو ممتاز لیکچررز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، انہی سانحات میں سے ایک ہے۔ یہ محض ایک المناک حادثہ نہیں تھا بلکہ اس نے معاشرے کو دو ایسے روشن دماغوں سے محروم کر دیا، جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور خاموش وقار کے ساتھ انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھے تھے۔
زندگی دراصل مسلسل جدوجہد، استقامت اور محنت کا نام ہے۔ انسان برسوں تعلیم حاصل کرتا ہے، مشکلات کا سامنا کرتا ہے، اپنا مقام بناتا ہے اور یہ آرزو دل میں رکھتا ہے کہ دنیا میں کچھ ایسا چھوڑ جائے جو اس کے بعد بھی باقی رہے۔ مگر پھر اچانک تقدیر ایک ایسا فیصلہ سنا دیتی ہے جو سب کچھ بدل دیتا ہے۔ اس سے زیادہ دردناک لمحہ شاید ہی کوئی ہو کہ انسان کو معلوم ہو کہ بچپن کا وہ دوست، جس کے خواب، جدوجہد اور کامیابیاں آپ کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی ہوں، اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
منظور احمد ملک، لیکچرر فزکس اور شبیر احمد ڈار، لیکچرر کیمسٹری محض پیشے کے اعتبار سے اساتذہ نہیں تھے بلکہ وہ حقیقی معنوں میں مربی، معلم اور تعلیم کے علمبردار تھے۔ اپنی علمی قابلیت، انکساری اور طلبہ و معاشرے کی فلاح کے لیے مخلصانہ خدمات کے باعث وہ ہر دل عزیز تھے۔ اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود دونوں نہایت سادہ مزاج اور خاکسار انسان تھے۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہمیشہ سجی رہتی تھی اور کامیابی نے کبھی انہیں عام لوگوں سے دور نہیں کیا۔ طلبہ ہوں، ساتھی اساتذہ یا پڑوسی، ہر ایک کے لئے ان کے دروازے اور دل یکساں طور پر کھلے رہتے تھے۔ ان کی رحلت نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جسے وقت بھی آسانی سے پُر نہیں کر سکے گا۔
میرے لیے شبیر صاحب کی جدائی محض ایک خبر نہیں بلکہ ذاتی سانحہ ہے۔ میں نے انہیں بچپن سے جانا، ان کی شخصیت کو پروان چڑھتے دیکھا اور ایک ذہین طالب علم سے ایک کامیاب استاد، ذمہ دار خاندانی فرد اور سب سے بڑھ کر ایک غیر معمولی انسان بنتے دیکھا۔ کامیابی نے ان کی سادگی کو کبھی متاثر نہیں کیا بلکہ دوسروں کی خدمت کا جذبہ ان کے اندر مزید مضبوط ہوتا گیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل شبیر صاحب کا یقین تھا کہ تعلیم صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں ہوتی۔ اگرچہ وہ کیمسٹری کے لیکچرر تھے، لیکن انہوں نے سینکڑوں طلبہ کو ریاضی بھی پڑھائی اور رہنمائی فراہم کی۔ ان کا دروازہ ہر طالب علم کے لیے کھلا رہتا، خواہ وہ ان کی کلاس یا ادارے سے تعلق رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ وہ ہر طالب علم کی کامیابی کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھتے تھے۔تاہم تدریس ان کی شخصیت کا صرف ایک پہلو تھا۔ جو لوگ انہیں قریب سے جانتے تھے، وہ انہیں صرف ایک قابل استاد نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں جس کی نیکی اور حسنِ اخلاق زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں تھا۔ مثبت سوچ ان کی شخصیت کا بنیادی وصف تھی۔ وہ ہمیشہ تنقید کے بجائے حوصلہ افزائی، مایوسی کے بجائے امید اور سختی کے بجائے نرمی کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ ایسے الفاظ کا انتخاب کرتے جو زخم دینے کے بجائے مرہم بنتے، مایوسی کے بجائے حوصلہ پیدا کرتے اور دلوں کو جوڑتے۔ شاید ہی کوئی مرد، عورت یا بچہ ایسا ہو جو یہ کہہ سکے کہ شبیر صاحب نے کبھی اپنی زبان یا رویّے سے اس کی دل آزاری کی ہو یا اسے مایوس کیا ہو۔ ان کی مسکراہٹ پریشان دلوں کو سکون دیتی، ان کے الفاظ ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو نئی قوت بخشتے اور ان کی موجودگی ہی آسودگی اور اعتماد کا احساس پیدا کرتی تھی۔
انہوں نے اپنے والد سے صرف معلمی کا باوقار پیشہ ہی ورثے میں نہیں پایا بلکہ معاشرے کی بے لوث خدمت کی درخشاں روایت بھی حاصل کی۔ اسی ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت، نوجوان ذہنوں کی رہنمائی اور بھٹکے ہوئے افراد کو دوبارہ زندگی کی درست راہ پر لانے کو اپنا مشن بنا لیا۔ ان کا یقین تھا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف کامیاب افراد پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسے انسان تشکیل دینا ہے جو باکردار، ذمہ دار اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والے ہوں۔
شبیر صاحب کی شخصیت کا شاید سب سے نمایاں پہلو ان کی خاموش خدمتِ خلق تھی۔ وہ مستحق طلبہ، نادار خاندانوں، ساتھی اساتذہ، دوستوں اور ہر ضرورت مند کی دل کھول کر مدد کرتے، مگر ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتے کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔ شہرت اور ستائش کبھی ان کی خواہش نہ تھی۔ ان کے لیے کسی کے بوجھ کو ہلکا کر دینا ہی سب سے بڑا انعام تھا۔ ان کی سخاوت صرف مالی امداد تک محدود نہیں تھی، وہ اپنا وقت، اپنا علم، اپنا اثر و رسوخ اور اپنی پوری توجہ بھی ہر اس شخص کے لیے وقف کر دیتے جو ان سے مدد کا طالب ہوتا۔جونہی اُن کی وفات کی خبر پھیلی، مرد، عورتیں، بزرگ اور بچے اپنے گھروں سے نکل آئے تاکہ اپنے محبوب استاد کو آخری الوداع کہہ سکیں۔ ہزاروں افراد نے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ یہ محض ایک معزز استاد کی رخصتی نہ تھی بلکہ ایک ایسے انسان کو معاشرے کا اجتماعی خراجِ عقیدت تھا، جس کی خاموش نیکیوں نے بے شمار دلوں کو چھوا تھا۔
اس روز غم کے بے شمار مناظر دیکھنے میں آئے۔ ان کی ایک طالبہ جنازے کے دوران اس قدر زار و قطار رو رہی تھی کہ اس کے آنسوؤں کی شدت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
منظور صاحب بھی معلمی میںاِنہی اعلیٰ ترین اوصاف کا پیکر تھے، نہایت شائستہ، باوقار اور ہر دل عزیز۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی خلوص، وقار اور لگن کے ساتھ علم کی شمع روشن کرنے میں گزاری۔ شبیر صاحب کی طرح وہ بھی اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود نہایت سادہ مزاج اور خاکسار رہے۔ (جاری )
[email protected]
������������������