کرونا وائرس اگرچہ ایک مہلک ترین مرض ہے،جس کی وجہ سے پوری دنیا خطرے میں پڑگئی ہے۔بڑی بڑی طاقتیں بھی بے بس نظر آتی ہیں، یہاں تک کہ سائنس اپنے نقطہء عروج پر ہو کر بھی کرونا وائرس کے خلاف لڑنے کیلئے کسی بھی قسم کی دوا تیار کرنے میں اب تک ناکام رہی۔مذکورہ وائرس کی وجہ سے جو خوف پوری دنیا پر طاری ہوچکا ہے، شاید ایسا خوف عالمگیر جنگ سے بھی پیدا نہ ہوتا۔ہر طرف بے چینی اور غیر یقینی صورتحال عیاں ہے۔دنیا بھر کی معشیتیں بْرباد،تجارت ویران، بازار سْنسان اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ غرض کرونا وائرس نے زندگی کے ہر شعبے اور ہر طبقے کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے اوراس سے اَن گنت نقصانات ہوچکے ہیں۔
دوسرے زاویے سے اگر دیکھا جائے تو یہ وبائی بیماری سماج میں کئی مثبت تبدیلیوں کا سبب بھی بنی۔ زندگی جینے کا طریقہ بھی کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ مثبت اثرات ماحولیات پر پڑا۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے برے اثرات تو ماحول کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔فیکٹریوں، کارخانوں، موٹر گاڑیوں ،مشینوں وغیرہ سے خارج ہونے والی گیسز سے دن بہ دن آلودگی کی سطح بڑھتی جارہی ہے اور ایک ہولناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ماہرینِ ماحولیات بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے کئی خدشات ظاہر کررہے ہیںلیکن جب سے مذکورہ وبائی بیماری نمودار ہوئی ہے ،تب سے دنیا کے ہر ملک میں لاک ڈائون ہے، جس کے نتیجے میں دنیا میں تمام کارخانے ،فیکٹریاں، ٹرانسپورٹ ،مشینیں وغیرہ سب ٹھپ پڑ ی ہیں جس کے نتیجہ میں ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔بڑے بڑے صنعتی شہروں میں اس کی واضح مثال نظر آتی ہے۔پانی میںبھی آلودگی کافی حد تک دور ہوئی ہے۔مختصراً ماحولیات میں کافی حد تک سدھار آچکا ہے۔اس مسلے پر پوری دنیا پریشان تھی کہ ماحول کی االودگی سے کیسے نمٹا جاسکے۔اگر تمام ممالک مل کر یہ کوشش کرتے کہ چند گھنٹوں کیلئے پوری دنیا میں فیکٹریاں، کارخانے، مشینیں، ٹرانسپورٹ اور دیگر آلات جن سے آلودگی وجود میں آتی ہے ،کو روکے یعنی لاک ڈاون جیسی صورتحال قائم کرتے تو یہ یقیناً ناممکن ہوتا، لیکن کرونا وائرس نے کئی ہفتوں کے لیے ایسی صورتحال قائم کر رکھی ہے جو اب بھی جاری ہے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے ایک اور بات سامنے آئی کہ اِس کی وجہ سے کام کرنے کا طریقہ یکسر بدل گیا۔اب آن لائن (online) کام متعارف ہوا۔آجکل بیشتر کام آن لائن (online) سے ہی خوش اسلوبی سے انجام دیے جا رہے ہیں۔اس کی ایک مثال درس و تدریس کی ہے۔آن لائن کلاسز (online classes)کا عمل بخوبی جاری ہے۔اسی طرح دوسرے شعبہ جات میں بھی آن لائن پر ہی بیشتر کام کیے جاتیہیں۔آج کل کے سخت اور مشکل حالات نے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ کچھ چیزوں کی عدمِ دستیابی کی صورت میں ہم اپنی زندگی کیسے گزار سکتے ہیں اور الحمداللہ ہم نے ا سکی عادت بھی ڈالی ہے۔باہر سے آنے والی اشیاء پر ہم کچھ زیادہ ہی انحصار کرتے ہیں لیکن اب اس میں بھی تبدیلی آچکی ہے۔مقامی سطح پر تیار ہونے والی اشیاء استعمال میں لائی جارہی ہیں جوکہ ایک قابلِ ستائش بات ہے۔ جدید طرزِ زندگی نے ایک ہی کنبے کے افراد کو الگ الگ کردیا تھا۔سب لوگ اپنی اپنی مصروفیت میں مشغول ہوتے تھے۔وہ کھبی عید،کسی شادی بیاہ یا کسی تعزیتی مجلس میں ایک دوسرے سے ملا کرتے تھے لیکن کرونا وائرس اور اس کے سخت حالات نے ایسے تمام افرادِ خانہ کو یکجا کیا اور وہ آج ایک ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں۔گھر کے اندر گْویا آج سے بیس سال پہلی والی زندگی پھر سے لوٹ آئی ہے۔بھولے ہوئے رشتہ داروں کو اس وبا نے پھر سے قریب لایا ہے۔لوگ موبائیل فون اور دیگر ذرائع سے اْن سے رابطے میں رہتے ہیں۔
کرونا وائرس کی وجہ سے وجود میں آئے لاک ڈائون کی بدولت اور بھی کئی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جیسے لوگوں میں دین داری اُجاگر ہوئی۔زیادہ سے زیادہ لوگ دین سے دلچسپی لینے لگے۔اللہ تعالی پر کامل یقین پیدا ہوا۔گھروں میں ہی مرد و زن اور بچے پابندی کے ساتھ نمازیں ادا کر رہے ہیں ،ذکات اور خیرات ادا کرنے کے عمل میں بھی حوصلہ افزا اضافہ ہوا ہے۔ہمسائیگی کے حقوق کا خاص خیال رکھا جانے لگا۔ اسلامی نظام کی عملی تصویر کافی حد تک دیکھنے کو مل رہی ہے۔لوگوں میں آخرت پسندی کا تصّور بیدار ہوا ہے۔وہ لوگ جو کل تک غریب ہمسائیوں کے ساتھ بات کرنا گوارہ نہیں کرتے تھے، آج وہی لوگ اْن کے اخراجات پورے کرنے میں آگے آگے ہوتے ہیں۔اس وبائی بیماری نے لوگوں میں یہ تصور مستحکم کیا کہ موت کسی بھی لمحے آسکتی ہے، جو الحمداللہ ہمارا ایمان بھی ہے۔اس کی وجہ سے بھائی چارہ بھی مضبوط ہوا ہے۔اگرچہ بدقسمتی سے کسی کسی جگہ پر چند شر پسندوں نے اِ س وائرس کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی تھی لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اْن کی یہ مذموم کوشش ناکام رہی۔ سماج میں ہر شخص اس مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کی بھر پور مدد کرتا ہے۔تاجروں، ملازموں اور دیگر طبقوں نے بھر پور مالی معاونت کی ہے۔کچھ لوگوں نے تو اپنی نجی گاڑیاں ایمرجنسی (emergency) کی صورت میں عوام کیلئے وقف کی ہیں۔ایسے حالات میں خیراتی ادارے بھی کافی متحرک رہے۔انھوں نے حاجت مندوں کی مدد رسانی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔
لاک ڈاون کی وجہ سے جو لوگ ہمیشہ نوکری، تجارت یا کسی اور وجہ سے گھر سے باہر رہتے ہیں ،وہ اپنے کھیتوں، باغوں وغیرہ کی طرف متوجہ ہوئے، کئی لوگوں نے کچن گارڈن (kitchen garden) میں دلچسپی لے لی۔اس طرح اپنے ہی گھر میں سبزی اگانا شروع کی، جس کے دو فائدے برآمد ہوئے۔ایک تو بغیر ِ انفیکش (infection) تازہ سبزی حاصل ہوئی ، دوسرا بیکاری کا وقت بھی اچھے ڈھنگ سے گزر رہا ہے۔ایک اور اچھی بات سامنے آئی کہ لوگوں میں فضول خرچی کافی حد تک کم ہو گئی۔عورتیں جو اس میں آگے رہتی ہیں،اُن میں بھی واضح تبدیلی آئی۔لوگوں نے اس بار عید سادگی سے ہی منائی۔اس کے علاوہ کچھ لوگ اپنا وقت مطالعہ میں صرف کرتے ہیں ۔قران شریف اور دیگر اسلامی کتابوں کا بھی مطالعے میں مصروف رہتے ہیں۔غرض جہاں کرونا وائرس مختلف ممالک میں قہر بن کر تباہی مچا رہا ہے وہاں ایسی صورت حال میں اس نے ہمارے لئے ایسے مواقعے فراہم کیے ، جہاں ہم اچھے سوچ اوراچھی کاموں کی طرف گامزن ہو ئے ہیں جو خوشگوار تبدیلی ہے اور یقینی طور پر خالق کائنات بندے کے بارے میں بہتر فیصلہ کرتا ہے ۔جس چیز میں ہمیں اپنے لئے شر ہی شر نظر آتا ہے ،اُس میں خیر کا پہلو بھی پنہاں ہوتا ہے اور کورونا کے ظاہری شر میں جو خیر کے پہلو اجاگر ہوئے ،اُس سے ذات مطلق کی شان اور عظمت دوبارہ مسلم ہوئی اور پھر یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مقدسہ ہی واحد بہتر فیصلہ لینے والی ذات ہے۔
رابطہ: ستورہ ترال پلوامہ ،موبائل نمبر9797013883
ای میل: [email protected]