جموں//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر کے کے شرما نے جموں وکشمیر کے پبلک سیکٹر یونٹوں کو مالی لحاظ سے مزید متحرک بنانے کی ہدایت دی ہے تاکہ وہ اس خطے کی اقتصادی صورتحال کو مزید سدھارنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اپنا رول ادا کرسکے۔مشیر موصوف نے یہ بات آج یہاں جے کے سیمنٹس لمٹیڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرس کی 102ویں میٹنگ میں کہی ۔میٹنگ میں فائنانشل کمشنر خزانہ ارون مہتا ،کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت ایم کے وویدی ، سیکرٹری پی ڈی ڈی ایم راجیو، ڈائریکٹر جنرل پلاننگ صاحبزادہ بلال ، ڈائریکٹر جیالوجی اینڈ مائننگ وِکاس شرما، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے سمنٹس ایم آئی درابو اور دیگر افسران موجو دتھے۔مشیر نے کارپوریشنوں کو منافع بخش بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اِن اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی راہ میں حائل رُکاوٹوں کو دُور کیا جانا چاہیئے۔مشیر موصوف نے کارپوریشن کو درپیش معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جے کے سیمنٹس کے احیائے نو کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اِس سلسلے میں ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں۔مشیر نے جموں وکشمیر سیمنٹس کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنا پروڈکٹ بازار میں دستیاب رکھنے کے علاوہ نجی اداروں اور تعمیراتی ایجنسیوں کو فراہم کرنے کو بھی یقینی بنائیں تاکہ یہ کارپوریشن صر ف حکومت پر منحصر نہ رہے ۔ مشیر نے کارپوریشن کے افسران کو اِس ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے جامع منصوبہ تیار کرنے کے لئے کہا تاکہ اِس ادارے میں تیار کئے جانے والے سیمنٹ کو ملکی سطح پر مارکیٹ کیا جاسکے۔میٹنگ میں کارپوریشن کے ملازمین سے جُڑے دیگر کئی معاملا ت پر بھی غور و خوض کیا گیا۔اس دوران گورنر کے مشیر کے کے شرما نے جموں کشمیر یو ٹی میں چھوٹی صنعتوں کے سیکٹر کو موثر طریقے پر بڑھاوا دینے کیلئے ایک جامع لایحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ کارخانہ داروں کو مناسب ماحول دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ سکیموں کی موثر عمل آوری کو بھی یقینی بنایا جا سکے ۔ مشیر موصوف سڈکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 139 ویں میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے ۔ فائنانشل کمشنر خزانہ ارون کمار مہتہ ، سیکرٹری صنعت و حرفت منوج کمار دویدی ، ڈی جی پلاننگ صاحب زادہ بلال ، ناظم انڈسٹریز کشمیر محمود احمد شاہ اور کئی دیگر افسران میٹنگ میں موجود تھے ۔ کے کے شرما نے تمام صنعتی اسٹیٹ میں سی ٹی پیز کے فوری تکمیل پر زور دیا تا کہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھا جا سکے ۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے پہلے ہی رقومات مختص کئے گئے ہیں ۔ مشیر موصوف نے کارپوریشن کے کام کاج میں مزید شفافیت اور جوابدہی لانے پر بھی زور دیا تا کہ خطے میں صنعتی منظر نامے کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ انہوں نے لعت و لعل سے کام لینے والے ملازمین کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی بھی ہدایات دیں ۔ انہوں نے کہا کہ اُن صنعتکاروں کی نشاندہی کی جانی چاہئیے جنہیں اراضی الاٹ کی گئی ہے تا ہم انہوں نے اپنے یونٹ شروع نہیں کئے ہیں ۔ انہوں نے یوٹی میں نئے صنعتی یونٹ قائم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے خطے میں روز گار کے کافی وسائل پیدا ہوں گے ۔ میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ کارپوریشن نے سال 2019-20 کے دوران 53 کروڑ روپے کا منافع درج کیا ۔ میٹنگ میں کارپوریشن کی طرف سے عملائے جا رہے کئی بڑے پروجیکٹوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا ان میں سڈکو انڈسٹریل کمپلیکس اوم پورہ بڈگام میں 237 کروڑ روپے کی لاگت سے نیشنل انسٹی چیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی ، آئی جی جی لاسی پورہ انڈسٹریل سٹیٹ کو بڑھاوا دینا اور کئی دیگر اہم پروجیکٹ بھی شامل ہیں ۔