جموں// جموں وکشمیر کی کابینہ سے گذشتہ ہفتے مستعفی ہوجانے والے بی جے پی لیڈر چودھری لال سنگھ نے کہا کہ وہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کے لئے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی انکوائری سے ریاستی حکومت کا کیس خراب نہیں ہوگا۔ لال سنگھ نے پیر کے روز نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم نہیں چاہیں گے کہ کسی بے گناہ کو سزادی جائے۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ حقیقی ملوثین بچیں‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کٹھوعہ کیس عدالت میں ہے اور وہ کیونکر سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کررہے ہیں، تو ان کا کہنا تھا ’کیا سی بی آئی ریاستی حکومت کا کیس خراب کرے گی۔ عدالت اپنی کام کررہی ہے۔ ایک اور عدالت لوگوں کی عدالت ہے، وہ بھی اپنا کام کررہی ہے‘۔ لال سنگھ نے کہا کہ ریاستی حکومت کو کٹھوعہ واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کرانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’سارے لوگ اگر یہ کہہ رہے ہیں تو سی بی آئی انکوائری کرانے میں کیا تکلیف ہے؟ 2009 میں شوپیان میں سیکورٹی فورسز کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا لیکن بعد میں یہ معلوم ہوا کہ بچیاں ڈوب گئی تھیں۔ سرکار کو لوگوں کی امیدوں پر چلنا چاہیے۔ سی بی آئی انکوائری کرنی چاہیے۔ کمسن بچی کو بھی انصاف ملے گا۔ قاتل بھی سامنے آجائیں گے‘۔ واضح رہے کہ کٹھوعہ واقعہ کی وجہ سے پی ڈی پی بی جے پی مخلوط حکومت میں شامل دو بھاجپا وزراء چندر پرکاش گنگا اور چودھری لال سنگھ کو گذشتہ روز اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ بی جے پی کے اِن دو وزراء نے یکم مارچ کو ضلع کٹھوعہ میں آصفہ عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کرکے سول و پولیس انتظامیہ کے عہدیداروں کو گرفتاریاں عمل میں نہ لانے کی ہدایات دی تھیں۔ کٹھوعہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ان وزراء نے ایک مخصوص کیمونٹی کے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جائے گا۔ تاہم دونوں مستعفی وزراء کا کہنا ہے کہ انہیں پارٹی کی طرف سے وہاں جانے کے لئے کہا گیا تھا۔