ڈوڈہ //گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ میں منگل کے روز درد زہ میں مبتلا خاتون کی موت پر اس کے رشتہ داروں نے ڈاکٹروں و نیم طبی عملہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے لاپرواہی کا الزام ٹھہرایا۔اطلاعات کے مطابق منگل کے روز ساڑھے دس بجے کے قریب چرالہ سے تعلق رکھنے والی ایک حاملہ خاتون نجلہ دیوی (33)کو گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ پہنچایا گیا جہاں پر اس کے رشتہ داروں کے مطابق ڈاکٹروں کی غیر موجودگی میں ڈیوٹی پر تعینات نیم طبی عملہ نے غلط انجکشن لگائے اور کچھ ہی منٹوں بعد اس کی موت واقع ہوئی۔مہلوک خاتون کی بہن ودیہ دیوی نے کہا کہ وہ گھر سے ٹھیک حالت میں ہسپتال پہنچی تھی لیکن غلط انجکشن لگنے سے اس کی موت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر غلط انجکشن نہیں دیا ہوتا تو پھر اس کی موت کے فوراً بعد ہماری کاپی کو کیوں چھپایا گیا۔اس کی ایک اور رشتہ دار کرشنہ دیوی نے کہا کہ اسوقت یہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا جب نرس نے انجکشن دیا تو اس کے بعد مریضہ خاتون کی حالت بگڑ گئی اور پھر ڈاکٹر پہنچے تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔اس معاملہ کو لے کر ایک گھنٹہ تک مہلک خاتون کے رشتہ داروں نے جی ایم سی کے باہر احتجاج کیا۔اس ضمن میں آج پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ ڈاکٹر دنیش کمار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں نے اچھی طرح سے خاتون کی طبی جانچ کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچایا تھا ڈاکٹروں کا کوئی قصور نہیں ہے۔پرنسپل نے کہا کہ مذکورہ خاتون کو پہلے سے ہی کھانسی و بخار کی شکایت تھی۔پرنسپل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ گھنٹہ تک مسلسل ڈاکٹر اس خاتون کی جانچ کرتے رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بچہ پیٹ ہی مر چکا تھا اور ڈاکٹروں کی کوئی لاپرواہی نہیں ہے اور وسعت کے مطابق ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔پرنسپل نے کہا کہ ہمیں خود اس بات کا دکھ ہے اور اس گھڑی میں ہم اہل خانہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔