سرینگر //رواں سال پہلی مرتبہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر میں متاثرین کی تعداد 500کا ہندسہ پار کرکے 517تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس دوران مزید 5افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں ۔جموں کشمیر میں متوفین کی مجموعی تعداد2003ہوگئی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال23مارچ سے کورونا لہر کے آغاز کے بعد29جولائی کو 540 متاثرین درج کئے گئے تھے جبکہ 20نومبر 2020کو آخری بار 560افراد متاثر ہوئے تھے اور 5متاثرین کی موت واقع ہوئی تھی۔پچھلے 24گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر میں 40ہزار724 ٹیسٹ کئے گئے ۔ 517متاثرین میں 90افراد سفر کرکے جموں و کشمیر لوٹے ہیں۔ جمعہ کو مثبت قرار دئے گئے افراد میں 96جموں جبکہ421کا تعلق کشمیر صوبے سے تھا۔ کشمیر کے 421متاثرین میں 358مقامی سطح پر جبکہ 63افراد بیرون ریاستوں اور ممالک سے سفر کرنے کے بعد واپس لوٹے تھے۔ اس دوران وادی میں 4افراد وائرس سے فوت ہوگئے جن میں 3خواتین بھی شامل ہیں۔ مرنے والوں میںوائل کوکرناگ کی 80سالہ خاتون، بیاورہ بجبہاڑہ کی 50سالہ خاتون، لال بازار سرینگر کا 90سالہ معمر شخص اور سہپورہ گاندربل سے تعلق رکھنے والی 80سالہ خاتون بھی شامل ہے۔ وادی میں متوفین کی مجموعی تعداد 1265ہوگئی ہے جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد 78801تک پہنچی ہے۔ کشمیر میں سرگرم معاملات کی تعداد 2450 ہے ۔ ان میں سرینگر میں 1257، بارہمولہ میں 484، بڈگام میں 260، پلوامہ میں 83، کپوارہ میں 87،اننت ناگ میں 66، بانڈی پورہ میں47، گاندربل میں 36، کولگام میں 108 اور شوپیان میں زیر علاج افراد کی تعداد 22 ہے۔ جموں صوبے میں جمعہ کو 96افراد وائرس سے متاثر ہوئے جن میں سے 69مقامی سطح پر جبکہ 27بیرون ریاستوں اور ممالک کا سفر کرکے لوٹے ہیں جبکہ اس دوران ایک شخص فوت ہوگیا ۔ جموں صوبے میں متوفین کی تعداد 765تک پہنچ گئی ہے۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 51ہزار634ہے جن میں 765سرگرم معاملات بھی شامل ہیں۔ ان 765معاملات میں جموں ضلع میں 542، ادھمپور میں31، راجوری میں23، ڈوڈہ میں 10، کٹھوعہ میں 72، سانبہ میں 22، کشتواڑ میں17، پونچھ میں17، رام بن میں 24 اور ریاسی میں 7افراد ابھی بھی زیر علاج ہے۔ اس طرح جموں و کشمیر میں سرگرم معاملات کی تعداد 3215ہوگئی ہے جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ31ہزار938اور متوفین کی مجموعی تعداد 2000کا ہندسہ پار کرکے 2003ہوگئی ہے۔
مزید 21طلاب اور ایک استاد وائرس میں مبتلا
کشمیر یونیورسٹی بارہمولہ کیمپس سمیت مزید 6تعلیمی ادارے بند
پرویز احمد
سرینگر //کشمیر یونیورسٹی کیمپس دلنہ بارہمولہ، 3ہائرسیکنڈری اور 2ہائی سکولوں میں 21طلبہ اور ایک استاد کی رپورٹیںمثبت آنے کے بعد دلنہ کیمپس سمیت 6تعلیمی اداروں کو فی الحال بند کردیا گیا ہے۔اس طرح وادی میں15فروری سے 2 اپریل تک38اساتذہ، غیر تدریسی عملہ کے9افراد اور119طالب علم وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ۔جمعرات کودیر شام کشمیر یونیورسٹی کے دلنہ بارہمولہ کیمپس میں 6طلبہ کی رپورٹیں مثبت آنے کے بعد کیمپس کو 2دنوں کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ یونیورسٹی رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر نے کہا’’ کیمپس کو جمعہ اور سنیچر کیلئے بطور احتیاط بند کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’ کچھ طالب علموں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں‘‘۔بڈگام ضلع میں جمعہ کو بھی 6طلبہ کی رپورٹیں مثبت آئیں۔بلاک میڈیکل آفیسر بڈگام ڈاکٹر منظور حکیم نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران 60اساتذہ کے تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے لیکن ان میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی‘‘۔بلاک میڈیکل آفیسر نے بتایا ’’ ضلع کے مختلف سکولوں میں 662طلبہ کے تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 6کی رپورٹیں مثبت آئیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ان طلبہ کا تعلق ہائرسیکنڈری سکول سرش بڈگام سے ہے اور سکول کو فی الحال 5دنوں کیلئے بند کردیا گیا ہے‘‘۔جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ میں گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول چرسو اونتی پورہ میں 6طلبہ اور ایک استاد کی رپورٹ مثبت آئی۔ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل محمد اشرف آغا نے بتایا’’ سکول کل 164بچوں اور باقی عملے کے رپیڈ ٹسٹ کئے گئے جن میں 6بچوں اور ایک استاد کی رپورٹ مثبت آئی ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی آر ٹی پی سی آر کی رپورٹ آنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کو 5دنوں کے بعد بند کردیا گیا ہے۔ بانڈی پورہ میں جمعہ کو ہائر سیکنڈری سکول گوڈیہ کھڈ، ہائی سکول بانڈی پورہ اور ایک نجی سکول میں ایک ایک طلبہ کی رپورٹ مثبت آنے کے بعد فی الحال 5دنوں کیلئے بند کردیئے گئے ہیں۔
جموں، سرینگر ، بڈگام اور بارہمولہ کے اضلاع
فاسٹ ٹریک ویکسی نیشن پر توجہ مرکوز کی جائیگی
کابینہ سیکریٹری کی ہدایت
نیوز ڈیسک
جموں//ملک بھر میںکووِڈ۔19 کے معاملات میں حالیہ اِضافے کے پس منظر میں کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا نے چیف سیکریٹریوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں تمام ریاستوں اور یوٹیوں کو کووِڈمعاملات کی تعداد میں تیزی سے اِضافے کے چیلنجوں کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ٹیسٹ، جانچ ، مناسب حکمت عملی اور ویکسی نیشن کے لئے سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی۔کابینہ سیکرٹری نے صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ملک میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کووِڈمعاملات میں تیزی سے اِضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ رواں سال کے شروع فروری میں رِپورٹ آنے والے نئے معاملات کی تعداد میں لگ بھگ دس گنا اِضافہ ہوا ہے ۔ کابینہ سیکریٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ اَب وقت آگیا ہے کہ چیلنج سے نمٹنے کے لئے ریاستوں اور یوٹیوںکی حکومتوں کا ایک جامع نقطہ نظر اَپنایا جائے۔ 2020 کو ختم ہونے والی تعداد میں معمولی بہتری کے نتیجے میں کمیونٹی میں خوش فہمی کے معاملات میں اچانک اضافے کو قرار دیتے ہوئے کابینہ سیکریٹری نے کہا کہ بعض ریاستیں پہلے ہی اپنی رِپورٹ شدہ چوٹیوں کو معاملات کی تعداد میں عبور کر چکی ہیں۔کابینہ سیکرٹری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اکیلے ٹیکے لگوانے سے ہی اس مسئلے کا کوئی علاج نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ان کو جانچنا ، ٹریس کرنا ، روکتھام اورکووِڈ مناسب طرز ِعمل کو عملانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ایک واضح پیغام کو اعلیٰ سطح سے پوری ریاستی مشینری تک لے جانے کی ضرورت ہے ۔کابینہ سیکرٹری نے ریاستوں اور یوٹیوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر وائرس کے انفیکشن کے روکتھام کے لئے ٹارگٹ عمر کے زیادہ سے زیادہ آبادی کا احاطہ کرنے کے لئے تیز رفتار ویکسی نیشن مہمات کے علاوہ کثیر الجہتی ردِّعمل کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے ریاستوں اور یوٹیوںکو مشورہ دیا کہ وہ کووِڈ کے مناسب طرز ِعمل کو پُرجوش طریقے سے فروغ دیںبالخصوص ایسے اَضلاع میں جو ٹارگٹ کوٹا کی کمی کا شکار ہیں ان میں جانچ کی شرح کو بہتر بنائیں، آر ٹی پی سی آر ٹیسٹوں میں اضافہ کریںاور سخت حکمت عملی اپنائیں۔سیکرٹری صحت نے دورانِ میٹنگ ایک مختصر پرزنٹیشن پیش کر کے جانکاری دی کہ گزشتہ سال جون کے بعد سے ملک بھر میں روزانہ کی اوسطا ً معاملات، اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ بتایا گیا تھا کہ مہاراشٹر ، گجرات ، دہلی ، پنجاب ، چھتیس گڈھ سمیت 11 ریاستوں میںملک میںکووِڈ۔19 کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ واقعات اور اموات پیش آئے ہیں۔اس کے علاوہ جانچ ، رابطے کا پتہ لگانے اور کنٹین منٹ پرزنٹیشن نے عوامی نجی صحت کے وسائل کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جس میں الگ تھلگ بستر ، آکسیجن بستر ، آکسیجن کی فراہمی اور ایمبولینس خدمات کی مضبوطی شامل ہے۔ اس نے قانونی اور انتظامی دفعات کے ذریعے کووڈ مناسب رویّہ کو یقینی بنانے کے لئے بھی کہا۔ریاستوں اور یوٹیوں کو ضلعی ایکشن پلان تیار کرنے اور ہسپتال سے متعلق معاملات کی اموات کی شرح کا جائزہ لینے اور پھر اِس مسئلے کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔دورانِ میٹنگ آئی اینڈ بی سیکرٹری نے کووِڈ۔19 احتیاطی تدابیر ، اعتماد کا غلط احساس ، ویکسین میں ہچکچاہٹ اور مواصلاتی تھکاوٹ کے عمل میں نرمی کو دور کرنے کے لئے ایک مواصلاتی حکمت عملی بھی پیش کی۔مختلف ریاستوں بشمول مہاراشٹر ، پنجاب ، کرناٹک ، چھتیس گڈھ وغیرہ نے بھی دورانِ میٹنگ اپنی اپنی ریاستوں کی صورتحال کے جائزہ کے بارے میں ایک مختصر تفصیل دی۔چیف سیکریٹری جموں و کشمیر نے کہا کہ حکومت جموں وکشمیر چار اضلاع جموں ،سری نگر ، بڈگام اور بارہمولہ میں اہل عمر کے تمام افراد کو شامل کرنے کے لئے ایک تیز رفتار ویکسی نیشن مہم چلائے گی جس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں کووِڈ معاملات دکھائے جارہے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت مستحکم کوششوں کے ذریعے اپنی مقامی آباد میں مستقل طور پرکووِڈ پر نگرانی کر رہی ہے جس میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
ملک میںخوفناک اضافہ
۔81ہزار سے زائد معاملات،469اموات
نیوز ڈیسک
سرینگر //ملک بھرمیں کورونا وائرس کے اثرات اوراسے ہونے والی اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ24 گھنٹوں یعنی جمعرات کی شام سے جمعہ کی صبح تک ہندوستان کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس کے 81 ہزار سے زیادہ معاملے رپورٹ ہوئے ہیں جورواں سال یعنی2021 میں ایک دن کے دوران سامنے آنے والے سب سے زیادہ مثبت معاملے ہیں۔ادھر گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 469 افراد کی موت واقع ہوئی ہے جو رواں برس یعنی2021 میں ایک دن میں مہلک وائرس سے ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔ جمعہ کی صبح صحت کی مرکزی وزارت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا انفیکشن کے81ہزار466 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد ،ملک بھرمیںعالمگیر وبائی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 23 لاکھ3 ہزار 131 ہوگئی ہے۔ اس دوران 50ہزار 356 مریض صحت مند ہوئے ہیں جنہیں ملاکر اب تک ملک میں ایک کروڑ15لاکھ25 ہزار 30متاثرہ افراد کورونا سے نجات پا چکے ہیں۔تاہم اسوقت ملک میں 6لاکھ 14ہزار696افراد کورونامیں مبتلاء ہونے کے باعث زیرعلاج ہیں ۔ ، اس دوران جمعہ کی صبح صحت کی مرکزی وزارت نے مزیدجانکاری فراہم کی کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 469 افراد کی موت ہوئی ہے جو رواں برس یعنی2021 میں ایک دن میں مہلک وائرس سے ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔